پاناما لیکس کمیشن ،وزیر اعظم نے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا اعلان کر دیا ،الزام ثابت ہوا تو گھر چلا جاؤں گا:نوازشریف

پاناما لیکس کمیشن ،وزیر اعظم نے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا اعلان کر دیا ،الزام ...
پاناما لیکس کمیشن ،وزیر اعظم نے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا اعلان کر دیا ،الزام ثابت ہوا تو گھر چلا جاؤں گا:نوازشریف

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم نواز شریف نے کہا اعلان کیا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستا ن کو خط لکھا جائے گا جس میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی گزارش کی جائے گی تاکہ بہتان لگانے والے ہماری شفافیت کی انتہا دیکھ لیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں مجھ پر کوئی الزام ثابت ہو جائے تو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر گھر چلا جاﺅں گا ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت نے خود انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا جبکہ عوامی سطح پر کوئی مطالبہ نہیں تھا لیکن اس دن کے بعد سے معزز ججز کی کردار کشی کی گئی تاکہ کوئی جج اس ذمہ داری کو نہ سنبھالے اور ملک میں ایک مرتبہ پھر دھرنے ہوں ۔انہوں نے کہا کہ میں ان گیدڑ بھبکیوں سے سے ڈرنے والا نہیں ،خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ،اسی وجہ سے تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے فرائض سرانجام دینے کا موقع ملا ،مجھے عوام نے منتخب کیا ہے اس لیے اللہ کو جواب دینے کے بعد قوم کے سامنے جوابدہ ہوں ۔

اسلام آباد میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی گزارش کی جائے گی تا کہ بہتان تراشی کرنے والے تراشی پر اترے ہوئے لوگ اس اقدام سے ہماری شفافیت کی انتہابھی دیکھ لیں ۔انہوں نے کہا میں اس کمیشن کا فیصلہ قبول کروں گا لیکن اگر میری ذات پر الزامات ثابت نہ ہوئے تو بہتان تراشی کرنے والے لوگ قوم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں اور یہ فیصلہ قوم نے کرنا ہے کہ کیا ایسے لوگوں کو معاف کرنا ہے ؟۔

ان کا کہنا تھا کہ میری ساری زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے ،پاکستان میں پیدا ہوا ،بچپن سے جوانی تک ساری عمریہاں پر گزری ،پاکستان میں ہی تعلیم حاصل کی ،یہاں ہی شادی ہوئی اور اولاد بھی پاکستان میں پیدا ہوئی اور ان کی پرورش بھی پاکستان میں ہی ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ پورا خاندان پاکستان سے پیوستہ ہے ،میں اس مٹی میں اٹھا اور واپس اسی مٹی میں جاﺅں گا ،میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں تیس برس سے زائد ہو گئے ،ان تین دہائیوں میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہوقت جلا وطنی کا تھا ،خدا جانتا ہے ان آٹھ برسوں کا ایک ایک لمحہ کس طرح وطن کو یاد کر کے گزارا ،پھر وہ وقت بھی آیا کہ عوام نے منتخب کر کے تیسر ی مرتبہ اس ملک کی خدمت کی ذمہ داری سونپی ،پاکستانی عوام کی محبت کا جتنا بھی شکر یہ ادا کروں کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس کو بنیاد بنا کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، حالانکہ میر ی ذات پر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں ہے لیکن اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد قوم کو اعتماد میں لیا ۔ان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر لگائے جانے والے الزامات پرانے ہیں جن کی چھان بین 90کی دہائی میں ہوئی اور مشرف دور میں بھی اس کی تحقیقات کی گئیں لیکن کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا ،اس کے باوجود میں اپنے پورے خاندان کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں کیو نکہ جمہوری ممالک کی یہ ہی روایات ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے خاندانی اثاثوں کے انکم ٹیکس گوشوارے سب کے سامنے ہیں ،ہم اس وقت سے ٹیکس دے رہے ہیں جب کچھ لوگوں کو ہجے بھی نہیں آتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ جب میرے علم میں یہ بات آئی کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے اراکین کے اثاثوں کی تفصیلات ہٹا دی گئی ہیں تو فوری اسحاق ڈار سے کہہ کر ان تفصیلات کا ویب سائٹ پر ڈلوایا کیو نکہ یہ جاننا عوام کا بنیادی حق ہے ۔

نواز شریف نے کا کہا کہ ماضی میں بھی ان تمام سوالوں کے جواب دیے ہیں لیکن کچھ سوال ہمارے بھی ہیں ،سعودی عرب میں فیکٹری لگانے کا سوال کرنے والے یہ بتائیں کہ ہمیں سعودی عرب کیوں بھیجا گیا ؟،قانون کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بتائیں ایک منتخب وزیر اعظم کو کال کوٹھری میں کس قانون کے تحت پھینکا گیا ؟،جب ہمیں جلا وطن کیا گیا اس وقت سپریم کورٹ کو جگانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ ،۔انہوں نے کہا کہ جو حساب لینے نکلے ہیں ان کا بھی حساب ہونا چاہیے ،ہمیں اخلاقیات کا سبق پڑھانے والے بتائیں کہ وہ صرف وزرارت عظمیٰ کے لیے اس ملک کو دہشت گردی کی بھٹی میں پھینکنے والے آمر کے پیچھے کیوں بھاگے ،72ججز کو نظربند کرنے کا حساب ہونا چاہیے ،منتخب وزیر اعظم پر ہائی جیکنگ کا جھوٹا مقدمہ بنانے کا حساب ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے ،پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے اور وزیر اعظم کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹنے والے ہمیں اخلاقیات کا سبق سکھانے نکلے ہیں ۔

وزیر اعظم نے کہا 2014میں دھاندلی کے معاملے پر متفقہ کمیشن بنا یا گیا ،اس کمیشن نے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر رد کیا ،الزامات لگانے والوں نے کیا یہ اخلاقی جرت دکھائی کے قوم سے معافی مانگ لیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خاندان 1972سے حساب دے رہا ہے لیکن دھرنے کے سرکس کے دوران جو اربوں روپے کا نقصان ہوا ،اس کا حساب کون دے گا ؟۔نواز شریف نے کہا کہ بطور وزیر اعظم جو تنخواہیں وصول بھی نہیں کیں ،ان کا حساب دینے کے لیے تیار ہوں لیکن بغیر کسی کاروبار کے جیٹ طیاروں میں گھومنے کاحساب کون دے گا ۔

مزید : قومی /اہم خبریں