جنرل راحیل شریف ۔۔۔ ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

جنرل راحیل شریف ۔۔۔ ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا

  

سابق آرمی چیف جنرل(ر) راحیل شریف کو سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے لئے حکومتِ پاکستان نے عدمِ اعتراض کا سرٹیفکیٹ(این او سی) جاری کر دیا ہے، جس کے بعد وہ اِس اتحاد کی اہم ترین ذمے داری سنبھالنے کے لئے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں، سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر اُنہیں لے جانے کے لئے خصوصی طیارہ بھیجا گیا۔ یہ اتحاد بنیادی طور پر دہشت گردی کے خلاف قائم کیا جا رہا ہے، ابھی تک اِس کی تشکیل کی تمام تر تفصیلات سامنے نہیں آئیں، نہ ہی معلوم ہے کہ اِس کا سٹرکچر کیا ہو گا، اِس لئے خیال یہی ہے کہ اِس سلسلے میں بھی اول و آخر ذمہ داری جنرل(ر) راحیل شریف ہی نبھائیں گے اور جس طرح چاہیں اس خاکے میں رنگ بھریں گے اور اپنی حسبِ خواہش اِس عمارت کی نیو اٹھائیں گے، جس کا ابھی تک تصور ہی پیش کیا گیا ہے۔

جنرل(ر)راحیل شریف جب آرمی چیف کے عہدے پر فائز تھے تو وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ انہوں نے سعودی عرب اور ایران کا دورہ کیا تھا یہ وہ دِن تھے جب دونوں ممالک کے تعلقات بعض واقعات کے بعد کشیدہ ہو گئے تھے اور سفارتی مراسم بھی ختم ہو گئے تھے، دورے کا مقصد دونوں ممالک کے معمول کے تعلقات کی بحالی تھا۔ اگرچہ یہ تعلقات اب تک بحال تو نہیں ہو سکے، البتہ اِس برس ایرانی حاجیوں کو حج کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور اس کی تیاریاں جاری ہیں دونوں ممالک میں یہ بھی بہتری کی جانب قدم ہے، تاہم یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود دونوں مُلک اپنے تعلقات جلد بحال کر لیں گے۔ اِس سلسلے میں جنرل (ر) راحیل شریف اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد دوبارہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں،کیونکہ جب سے یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ اُنہیں اسلامی فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا جائے اُس وقت سے بعض حقیقی اور زیادہ تر موہوم خطرات و خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے کہ یہ اتحاد ایران کے خلاف بنایا جا رہا ہے تاہم جنرل صاحب نے پوری صاف گوئی سے واضح کر دیا تھا کہ وہ ایسی صورت میں یہ عہدہ نہیں سنبھالیں گے، جب دو اسلامی مُلک باہم دست و گریباں ہوں، انہوں نے نئے منصب پر فائز ہونے کے لئے بعض پیشگی شرائط بھی رکھی تھیں جو اُن کی ذاتی نہیں تھیں، اُمہ کے وسیع تر مفاد میں تھیں اب جبکہ وہ باضابطہ ذمے داری نبھانے کے لئے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں اور نیا منصب سنبھال کر کام شروع کر رہے ہیں تو اُن کی خواہش و کوشش ہو گی کہ وہ نہ صرف دونوں ممالک کے اختلافات رفع کرائیں، بلکہ انہیں قریب تر لائیں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ملتِ اسلامیہ کی بڑی خدمت ہو گی۔

جب سے اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان ہوا ہے ایک مخصوص لابی نے اسے بعض ایسے منفی پہلوؤں سے دیکھ کر اس کے خلاف پروپیگنڈے کا آغاز کر رکھا ہے کہ جیسے اس اتحاد کا مقصد ایران پر کوئی فوجی حملہ کر دینا ہے۔ یہ درست ہے کہ دونوں ممالک کے اختلافات موجود ہیں اور عالمی امور پر ان کا موقف یکساں نہیں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھی دونوں ممالک کی اپنی اپنی ترجیحات اور اپنے اپنے تحفظات ہیں، خاص طور پر یمن میں ایران پر یمنی باغیوں کو فوجی امداد دینے کا الزام لگایا جاتا ہے یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سپاہی یمنی باغیوں کی طرف سے لڑائی میں عملاً حصہ لیتے رہے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ سعودی حکومت یمن کے حالات سے پریشان ہے،کیونکہ اس کے اثرات سعودی معاشرے اور معاشرت پر مرتب ہوتے ہیں، دہشت گردی کی لہر بھی یمن کے راستے ہی سعودی شہروں تک پہنچی ، اس سے پہلے مملکت میں دہشت گردی کے واقعات خال خال ہوتے تھے ،لیکن اس سے اگر کسی نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے مُلک پر حملہ کرنے لگے ہیں اور فوجی اتحاد کی تشکیل اسی مقصد کے لئے کی جارہی ہے تو یہ معاملات کی تفہیم اور صورتِ حال کی درست تشخیص نہیں ہے۔

کافی عرصے سے جنرل راحیل شریف کے متعلق یہ خبریں آ رہی تھیں کہ وہ اس فوجی اتحاد کی سربراہی سنبھال رہے ہیں اِس لئے اتحاد کو ہدفِ تنقید بناتے بناتے مخالفین خود اُن کی ذات پر بھی چھینٹے اڑانے شروع کر دیتے ہیں،حالانکہ جنرل راحیل شریف کو یہ عہدہ کسی سیاسی مصلحت کے تحت پیش نہیں کیاگیا۔ یہ خالصتاً پروفیشنل معاملہ ہے اور سعودی حکام نے اگر اُن کی ذات سے کچھ خوشگوار احساسات وابستہ کئے ہیں تو اِس کا سبب جنرل راحیل شریف کی خالصتاً فوجی زندگی ہے اورعزت کے ساتھ پاک فوج کی سربراہی سے ریٹائر ہوئے ہیں، بہت عرصہ پہلے اُن کی جانب سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنے عہدے کی میعاد پوری ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے اور توسیع قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے اپنا یہ قول نبھایا اور ثابت کیا کہ قولِ مرداں جان دارد۔

اب وہ جن نئی ذمہ داریوں پر فائز ہو رہے ہیں یہ نہ صرف اُن کی اپنی ذات کے لئے بڑا اعزاز ہے،بلکہ پاکستان اور اس سے آگے بڑھ کر اُمتِ مسلمہ کے لئے بھی فخرو مباہات کا مقام ہے کہ پاک فوج کے ایک سابق سربراہ کو اِس ذمے داری کا اہل سمجھا گیا اور انہیں اِس اعزاز کا مستحق گردانا گیا۔ فوجی اتحاد کا بنیادی مقصد چونکہ دہشت گردی کا مقابلہ ہے اِس لئے افرادی قوت کے لئے تجربہ کار سابق فوجیوں کی خدمات بھی درکار ہوں گی اس کے لئے جنرل راحیل شریف کی نگاہِ انتخاب سب سے پہلے پاکستان پر پڑے گی،کیونکہ فوج کی طویل ملازمت کے دوران وہ بڑے اور چھوٹے افسروں کی ایک معقول تعداد کی صلاحیتوں کے براہِ راست راز داں ہوں گے اور یہ جانتے ہوں گے کہ ان سے کیا کام لیا جا سکتا ہے اسی طرح جو افرادی قوت اس اتحاد سے وابستہ ہو گی اس کی اسلحے اور دوسری ضروریات کے لئے بھی اُن کی پہلی ترجیح پاکستان ہی ہو گی، کیونکہ اِس وقت دُنیائے اسلام میں پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جو جنگی سازو سامان بنا رہے ہیں، اور اسلحے کی مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش بھی کر رہا ہے اِس لئے یہ عہدہ خود پاکستان کے لئے بھی بابرکت ثابت ہو گا، ہم جنرل راحیل شریف کو اس اعزاز پر مبارک پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ ان توقعات پر پورا اتریں گے جو سعودی حکمرانوں اور اُمتِ مسلمہ نے اُن سے وابستہ کر رکھی ہیں۔

مزید :

اداریہ -