جدید زرعی ٹیکنالوجی کے بغیر زراعت کا فروغ اور پیداوار میں اضافہ ممکن نہیں :اکرام اللہ گنڈہ پور

جدید زرعی ٹیکنالوجی کے بغیر زراعت کا فروغ اور پیداوار میں اضافہ ممکن نہیں ...

پشاور( پاکستان نیوز)ہمارے ملک کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے اور دیہی آبادی کے تقریباً 80 فیصد لوگ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ہمارے صنعت بھی خام مال کی پیداوار کے سلسلے میں زراعت سے منسلک ہے اور موجودہ صوبائی حکومت زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور زرعی پیداوار )جوکہ فی الوقت ترقی یافتہ ممالک سے بہت کم ہے( بڑھانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کارلارہی ہے ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت سردار اکرام اﷲ خان گنڈہ پور نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ پشاور میں زیر تربیت سول افسران کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے شرکاء کورس پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض منصبی محنت اور دیانت دار ی سے ملک و قوم اور پاکستان کے غریب عوام کی بہتری کیلئے ادا کریں۔ صوبائی وزیر زراعت نے مزید بتایا کہ تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت نے اپنے محدود وسائل کے باوجود کافی سارے زرعی ترقیاتی پراجیکٹس شروع کررکھے ہیں۔ جن میں انصاف فوڈ سیکورٹی جیسے پروگرامات وغیرہ شامل ہیں۔ اب تک اس سکیم کے زیر اہتمام چھوٹے کاشتکاروں کو تقریباً چار لاکھ بوری گندم کے تصدیق شدہ بیج مفت فراہم کیے گئے ہیں اور یہ سلسلہ اگلے دو سال کیلئے بھی جاری رہے گا۔ 50 فیصد سبسیڈی کے ساتھ کاشتکاروں کے ٹیوب ویلوں پر سولر پمپ لگائے جارہے ہیں۔ مختلف پھلوں کے باغات ، بے موسمی سبزیات کیلئے ہائی روف ٹنل ٹیکنالوجی ، کلسٹر سیڈ فارمنگ، زرعی مصنوعات میں خواتین کی تربیت اور لیزر لیولنگ جیسے منصوبے کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ کسان کے کھیت پر ٹیوب ویلز قائم کرنے اور آسان اقساط پر بلا سود قرضہ جات کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ پاکستان پشاور نے معزز مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیا جبکہ زیر تربیت سول افسروں نے صوبہ خیبر پختونخوا میں زراعت کی ترقی میں رکاوٹ اور مسائل کے حل پر تفصیلی مقالہ جات اوران کے حل کیلئے اپنی تجاویز پیش کیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر