جنات کا غلام۔۔۔ بتیسویں قسط

22 اپریل 2016 (15:10)

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

اکتیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مجھے مجاور کا یہ انداز پسند نہ آیا۔ میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ غازی خاموشی سے ملنگ کے ساتھ لنگرخانے کی طرف چل دیا۔ اس اثنا میں ایک عقیدت مند مزار کے اندر جانے کے لئے مجھ سے راستہ مانگنے لگا۔ میں نے اسے اندر جانے کے لئے راستہ دیا اور خود ایک طرف ہو گیا۔ اس نے مزار کے دروازے کو عقیدت و احترام سے دونوں ہاتھوں سے چھوا۔ انہیں چوما اور آنکھوں سے لگایا۔ پھر زیر لب بولا ’’یا پیر دستگیر اس گناہگار کی حاضری قبول فرما‘‘

میں بغور اسے دیکھتا رہا۔ اندر داخل ہوتے ہی وہ صاحب مزار کی قبر کے قدموں کی طرف جھکتا چلا گیا۔ قبر سنگ مرمر کے پتھروں سے بنی تھی اور زمین سے تین فٹ اونچی تھی۔ سبز رنگ کی چاندی کے تاروں سے کشیدہ آیات و عربی القابات سے سجی ایک چادر قبر کے اوپر رکھی تھی۔ اطراف میں گلاب کے پھولوں کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔ قبر کے سرہانے بابا تیلے شاہ سر گھٹنوں میں دے کر ہولے ہولے ہل رہے تھے۔ دائیں طرف بابا جی سرکار انسانی روپ میں کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں مورچھل تھا اور وہ دھیرے دھیرے قبر کے اوپر اس سے ہوا دے رہے تھے۔ مزار کے اندر سرہانے سے کوئی ایک دو فٹ پرے ایک کھڑکی کھلی تھی جس کی دوسری طرف بہت سی خواتین نظر آ رہی تھیں۔ کالی قباؤں میں ملبوس اجلے چہرے‘ غزالی اور سرمگیں آنکھوں والی خواتین مقامی ہرگز نہیں تھیں۔ لگتا تھا زمیں پر حوریں اتر آئی ہیں۔ میں نے باہر دیکھ لیا تھا یہاں آنے والے متوسط نچلے طبقہ کے لوگ تھے۔ لیکن ان خواتین کے شاداب پرسکون اور امارت کی چمک سے خیرہ کرنے والے چہرے دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ یہ پوش علاقے کی خواتین ہیں۔ ایک لمحہ میں مجھے ان پر عربی و ایرانی خواتین ہونے کا شبہ ہوا۔ قامت قیامت خیز اور حسن آتش نوا تھا۔ گلابوں کی سرخیاں شہد اور دودھ سے دھلے ان کے چہرے انہیں مقامی عورتوں سے ممتاز کرتے تھے۔ اس سمے مجھے خیال آیا کہیں یہ جنات کی بیبیاں تو نہیں ہیں۔ یہ خیال آتے ہی میں جسارت کرکے انہیں دوبارہ دیکھنے لگا۔ ان کی آنکھوں میں ایسی جاوداں برق اور کشش تھی کہ انسان کے دل کا آبگینہ اس حسن آتش نوا کی ایک جھلک سے پگھل جاتا۔ اس سمے مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ مجھے مزار پر کھڑے ہو کر ایسی تاک جھانک نہیں کرنی چاہئے لیکن میرے سامنے ایک ایسی مخلوق کھڑی تھی جسے دیکھے بغیر رہا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ من چاہتا تھا بس انہیں دیکھتا رہوں۔ ان کی عمروں کا یقین نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہر ایک اس قدر جاذبیت اور نسوانیت سے گوندھی ہوئی تھی کہ یہ طے کرنا مشکل ہو رہا تھا کون دوشیزگی کے پہروں میں ہے اور کون عمر کی سیڑھیاں چڑھ چکی ہے، کس کی جوانی کا سورج ڈھل چکا ہے گویاہر ایک جوانی کے ماہتاب کی بھرپور کرن تھی۔

شاید میں یونہی بے حس و حرکت کھڑا رہتا لیکن اس عقیدت مند کی ایک حرکت سے میں چونک پڑا۔ وہ اونچی اونچی آواز میں آیات قرآنی کی تلاوت کرنے کے بعدہاتھ اٹھا کر مناجات کرنے لگا۔ چند ثانئے بعد ہی وہ قبر کے قدموں میں اپنا سر رکھ کر رونے لگا۔ زاروقطار اس کی ہچکیاں سن کر بابا جی سرکار نے اس کی طرف دیکھا اور پھر ان کی نظریں مجھ پر مرکوز ہو گئیں۔ ان کے لبوں پر خفیف سی مسکان نمودار ہوئی۔ انہوں نے مورچھل اس عقیدت مند کے سر پر مارا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس کا رونا دھونا عجز و انکساری یکدم کافور ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نظر نہیں آ رہا تھا لیکن اس کی آہ و فغاں سے لگتا تھا جیسے اس کے دل پر کرب و اذیت کے آرے چل رہے ہیں اور آنکھوں سے ساون بھادوں جاری ہو گی۔ عقیدت مند فوراً بابا جی سرکار کی طرف بڑھا ،جھک کر ان کے قدم چھونے لگا تھا کہ بابا جی پرے ہٹ گئے اور مورچھل اس کے کاندھے پر مار کر بھاری بھرکم آواز میں بولے

’’جاؤ بیٹا ۔۔۔ اللہ تمہاری مراد پوری کرے گا‘‘

عقیدت مند الٹے قدموں سے پیچھے ہٹا۔ قبر کو ہاتھ لگا کر ہاتھوں کو چوما اور آنکھوں سے لگایا اور اسی عقیدت و احترام سے مزار سے باہر نکل گیا۔

میں بھی اندرداخل ہو گیا اور کھسکتا ہوا اس بغلی کھڑکی کے پاس چلا گیا۔ میرے ذہن پر ان حوروں کا عکس لہرا رہا تھا۔ لیکن عقیدت و احترام کا تقاضا تھا کہ میں کوئی اوچھی حرکت نہ کروں۔ پس میں نے اپنے بے لگام دل کو قابو کیا اس کی سرکشی کی لگام کھینچی اور زور سے آنکھیں میچ کر صاحب مزار کے لئے دعا کرنے لگا۔

’’بیٹھ جاؤ‘‘ اس دوران بابا تیلے شاہ کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ میں نے آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنا چاہا لیکن غیرارادی طور پر نظریں کھڑکی کی طرف اٹھ گئیں۔

کھڑکی بند ہو چکی تھی دوسری طرف ایک بھی چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ میرا دل انتظار کی سوئی پر اٹک گیا۔ بابا تیلے شاہ نے میرے من کی کمزوری کو بھانپ لیا اور سرزنش کرنے کے انداز میں بولے ’’میں نے کہا ہے بیٹھ جاؤ ۔۔۔ لوگ دنیا کو چھوڑ کر یہاں آتے ہیں لیکن تیری نظریں یہاں بھی بھٹک رہی ہیں‘‘

’’سرکار ۔۔۔ میں تو‘‘ میں نے کسی عذر کا سہارا لے کر شرمندگی سے بچنے کی ناکام کوشش کی مگر پھر میں نے سوچا کہ بصیرت رکھنے والے بزرگ کے سامنے جھوٹ بولنا دوہری شرمندگی ہو گی۔ ان سے چھپانا بے سود ہے۔ وہ تو دل کی ہر دھڑکن کے اندر دھڑکتے احساس کو پا لیتے ہیں‘‘ سرکار ۔۔۔ میں دراصل‘‘

’’میں جانتا ہوں تو کیا کہنا چاہتا ہے‘‘ بابا تیلے شاہ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول پڑے۔ ’’جو تو نے دیکھا ہے کسی اور نے نہیں دیکھا‘‘

’’کک ۔۔۔ کیا مطلب‘‘ میں نے چونک کر ۔۔۔ مگر احتیاط سے پوچھا

’’یہ جلوہ صرف تمہاری نظروں کو دکھایا گیا ہے ورنہ وہ بیبیاں تو اسرار کے پردوں میں ملفوف ہو کر آتی ہیں۔ کوئی دوسری عورت ان جن زادیوں کو نہیں دیکھ سکتی۔ یہ دربار کی خادمائیں ہیں۔ صاحب مزار کا فیض ہے کہ انسانوں سے بڑھ کر مسلمان جنات ان کی خدمت بجا لاتے تھے اور آج بھی وہ یہاں آتے ہیں‘‘

درباروں مزاروں پر جنات کی حاضریوں کے حوالے سے ہمارے ہاں بہت سی حکایات مشہور ہیں۔ شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو جس نے اللہ کے کسی ولی سے متعلق ایسی انہونی حکایات نہ سنی ہوں کہ ان کے پاس جنات بھی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ جنات کے وجود کی حقیقت کو تسلیم کرنے اور جھٹلانے والے دو گروپوں میں تقسیم ہیں جو جنات پر یقین رکھتے ہیں ان کے ہاں اولیا سے وابستہ جنات کی کہانیاں بہت معروف ہیں۔ ہمارے ہاں اہل سنت کا ایک بڑا مکتبہ فکر دیوبندی کہلاتا ہے۔ اس کے اسلاف سے متعلق بھی ایسی کہانیاں میں نے سن رکھی تھی۔ میں نے جن قاری صاحب سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی تھی وہ بھی دیوبندی تھے۔ وہ اکثر بتایا کرتے تھے کہ دیوبند کے مدرسہ میں جنات بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ مولانا قاسم ناناتوی جنہوں نے چھتہ مسجد دیوبند کی بنیاد رکھی، اسلامی علوم یکتا تھے۔ جنات بھی ان سے فقہی مسائل دریافت کرنے آتے تھے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ جنات انہیں اٹھا کر ایک ایسی مجلس میں لے گئے جہاں بہت سے جنات پہلے سے موجود تھے۔ انہیں ایک فقہی مسئلہ درپیش تھا۔ جنات نے مولانا قاسم ناناتوی سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے بیان کر دیا۔ جنات کی مجلس میں ایک سن رسیدہ جن بھی تھے۔ ان کے بارے کہا جاتا تھا کہ وہ صحابی رسولؐ ہیں۔ مولانا قاسم ناناتوی نے جب مسئلہ بیان کیا تو اس صحابی رسولؐ نے ان کے شرعی مسئلہ کی تصدیق کر دی کہ ہاں یہ مسئلہ جو بیان کیا گیا ہے درست ہے۔

میں جب سے بابا جی سرکار اور ریاض شاہ کے ساتھ وابستہ ہوا تھا مجھے ایسے واقعات سنائے جا رہے تھے کہ جنات اللہ کے بزرگوں کی بے حد تکریم کرتے اور ان سے شرعی فقہی مسائل بھی دریافت کرتے ہیں۔ اگرچہ جنات علم و فضل میں یکتا ہوتے ہیں لیکن ایک عالم دین جنات کے علما پر فوقیت رکھتا ہے۔ میرے مشاہدے اور تجربے میں بھی یہ بات آ رہی تھی کہ جنات اولیاء اللہ کے مزارات پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ بیری والے پیر کے مزار پر بابا جی سرکار ،غازی اور جنات کی بیبیوں کی موجودگی بھی ان حقائق کی تصدیق کرتی تھی۔

بابا تیلے شاہ ساری رات مزار پر عبادت و ریاضت میں مصروف رہنا چاہتے تھے۔ دل تو چاہتا تھا کہ میں بھی ان کے ساتھ ہی شب گزاری کروں لیکن اپنے امتحان کی فکر تھی مجھے۔ عشا کی نماز ادا کرنے کے بعد میں نے بابا تیلے شاہ سے گزارش کی کہ مجھے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

’’میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم واپس چلے جاؤ۔ لیکن جانے سے پہلے میں تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے سلوکے میں سے ایک مڑا تڑا کاغذ نکالا اور مجھ سے قلم مانگ کر اس پر کچھ لکھنے لگے۔ پھر میرے سینے پر انگشت شہادت سے کچھ لکھنے کے بعد کاغذ مجھے دے کر بولے۔

’’بیٹے یہ تعویذ اپنے بازو پر باندھ لیا۔ اللہ ہی تمہارا کفیل وکیل اور محافظ ہے۔ بس میں یہ چاہتا ہوں تم جنات کے کسی بہکاوے میں نہ آنا اور انہیں یہ درس دیتے رہنا کہ وہ انسانی آبادیوں میں نکل کر شرارتیں نہ کیا کریں۔ خاص طور پر اس غازی کے بچے کو سمجھا دینا۔ بنیادی طور پر وہ نیک جنات میں سے ہے لیکن ہے تو آتشی مخلوق۔ بچہ ہے۔ شرارت کرنے سے باز نہیں آتا۔ اس نے تم سے آج جو کچھ کہا ہے وہ صحیح کہتا ہے۔ لیکن اسے سمجھا دو کہ انسانوں کے اعتماد کو مجروح نہ کیا کرے‘‘

’’سرکار اب آپ سے ملاقات کہاں ہو گی‘‘ میں نے ان کے ہاتھ چوم کر سوال کیا

’’اللہ نے چاہا تو بہت جلد ملاقات ہو گی اور ۔۔۔ اچانک وہ گفتگو کرتے ہوئے رک گئے اور وعلیکم السلام۔ مرحبا یا سیدی ۔۔۔ وعلیکم السلام کہنے لگے۔ اس لمحہ مجھے سرسراتی ہوا کے گزرنے کا احساس ہوا۔ ٹھنڈی ہوا کا وہ جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا اور صندل کی خوشبو جیسی مہک نتھنوں سے ٹکرائی۔ کچھ ہی دیر بعد پورے ماحول میں صندل اور اگر کے جلنے سے خوشگوار مہک پھیل گئی۔ میں نے پھیپھڑوں تک مسحور کن مہک کو اندر کھینچ لیا۔

’’سرکار لگتا ہے جنات خوشبویات لے کر آئے ہیں‘‘

’’ہاں آج ساری رات وہ یہاں محفل جمائیں گے۔ اس لئے میں نے تمہیں جانے دیا ہے۔ صرف میں یہاں رہ سکتا ہوں چند اور بزرگ بھی آنے والے ہیں کوئی عام انسان آج کی رات یہاں نہیں ٹھہرے گا۔ ہر مہینے میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جب ہم سب لوگ اسرار کے پردوں میں ملفوف ہو جاتے ہیں یہ دنیا اس دنیا سے بڑی مختلف ہوتی ہے۔ بڑی سہانی مجالس سجتی ہیں۔ واللہ تمہیں کیا بتاؤں اس روح پرور وجد والی محافل کی خواہش میں ہی تو ہم نے اس دنیا کا ذائقہ چھوڑ دیا‘‘

یہ سن کر میری نیت بدل گئی۔ میں نے کہا ’’سرکار ۔۔۔ وہ کیا ہے ناں ۔۔۔ میں کسی طرح یہاں رہ سکتا ہوں اب میں چاہتا ہوں کہ اس رات کے روحانی مناظر دیکھ سکوں‘‘

’’بڑا مشکل ہے یہ ۔۔۔ اللہ نے چاہا تو کبھی ایسا موقع بھی آئے گا۔ میں تمہیں خود بلواؤں گا لیکن یہ موقع تمہیں اس وقت ملے گا جب تم لاہور چلے جاؤ گے‘‘

’’لاہور ۔۔۔ مگر کہاں؟‘‘

’’وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے۔ جب تم راوی سے اس پار ایک صاحب کرامت کی نگری میں چلے جاؤ گے۔ جب تو بے یارومددگار ہو کر اس آستانے کی چوکھٹ پر خالی دامن بیٹھا کرو گے ۔۔۔ وہیں سے تمہیں یہ فیض ملے گا۔ وہ وقت دور نہیں ہے۔ میرے اللہ نے چاہا تو ہو سکتا ہے میری تم سے اب ملاقات لاہور میں ہی ہو۔ یہ ملاقات کب ہو گی۔ فی الحال اس کا تعین نہیں ہو سکتا۔ ہو سکتا ہے سال‘ دو سال‘ دس سال‘ بیس سال بعد ۔۔۔ شاید اس وقت جب تمہارا تیلے شاہ تیلا تیلا ہو کر بکھر جائے گا۔ اس کی یہ سوکھی مڑی تڑی ہڈیاں خاک میں مل جائیں۔ شاید تب تم سے ملاقات ہو‘‘

’’اللہ نہ کرے بابا آپ سلامت رہیں۔ ایسی باتیں نہ کریں‘‘ ان کی بات سن کر میں روہانسا ہو گیا ’’بابا اگر یہ بات ہے آج کے بعد ہماری ملاقات طے نہیں ہے تو میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ میں آپ کے پاس ہی رہوں گا۔ میں برسوں ہجر و وصل کے عذاب نہیں سہہ سکوں گا۔ مجھے اپنے سے جدا نہ کریں‘‘

’’بیٹے تمہیں جانا ہی ہو گا۔ میں تمہیں ا س لئے یہاں نہیں رکھ سکتا کہ تم یہ سب برداشت نہیں کر پاؤ گے۔ تمہارے دماغ کی طنابیں ٹوٹ جائیں گی۔ تم نے روحانی نشہ چکھ لیا تو غرق ہو جاؤ گے۔ خرد سے بیگانہ ہو جاؤ گے۔ دنیا تمہیں پاگل سمجھے گی۔ دنیاوی شعور ختم ہو جائے گا اور تم اللہ کے سائیں بن کر رہ جاؤ گے۔ بیٹے تمہیں اپنے ہم جنسوں کے درمیان رہ کر ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ رہا سوال ملاقات کا تو ۔۔۔ میں نے تمہیں اپنے وجود کا احساس دے دیا ہے۔ یہ تعویذ تمہارے پاس رہے گا تو سمجھو میرا تعلق تم سے جڑا رہے گا۔ اس لئے اب تم واپس جاؤ‘‘ یہ کہہ کر بابا تیلے شاہ نے میرا ماتھا چوما اور نصیحت کرتے ہوئے بولے ’’میرے بچے تم دنیاداری میں پڑ جاؤ گے۔ جاہ و حشم کے طلبگار ہو جاؤ گے۔ اللہ تمہیں کامرانیاں دے گا لیکن میرے بچے ۔۔۔ اگر تم نے بزرگوں کے عطا کردہ وظائف اور اللہ کی عبادت سے رخ نہ موڑا تو تمہیں فیض ملتا رہے گا اب جاؤ کوئی تمہارا انتظار کر رہا ہے‘‘

’’بابا‘‘ ان سے جدا ہونے کے تصور سے میرا کلیجہ پھٹنے لگا۔ میری مرادوں کا گوہر چھلکنے لگا۔ میں ان سے لپٹ گیا ’’بابا آپ سے جدا ہو کر میں مر جاؤں گا‘‘

میری یہ حرکت دیکھ کر وہ ہنس دئیے اور میری پیٹھ تھتھپا کر بولے ’’حوصلہ کرو اب واپس سیدھے حویلی چلے جانا۔ تمہارے ملک صاحب بری امام سے ہو کر آ گئے ہیں‘‘

’’جی بابا‘‘ میں یہ خبر سن کر ان کا منہ دیکھنے لگا ’’ہمیں ابھی ابھی اطلاع ملی ہے اس لئے تم حویلی جاؤ اور اپنے ملک صاحب کے ساتھ مل کر شیطان کے خلاف جہاد کرو‘‘

’’شیطان ۔۔۔ کک کون شیطان‘‘ میں نے ہڑبڑا کر پوچھا

’’مکھن سائیں ۔۔۔ پورے کا پورا شیطان ہے۔ اس خبیث نے صاحب مزار پر آ کر ڈیرہ جمانے کی کوشش کی تھی لیکن ایک ہی چوٹ کھا کر بھاگ گیا۔ ریاض شاہ پورے کا پورا شیطان تو نہیں ہے لیکن کبھی کبھی اس کے زیر اثر آ جاتا ہے۔ وہ حد سے گرا ہوا برا شخص نہیں ہے چونکہ ابھی اس کے پاس تازہ تازہ طاقت آئی ہے اسے برسوں کشٹ نہیں جھیلنے پڑے۔ بلکہ تھالی میں رکھ کر اسے یہ طاقت عطا کر دی گئی تھی اس لئے وہ گھمنڈی ہو گیا ہے۔ یاد رکھنا یہ گھمنڈ شیطان کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ انسانوں کو ان کے اعلیٰ و ا رفع مقام سے نیچے اتارتا ہے۔ اچھا اب جاؤ ہمارا بلاوا آ رہا ہے۔ اب ہم چلتے ہیں۔ ہاں ایک اور بات یاد رکھنا ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو ایک دیا جلانے یہاں آنا اور نوافل بھی ادا کرتے رہنا‘‘

’’ٹھیک ہے بابا‘‘ میں چلنے لگا تو ایک دم ایک خیال ذہن میں آ گیا ’’بابا کیا میں اس بیری کا بیر کھا سکتا ہوں‘‘

یہ سن کر وہ ہنس دئیے ’’تمہیں بیر کھانے کی ضرورت نہیں ہے‘‘

’’کیوں بابا‘‘

’’بیٹے ۔۔۔ تم اپنا اعتقاد کبھی کمزور نہیں ہونے دیتے۔ اس لئے تمہیں بیر کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لوگ شارٹ کٹ کی تلاش میں آتے ہیں۔ جیسی نیت ہوتی ہے ویسا پھل مل جاتا ہے انہیں‘‘ یہ کہہ کر بابا تیلے شاہ مزار کے اندر چلے گئے۔ میں انہیں حسرت و یاسیت سے دیکھتا رہا۔

میں مزار سے نکل کر باہر سڑک پر آ گیا۔ مزار کی نسبت سڑک پر کم روشنی تھی۔ ایک کوچوان اپنے گھوڑے کو گھاس کھلا رہا تھا۔ میں نے اسے اشارہ کرکے پاس بلایا تو اس نے گھاس کی بوری گھوڑے کے منہ سے ہٹا کر تانگے میں رکھی اور میرے پاس آ کر بولا ’’بابو کہاں جانا ہے‘‘

’’لاری اڈے جانا ہے‘‘

’’سالم چلو گے‘‘

’’ظاہر ہے اب سواری تو ہے نہیں کوئی ،سالم ہی چلو‘‘ میں نے اس سے پیسے پوچھے تو بولا ’’بابو جی تیس روپے لوں گا‘‘

’’تیس روپے ۔۔۔ کیا بات کرتے ہو۔ اڈہ دور ہی کتنا ہے۔ دو روپے سواری بنتی ہے۔ تین پیچھے تین آگے۔ کل ملا کر چھ سواریوں کے بارہ روپے بنتے ہیں‘‘ میں نے سخت انداز میں حساب کتاب کرکے بتایا۔

’’بابو رات کا وقت ہے واپس بھی خالی آنا پڑے گا اور اوپر سے گھوڑا بھی تھک چکا ہے۔ جانا ہے تو پچیس روپے ہوں گے۔ بابو جی مہنگائی بہت ہو چکی ہے گھا دس کلو سبزہ خریدنے کے لئے بیس روپے دینے پڑتے ہیں۔ دال دانہ الگ سے خریدنا پڑتا ہے۔ یہ گھوڑا پچاس روپے کھا جاتا ہے۔ مجھے کیا بچتا ہے صرف چالیس پچاس۔ سارا دن سڑکوں پر گھوڑوں کی لید‘ گاڑیوں کا دھواں پھانک کر صرف چالیس پچاس۔ مجھ سے اچھا تو گھوڑا ہے ۔

پچاس روپے صرف ایک ہی کام کے لیتا ہے۔ تانگے میں جوتا اور پھر ٹھک ٹھک ۔۔۔ نہ بال نہ بچہ۔ نہ بیوی کی تڑتڑ۔نہ بجلی پانی کا بل۔۔۔‘‘

’’اچھا ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ یار پچیس طے‘‘ اس کی باتیں سن کر میں بے اختیار ہنس دیا۔ حالانکہ اس ستم ظریف کی حالت پر مجھے ہنسنا نہیں چاہئے تھا۔ حالات کا ستایا سماجی بدگمانیوں کا شکار یہ شخص ہمارے پورے معاشرے کی عکاسی کر رہا تھا۔ مجھے تو رونا چاہئے تھا لیکن میں اس کی غربت پر کیوں روتا۔ صرف ہنس دیا۔ بے حسی پرکبھی کبھار ہنس دینا بھی ہزاروں آنسوؤں سے افضل ہوتا ہے۔

**

رات کافی گہری ہو چکی تھی۔ میں اس وقت ملکوال نہیں جانا چاہتا تھا لیکن بابا تیلے شاہ نے مجھے اشارہ دے دیا تھا کہ حویلی میں میرا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ایک ولی کامل کی رہنمائی کو اشاروں کی زبان سے سمجھ لینا دانائی کی بات ہوتی ہے۔ میں دانا تو تھا نہیں مگر میں نے جب غور کیا تو دل نے یہی فیصلہ کیا کہ مجھے اس وقت ہی ملکوال چلے جانا چاہئے۔ نہر کی پٹری پر لٹ جانے کا خدشہ بہرحال رہتا تھا۔ گھپ اندھیرے میں راستوں کی پہچان‘ بھوت پربت کا خوف ایک فطری سی بات تھی مگر اب مجھے بھوت پریتوں سے خوف کی بجائے زیادہ خطرہ انسانی روپ میں رات کی سیاہی میں لوٹ مچاتے ہوئے ان درندوں سے تھا جو خنجر کی اور گولی سے بات کرتے تھے۔ اگر مجھے درندوں میں سے کسی ایک کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا تو میں اپنے بچاؤ کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میرے پاس بارہ بور کی بندوق تھی جس کا باقاعدہ لائسنس بھی میرے پاس تھا۔ بندوق لینے کے لئے مجھے گھر جانا پڑتا اور میں گھر جانے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔ والدین مجھے اس وقت ملکوال جانے نہ دیتے لہٰذا اس کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں خالی ہاتھ ہی ملکوال چلا جاؤں۔

لاری اڈے سے پشاور اور راولپنڈی کو جانے والی بسیں رات گئے تک چلتی تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی بس تھوڑے فاصلے کی سواری نہیں بٹھاتی تھی۔ گجرات وزیرآباد کی طرف جانے والی بسیں بھی جا چکی تھیں۔ لاری اڈے سے نہر کا فاصلہ کم و بیش دس پندرہ کلومیٹر پر محیط تھا۔ اگر میں پیدل بھی چل پڑتا تو صبح ہونے سے پہلے نہر تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ ویسے بھی اتنا فاصلہ پیدل نہیں طے کیا جا سکتا تھا۔ اس سمے مجھے بابا تیلے شاہ کا خیال آیا۔ وہ ہزاروں لاکھوں میل پیدل چل کر ریاضتوں کی اس منزل تک جا پہنچے تھے جہاں سے بندہ اپنے خالق کی قربت کو گہرے سکون سے محسوس کرتا ہے۔ مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ میں پیدل چل کر نہر کے کناروں کو چھو لیتا۔ ویسے بھی یہ میلوں کا سفر پیدل طے کرنے کا معاملہ ایک دن پر تھوڑا ماقوف ہوتا ہے۔ یہ تو مسلسل چلتے رہنے کا کام ہے۔ اور اس وقت تک میں نے یہ طے نہیں کیا تھا کہ مجھے پیدل سڑکوں کے کناروں‘ بیابانوں‘ قبرستانوں‘ صحراؤں‘ نالوں‘ کوہساروں کو طے کرنا ہے۔ سلوک کی یہ سبھی مسافتیں ایک آدھ دن میں تھوڑی طے ہوتی ہیں۔ اس کے لئے بھی من میں پختگی ضروری ہوتی ہے اور ایسی پختگی سے فی الحال میں محروم تھا۔ روحانیت کی لذت سے آشنائی تو ہو رہی تھی۔لیکن میں دنیا سے کنارہ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا،سمندر میں غرق نہیں ہونا چاہتا تھا۔ میں تو ساحلوں کے کنارے چلتے چلتے سمندروں کی ہواؤں اور ان کے جوار بھاٹا کو دیکھنا چاہتا تھا۔ پس یہی میری سوچ اور یہی میرا عمل تھا۔

ان دنوں گندم کی کٹوائی ہو رہی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ رات کے اس پہر ٹریکٹر ٹرالی والے عموماً شہر سے واپس جاتے ہیں۔ ملکوال اور دوسرے دیہاتوں سے بھی ٹریکٹر ٹرالیاں گندم کی بوریاں لاد کر لاتی تھیں۔ میں اس امید پر لاری اڈے سے نکل کر باہر بڑی سڑک پر آ گیا کہ کسی ٹریکٹر والے سے لفٹ لیکر نہر تک چلاجاؤں گا۔ میرے بائیں طرف کوٹلی بہرام اور گلستان سنیما، دائیں جانب صدر کینٹ۔ میں صدر سے آنے والے راستے پر نظریں لگائے کھڑا رہا۔ آدھ گھنٹہ گزر گیا لیکن ایک بھی ٹریکٹر ٹرالی نہ آئی۔ اس دوران میں نے لانگ روٹ کی گاڑیوں میں لفٹ لینے کی بے سود کوشش کی۔ اس انتظار کے بعد میں نے سوچا کہ میرا یہاں ٹھہرنا فضول ہے۔ میں ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کوٹلی بہرام کے سٹاپ پر پہنچ گیا۔ ادھر سے ایک سڑک سبزی منڈی کی طرف جاتی تھی۔ عموماً گندم منڈی سے آنے والے ٹریکٹر ٹرالیاں بھی یہی راستہ اختیار کرتی تھیں۔ میرے عقب میں گلستان سینما تھا۔ اس وقت ایک بجے کا شو ٹوٹا تھا۔ شائقین باہر آ رہے تھے۔ اس وقت مجھے امید ہوئی کہ ممکن ہے اس وقت کوئی لوکل بس آ جائے کیونکہ سیالکوٹ کے نواحی علاقوں کے علاوہ سمبڑیال تک سے یہاں فلمیں دیکھنے آنے والے آتے تھے لیکن میری یہ امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔ اس وقت نہ تو کوئی تماشائی بس سٹاپ پر ٹھہرا تھا اور نہ ہی کوئی بس اورویگن آئی تھی۔ غالباً کوئی فلاپ قسم کی فلم چل رہی تھی جس کی وجہ سے شو میں رش نہیں تھا۔ دوسرے علاقوں کا ایک بھی شخص فلم دیکھنے نہیں آیا تھا۔

میں یونہی ایک گھنٹہ وہاں کھڑا رہا۔ میری ٹانگیں پتھر ہو گئی تھیں۔ اس وقت مجھے تھکن کا شدید احساس ہوا۔ صبح سے رات گئے تک میں مسلسل حرکت میں تھا اور اب تھکان سے ٹوٹ کر گر جانا میرے لئے عجیب نہ تھا۔ میں ایک بند کھوکھے کے پاس رکھے لکڑی کے ایک ٹوٹے بنچ پر بیٹھ گیا۔ بنچ کے پائے کو کھوکھے والے نے سنگل سے باندھا ہوا تھا۔ اسے خدشہ ہو گا کہ کوئی چور یہ بنچ نہ اٹھا کر لے جائے۔شاید بنچ کی کیلیں ابھری ہوئی تھیں جونہی میں نے پہلو بدلا ایک بے رحم کیل میری ران میں چبھ گیا۔ تڑپ کر اٹھا اور ران دبانے لگا۔ شدید درد کا احساس ہونے لگا۔ ہاتھ لگانے پر احساس ہوا کہ ران سے خون نکلنے لگا ہے۔ میں نے چلنے کی کوشش کی تو دقت محسوس ہونے لگی۔

’’یا الہٰی میری مدد فرما‘‘ میرے دل سے فغاں نکلی اور احساس کی سوئی نے میری آنکھوں میں چھید کر دئیے۔ نہ جانے کیوں میں اس وقت خود کو تنہا اور بے بس محسوس کرنے لگا تھا۔

’’اللہ میاں جی آج ہی یہ سب کچھ ہونا تھا‘‘ میں شکوہ کے انداز میں سوچنے لگا۔ سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے۔ وہم و خیال کے یہ سوتے ذہن سے پھوٹتے رہتے ہیں۔ سوچوں کو روکنا کسی بھی عام انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ٹاہلی والی سرکار نے ایک بار فرمایا تھا کہ صرف وہی لوگ اپنی سوچوں کو روک سکتے ہیں جو ظاہر باطن میں اللہ کے قرب کے متمنی ہوتے ہیں۔ ان کی فکر کا محور صرف ایک ذات ہوتی ہے۔ عشق محمدؐ اور عشق الہٰی پر قلب و نظر کی قوتیں مرکوز کرکے ایک نقطہ میں سمٹ جاتے ہیں اور وہ نقطہ بظاہر بہت خفیف نظر آتا ہے لیکن اس کے اندر داخل ہونے والے کو احساس ہوتا ہے کہ ساری کائناتیں اور اسرار اس نقطہ کے اندر بس رہے ہیں۔ جو لوگ اس ارتکاز فکر کو حاصل کر لیتے ہیں وہ دنیاوی وہم و خیال کے جال توڑ کر نکل جاتے ہیں۔ انہیں کسی قسم کے گزند کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے پیروں میں چھالے اور ان چھالوں سے رستا ہوا لہو ۔۔۔ انہیں قطعی درد کا احساس نہیں دلاتا۔ ان کی تمام حسیات صرف ایک مرکز پر ٹھہری ہوتی ہیں ۔ اس لمحے میں جب مجھے ٹاہلی والی سرکار کی بات یاد آئی تو مجھے اپنی کتابوں میں پڑھا ہوا ایک سبق بھی یاد آ گیا۔ حضرت علیؓ کو ایک بار تیر لگا تو آپؓ نے فرمایا ’’ٹھہرو ۔۔۔ مجھے نماز میں کھڑے ہو لینے دو پھر تیر نکال لینا‘‘ حضرت علیؓ نماز پر کھڑے ہوئے تو آپؓ کے شانے سے تیر نکال لیا گیا۔ تیر گہرا پیوست ہوا تھا لیکن باب الاعلم حضرت علیؓ کے چہرہ مبارک پر ایک لمحہ کے لاکھویں حصہ میں بھی تیر کے کھینچے جانے کا احساس نہ ہوا۔ میں سمجھ گیا اور جان گیا۔ یہ وہ احساس ہے۔ یہی وہ ارتکاز ہے جو اللہ کے ایک برگزیدہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کا انہماک اپنے رب کی طرف اتنا گہرا اور مضبوط ہوتا ہے کہ اسے اردگرد کا کوئی ہوش ہی نہیں ہوتا۔ یہی احساس اولیا میں منتقل ہوا۔ چلے‘ شب و روز کی ریاضتیں‘ عبادتیں دراصل اس ارتکاز کی طرف منزل پانے کے لئے کئے جاتے ہیں ۔جب کوئی انسان اپنے ذہن کو یکسوئی پر مائل کر لیتا ہے تو اس پر اندر باہر کی دنیا کے بھید آشکار ہونے لگتے ہیں۔ یہ ذہن بھی کیا بلا ہے کیسا سپر کمپیوٹر ہے۔ یہ ارتکاز اور یکسوئی اس سپر کمپیوٹر کی ٹیکنالوجی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ جو سمجھ گیا اس نے پا لیا۔ یہ وظائف بھی تو یہی چیز ہیں۔ آپ پڑھتے رہیں گے مگر شاید ہی کوئی رزلٹ نکلے۔ لاکھوں لوگ کہتے ہیں وظائف پڑھتے ہیں مگر اثر نہیں ہوتا۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے۔ ادھر مال پر نظریں اور انگلیاں تسبیح پر۔ لبوں پر وظائف مگر دل اور گمان سڑکوں کے کنارے چلتے لوگوں کی طرف مائل۔ حساب کتاب میں مستغرق۔ نہیں۔ منزل اور گوہر مراد یوں حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لئے انہماک چاہئے اور یہ انہماک رات کے سناٹے میں خلوت نماز پر بیٹھ کر۔ جائے نماز بچھا کر۔ پانچوں پہر کی نمازوں میں حاصل ہوتا ہے۔ ذہن کو قابو کیجئے۔ یکسوئی سے وظائف پڑھئے۔ آپ کا روحانی کمپیوٹر چل پڑے گا اور مشکلات دھیرے دھیرے ختم ہوتی جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔کیل چبھا، ران میں درد اٹھا اور میرے ذہن میں فکر اور سلوک کے نئے معنی وارد ہونے شروع ہو گئے۔ اس احساس کو پانے کے بعد میں نے اپنے درد سے سمجھوتہ کر لیا۔ اسے بھولنا تو دوبھر تھا لیکن دل کو سمجھا لیا۔ ’’شاہد میاں یہ درد ایک آزمائش ہے بلکہ نعمت ہے۔ کیل تمہاری ران میں چبھا اور درد نے تمہارے ذہن کے مقفل دریچے کھول دئیے۔ اپنے رب کا شکر ادا کرو۔ وہ شافع مطلق ہے۔ علم یوں بھی عطا کرتا ہے۔ اس کا شکر ادا کرو‘‘

حقیقت یہ ہے کہ میں اس قدر صابر و شاکر کبھی نہ تھا۔ لیکن اللہ پاک کا ناشکرا کہلوانا مجھے کبھی بھی پسند نہیں آتا تھا۔ میرا ہاتھ ران سے بہتے خون پر تھا اور ذہن علم و آگہی کے اس نئے معنی پر اس علیم اور خبیر ذات کا شکر ادا کرنے لگا تھا۔

مجھے یاد آیا کہ یہاں سے کچھ دور ہی ایک مسجد ہے۔ میں لنگڑاتا ہوا مسجد میں چلا گیا لیکن باہر دروازے پر تالا پڑا دیکھ کر رک گیا۔

’’اللہ میاں جی ۔۔۔ آپ کے گھر پر تالے پڑے ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا میری نیت کیا تھی۔ میں ساری رات حمد و ثنا کرتا۔ سجدے میں گرا پڑا رہتا۔ اللہ میاں جی آپ کے گھر پر تو تالے ہیں‘‘

میں خودکلامی کے انداز میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔ سنگ مرمر کی بڑی بڑی ٹائیلوں سے بنی یہ سیڑھیاں بڑا ہی ٹھنڈا احساس دلا رہی تھیں۔ بیٹھتے ہی ران میں اٹھنے والا درد آہستہ آہستہ دب گیا۔ ٹھنڈی ٹائیلوں نے درد کی آگ کو سرد کر دیا تھا لیکن اکڑاؤ بہرحال محسوس ہو رہا تھا۔

تیتیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں