ینگ ڈکٹرز کی تحریک نے شدت اختیار کر لی، اہم شاہراہوں پر احتجاج

ینگ ڈکٹرز کی تحریک نے شدت اختیار کر لی، اہم شاہراہوں پر احتجاج

لاہور( خبر نگار )صوبائی دارلحکومت سمیت پنجاب بھر میں ینگ ڈاکٹرزکی احتجاجی تحریک نے زور پکڑلیااس سلسلہ میں لاہور سمیت پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھاہے لاہور میںینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی کال پر لاہور کی اہم شاہراہوں پر سروس سٹرکچر کی بہتری،صحت کے بجٹ میں 15فیصدکٹوتی پر حکومت پنجاب کیخلاف روڑ بلاک کرکے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے محکمہ صحت کا علامتی جنازہ بھی نکالا ،مظاہرین نے مطالبات کی عدم منظوری پر پنجا ب اسمبلی کے گھراؤ کی دھمکی دے دی۔ ڈاکٹروں کے احتجاج کے باعث پیرا میڈیکل سٹاف اور سینئرز ڈاکٹرز غائب ہونے سے مریض آؤٹ ڈورز اور وارڈوں میں ذلیل و خوار ہوتے رہے ۔ ینگ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن پنجاب کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق میو ہسپتال اور سر گنگا رام ہسپتال کے ڈاکٹرز مال روڑپر آگئے اسی طرح پی آئی سی اور سروسز ہسپتال کے ڈاکٹرز جیل روڑ، جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز کینال روڑ اور لاہور جنرل ہسپتال ، چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے فیروز پور روڑ بلاک کرکے احتجاج کیا اور محکمہ صحت کا علامتی جنازہ نکالتے ہوئے اورنج لائن ٹرین کے زیر تعمیر راستے پر دفن کیا ۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہما را حکومت سے مطالبہ ہے ینگ ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے،صحت کے بجٹ میں 15فیصد کٹوتی نہ کی جائے، نئے ڈاکٹرز کو براہ راست 18ویں سکیل میں بھرتی کیا جائے ،سرجیکل ٹاور تعمیر کیا جائے،نئی ایم آر آئی مشینیں لائی جائیں اور آئی سی یوز کو بہتر و معیا ری کیا جائے۔ سروس سٹرکچر کے تمام نقاط پر عملدرآمد کیا جائے اور ڈاکٹروں کو گریڈ 18میں ترقی دی جائے۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھاکہ کرپٹ اور لٹیرے حکمرانوں کو اپنی تجوریاں بھرنے سے فراغت نہیں وہ ڈاکٹروں کے مسائل کی طرف کب دھیان کریں گے،حکمران غریب لوگوں سے پرسکون زندگی گزارنے کا حق بھی چھین رہے ہیں ۔ ڈاکٹرز کے احتجاج کے باعث آؤٹ ڈورز مکمل طور پر بند رہے اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث پیرا میڈیکل سٹاف سمیت سینئرز ڈاکٹرز بھی غیر حاضر رہے اور بیشتر ڈاکٹرز جلد گھروں کو لوٹ گئے۔

ینگ ڈاکٹرز

مزید : صفحہ آخر