فیروز والا کے 9موضع جات کے اراضی ریکارڈ کی 2سال سے اپ گریڈیشن نہ ہو سکی

فیروز والا کے 9موضع جات کے اراضی ریکارڈ کی 2سال سے اپ گریڈیشن نہ ہو سکی

لاہور(اپنے نمائندے سے)لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم میں تعینات لوڈآنچار ج کی مبینہ غفلت یا رشوت وصولی کا نتیجہ،تحصیل فیروز والا کے اراضی ریکارڈ سنٹر میں دو سال سے ریکارڈ کی درستگی کے لئے بھجوائے جانے والے 9موضع جات کے ریکارڈ کی اپ گریڈیشن کے لئے تاحال کوئی کام شروع نہ کیا جا سکا ،تیز ترین سروس اور پنجاب میں سب سے بہتر کارکردگی کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ،موضع جات تو بروقت آن لائن نہ کروانے اور جان بوجھ کر تاخیر میں ڈالنے کے لئے لاکھوں روپے رشوت وصولی کی اطلاعات نے سروس سنٹر انچارج سمیت ذمہ دارسٹا ف کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ۔روزنامہ پاکستان کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق بورڈ آف ریونیو کے شعبہ پی ایم یو کے زیر نگرانی تحصیل فیروز والا میں چلنے والے اراضی ریکارڈ سنٹر میں رشوت وصولی ۔کرپشن ۔بدنیتی اور تاخیری حربوں سے استعمال کی جانے والی غیر قانونی پریکٹس نے جہاں پنجاب حکومت کے اس صاف شفاف پراجیکٹ کو داغ دار کر دیا ہے وہاں لابی سسٹم کی پروان اور کرپشن کو فروغ دینے کی پالیسی بھی عیاں ہو چکی ہے مزید انکشاف ہوا ہے کہ تحصیل فیروز والا کے 9پٹوار سرکل جن میں خاکی،چک نمبر 40یوسی ڈھاکہ،ٹھٹھہ فدا یار، کوٹ پنڈی داس،بھلے ڈسنوال ،میسن کالر، ونڈالہ دیال شاہ سرفہرست ہیں ایسے موضع جات جن کی ڈیٹا انٹری اور سکیننگ ہونے کے بعد ریکارڈ کی درستگی کے لئے سروس سنٹر پر بھیج دیا گیا جہاں پر عرصہ دو سال ہو چکے ہیں مگر ان پر ایک فیصدبھی کام شروع نہیں کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق ٹھٹھہ فدایار ،کالر،ڈھاکہ،خاکی اور ونڈالہ دیال شاہ موضع جات کے پٹواری اپنے موضع جات کو آن لائن کروانے میں تاخیر برتنے پر مذکورہ سروس سنٹر انچارج محمد اجمل سمیت دیگر ذمہ دار سٹاف کو بھاری رشوت دے رہے ہیں اور یہ سلسلہ سروس سنٹر فیروزوالہ سے نکل کرلوڈ انچارج ہیڈ کوارٹر پی ایم یو کے دفتر تک باآسانی پہنچایا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ پی ایم یو ہیڈ کوارٹر میں کام کرنے والے لوڈ انچارج محمد شفیق بھی ان موضع جات کو آن لائن کروانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں ،مذکورہ کنٹریکٹ آفیسر گزشتہ کئی ماہ سے بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر ،چیف سیکریٹری سمیت دیگر انتظامی افسران کو بوگس پراگریس رپورٹیں مرتب کرکے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک رہیں ہیں اور کاغذی کارروائیوں میں سب اچھا کی رپورٹ دینے میں مصروف ہیں۔ذرائع کے مطابق تحصیل فیروز والہ کے اراضی ریکارڈ سنٹر میں اتنے سالوں سے برتنے والی تاخیر پی ایم یو ہیڈ کوارٹر میں تعینات کنٹریکٹ انچارج کی سپورٹ کے بغیر ممکن نہ ہے ۔حیران کن امر یہ ہے کہ اتنی سنگین غلطی سے پی ڈی پنجاب جہانذیب احمد خان سے لے کر ڈپٹی پی ڈی پنجاب مقبول احمد دھاولہ ۔ڈائریکٹر آپریشنل راؤ ندیم تک کو غافل رکھا گیا ۔پی ایم یو کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ڈپٹی پی ڈی کی تمام ہدایات بھی نظر انداز کر دی گئیں ہیں جو کہ پنجاب کے تمام افسران سے میٹنگ کے دوران کی گئیں تھیں ۔دوسری جانب پراجیکٹ مینجمنٹ کے لوڈ انچارج محمد شفیق کا کہنا ہے کہ ٹائمنگ کے حوالے سے ایشوز آرہے ہیں مگر تاخیر نہ ہے ان کو جلد ہی آن لائن کر دیں گے تو دوسری جانب سروس سنٹر انچارج محمد اجمل اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ محمد آصف خان کا کہنا تھا کہ ان موضع جات کو جلد ہی آن لائن کروا دیں گے ۔سٹاف کی کمی کے ساتھ ساتھ ریونیو سٹاف کے عدم تعاون کی وجہ سے یہ سلسلہ زیادہ گھمبیر ہوا ہے ریونیو سٹاف تعاون کرے تو ایک سے دو ماہ میں تمام موضع جات آن لائن کروا سکتے ہیں اس ضمن میں تما م تر تاخیر کی ذمہ دار ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن فیروز والہ ہے۔ہم بار بار تحریری طور پر آگاہی دیتے رہے ہیں مگر بااثر ریونیو سٹاف ہماری کسی بات کو خاطر میں نہ لاتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر