ملک کی ترقی کیلئے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ،ڈاکٹرشاہد صدیقی

ملک کی ترقی کیلئے کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ،ڈاکٹرشاہد صدیقی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)معروف ماہرمعاشیات اور چیئر مین ریسرچ انسٹیٹوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ فارنزک آڈٹ کروانے کے باوجود پانامہ لیکس کی تحقیقات سے کوئی مثبت یا معنی خیز نتائج برآمد نہیں ہوں گے،نیشنل ایکشن پلان میں انسداد کرپشن اور معاشی دہشت گردی کے خاتمے کا روڈ میپ وضع کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل 2015 ء کی رپورٹ کے مطابق کرپشن سے شفاف ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 168 ممالک میں 117 واں نمبر ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔سالانہ قومی خزانے کو کرپشن کی وجہ سے 08 ہزار ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ ہمارا بیرونی قرضہ تقریباً 20 ہزا ارب روپے ہے۔ملک کی ترقی کے لئے کرپشن کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے ،نیب کا ادارہ مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور حکومت نیب کو فعال بنانے میں اس لئے دلچسپی نہیں لیتی کیونکہ اس سے اس کے مفادات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے کلیہ سماجی علوم کے زیر اہتمام کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقد لیکچر بعنوان: ’’پاکستان میں کرپشن سے نمٹنے کے لئے اقدامات‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی قرضوں اور ان پر عائد سود کی وجہ سے کم سے کم اس صدی میں پاکستان سودسے پاک معاشی نظام اختیار نہیں کرسکتا۔تقریباً150 ارب ڈالر پاکستانی لوٹی ہوئی آمدنی سوئس بینکوں میں موجود ہے جن کی واپسی صرف حکومت کی نیت پر منحصر ہے ۔2014 ء کا این ایف سی ایوارڈ محض ایک فراڈ تھا جس سے صوبوں کو قابل ذکر معاشی فوائد نہ مل سکے ۔تمام صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں نے مشترکہ مفاداتی کونسل کے اجلاس میں پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کی منظوری پر آمدگی ظاہر کردی تھی مگر اب محض سیاسی پوائنٹس اسکورنگ کی غرض سے اس کی مخالفت میں بیانات دیئے جارہے ہیں ،تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں جو ایک قومی المیہ ہے اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ جی ڈی پی کا 07% فیصد تعلیمی شعبہ کے لئے مختص کرے۔آئین کے آرٹیکل 62 اور63 پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔اس موقع پر رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ پاکستان کے قیام سے اب تک کرپشن ہر شعبہ ہائے زندگی میں اس قدرسرائیت کرچکی ہے کہ ہم بے حس ہوچکے ہیں ،کرپشن کے ساتھ ساتھ اقرباپروری ہمارے معیار زندگی کو بری طرح متاثر کررہے ہیں۔پاکستان میں صرف 10 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں جو ایک المیہ ہے،سیاسی لیڈر شپ کے قول وفعل میں تضادات موجود ہیں ۔عمران خان کرپشن کے خلاف ایک واضح موقف کے ساتھ متبادل قیادت کے آپشن کے طور پر ابھر کر سامنے آئے مگر اب وہ بھی متنازعہ ہوچکے ہیں ۔پاکستان کی چالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کررہی ہے ،حکومت کو چاہیئے کہ وہ گداگری کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کریں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مائیکروفائنانس پروجیکٹ میں تبدیل کردیں جس سے غریب افراد کو مددملے گی۔

مزید : کراچی صفحہ آخر