سپریم کورٹ بار کاپانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے 20نکات پر مشتمل ’’ٹرمزآف ریفرنس‘‘ کا اعلان

سپریم کورٹ بار کاپانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے 20نکات پر مشتمل ’’ٹرمزآف ...

 لاہور(نامہ نگارخصوصی )سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے ٹرمز آف ریفرنس کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت حاضر سروس یا ریٹائرڈ ججوں کی سربراہی میں انکوائری کمیشن یا پارلیمانی کمیشن کی ممکنہ تشکیل اورایف بی آر کے ذریعے تحقیقاتی عمل کو مسترد کردیا گیا ہے اورمطالبہ کیا گیا ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کے کنونشنزکے تحت نیشنل ٹاسک فورس قائم کی جائے جو انٹرنیشنل جوائنٹ ٹاسک کمیٹی تشکیل دینے کی مجاز ہو ۔ٹرمز آف ریفرنس کا اعلان سپریم کورٹ بار کے صدر سید علی ظفر نے ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر سفارشات پر عمل نہ کیا گیا تو ملک بھر کی بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز سے مل کر تحریک چلائیں گے۔ جوڈیشل انکوائری کمیشن مسلئے کا حل نہیں، قانونی طور پر کمیشن کے اختیارات پاکستان تک محدود ہیں جبکہ پانامہ پیپرز کی قانونی دستاویزات بیرون ملک موجود ہیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے انسداد کرپشن کنونشن 2005ء کے تحت چیف جسٹس پاکستان ،دو ریٹائر ڈ ججز اور لیگل ایکسپرٹ پر مشتمل ایسی جوائنٹ انکوائری ٹیم تشکیل دیں جو بیرونی ممالک سے پاناما لیکس کے معاملے میں متعلقہ دستاویزات حاصل کر سکے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کے پیش کردہ ٹرمز آف ریفرنس میں حکومت کی طرف سے اضافہ تو کیا جا سکتا ہے مگر اس میں کمی کو قبول نہیں کیا جائے گا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پاناما لیکس میں 200کے قریب افراد کے نام سامنے ہیں اس لئے سب کا احتساب ایک ساتھ ممکن نہیں اس لئے اوپر سے کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بار نے حکو مت و اپوزیشن کی قانونی رہنمائی کے لئے بیس نکات پرمشتمل’’ ٹرمزآف ریفرنس‘‘ کا مسودہ بھجوا رہے ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف کی طرف سے بلا امتیاز کرپشن کے خاتمہ کے بیان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اندر بلا امتیاز و تفریق احتساب ہونا چایئے اور اس کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا آغاز وزیر اعظم سے کیا جانا چاہئے۔انہوں نے ٹرمز آف ریفرنس کے مختلف نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کافی غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچی کے یہ معاملہ ایک بہت حساس مسئلہ ہے جس میں وزیراعظم پاکستان کے خلاف کرپشن کے الزامات ہیں اور عوام چاہتے ہیں کہ اصل حقائق پر سے پردہ اٹھے جو کہ انکا حق بھی ہے۔دریں اثناء بہت سی تجاویزات اور سفارشات سامنے بھی آئیں جن میں ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں انکوائری کمشن تشکیل دینے ،چیف جسٹس کی سربراہی میں کمشن بنانے اورپارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کی تجاویز شامل تھیں اور یہ بھی سننے میں آیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو بھی اس معاملے کی تفتیش کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام تر سفارشات بے معنی اور معنی خیز نتائج کے حصول کے لئے بالکل بھی مفید نہیں ،اس لئے ان سفارشات کوسپریم کورٹ بار ان وجوہات کی بنا پر مسترد کرتی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں تحقیق کرنے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہوتا ہے۔ چونکہ اصل ملزمان، جو کہ کمپنی کے اثاثوں کے اصل وارث اور مالک ہوتے ہیں کا پتہ چلانا ناممکن سا لگتا ہے کیونکہ آف شور کمپنیوں کی کاغذی کارروائی خفیہ رکھی جاتی ہے جس کی وجہ سے ملکیت کو چھپالیا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو ایک ہی ٹرانزیکشن کو با رہا کیا جاتا ہے اور جو کہ مختلف ممالک میں کی جاتی ہیں تاکہ ثبوتوں کو مٹایا جا سکے۔انہو ں نے کہا کہ تحقیقات کے لئے جو ڈیشل کمشن قائم ہو یا پارلیمانی کمشن بنایا جائے وہ کار آمد نظر نہیں آتے کیوں کہ وہ پاکستان کی حدود کے باہر دوسرے ممالک سے معلومات اور ہدایات حاصل کرنے کے مجاز نہیں ۔انہوں نے کہا کہ صرف ایک ہی لائحہ عمل اس تحقیقاتی کام کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نظر آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کنونشن جس کے تحت اقوام متحدہ میں اینٹی کرپشن کا ادارہ 14دسمبر2005ء کو وجود میں آیا ۔اس کنونشن کو 130 ملکوں نے اپنایا جن میں پاکستان ، پانامہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں،اقوام متحدہ کا یہ ادارہ بنا ہی اس مقصد کے لئے ہے کہ کرپشن کے پیسے سے جائیداد اور ملکیت جو دوسرے ملک میں حاصل کی گئی ہواس کی تحقیقات کروائی جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو متحرک کیا جاسکتا ہے جو کہ بیرون ملک ثبوتوں کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ اس ادارے سے کوئی بھی ملک ایک درخواست کے ذریعے رجوع کرسکتا ہے۔ اور تحقیقات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بین الاقوامی ٹاسک فورس تشکیل دی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آپشن پر عمل درآمد کے لئے ایک قانون پاس کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت چیف جسٹس پاکستان قومی ٹاسک فورس نامزد کر سکتے ہیں۔ جس کے ممبران میں سپریم کورٹ کے دو ریٹائرڈ جج اورایک قانونی ماہر شامل ہوں۔یہ قومی ٹاسک فورس مالیتی تحقیق کے ماہرین، اکاؤنٹنٹس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان اور قانونی ماہر ین کی خدمات حاصل کرنے کی مجاز ہو۔ پاناما لیکس کے حوالہ سے قومی ٹاسک فورس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ یہ پتہ چلائے کے پاناما لیکس میں موجود الزامات میں سچائی ہے یا نہیں اور جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں وہ ملزم ہیں بھی یا نہیں ،انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی عمل کو وزیراعظم پر لگے الزامات سے شروع کرنا چاہے علاوہ ازیں جو اور لوگ ملوث ہیں بعد میں اس تحقیقاتی عمل کا دائرہ ان تک وسیع کر دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ ٹاسک فورس کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ بین الاقوامی متحدہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے سکے جس کے ذریعے سے بیرون ملک موجود ثبوتوں کو اکٹھا اور حاصل کیا جا سکے اور حکومت پاکستان اس فعل کی پابند ہوگی کے دوسرے ملک یا اس ملک کی متعلقہ ایجنسی کو باہمی تعاون کی درخواست بھیجے۔حکومت پاکستان، صوبائی حکومتیں اور پاکستان میں موجود تمام ادارے جیسے کہ نیب ،ایف آئی اے ،آئی بی ،سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹی ایکسچینج کمشن آف پاکستان اس قومی ٹاسک فورس سے تعاون کرنے کے پابند ہوں گے ۔حکومت پاکستان قومی ٹاسک تحقیقاتی عمل کو سرانجام دینے کے لیے فنڈز کی فراہمی کی ذمہ دار ہو گی۔ٹاسک فورس دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی اس مدت میں 6ماہ تک توسیع کی جاسکتی ہے ۔قومی ٹاسک فورس اپنا نتیجہ اور فیصلہ شائع کروانے کی خود ذمہ دار ہوگی اور اس میں حکومت مداخلت نہیں کرے گی تاکہ تحقیقات سے عوام کو آگاہ کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ قومی ٹاسک فورس کی کارروائی کا عمل شفاف اور ثالثی کی بنیاد پر ہوگا جبکہ ایف بی آر ،نیب اور سٹیٹ بینک ٹاسک فورس کی ہدایت پرعمل درآمد کے پابند ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ قومی ٹاسک فورس کو دیوانی عدالت کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے ۔ قومی ٹاسک فورس کومتعلقہ شخص کے اثاثوں کے ریکارڈ، ملکیتی ریکارڈ، کاروباری ریکارڈ اور یوٹیلٹی بلز کے ریکارڈ کی جانچ پرتال کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔یاد رہے روزنامہ پاکستان سپریم کورٹ بار کے ٹرمز آف ریفرنس کی تفصیلی خبر 19اپریل کو شائع کرچکا ہے جس کا اعلان گزشتہ روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول