فیصلے کے بعد؟

فیصلے کے بعد؟
 فیصلے کے بعد؟

  

پاناما لیکس کا فیصلہ آ گیا،ہنگامہ پھر بھی جاری ہے اور اب تک اِس فیصلے کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا گیا اور ابھی یہ سلسلہ جاری بھی رہے گا کہ محترم اور فاضل لارجر بنچ نے منقسم فیصلہ دیا ہے، جو دو کے مقابلے میں تین سے ہُوا اور اکثریتی جج حضرات نے دورانِ سماعت سامنے آنے والے حالات و واقعات سے پیدا سوالات حل کرنے کے لئے ایک بڑی تفتیشی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے، ابتدائی طور پر دوستوں نے صبر نہیں کیا اور ٹِکر دیکھتے دیکھتے اپنے فیصلے بھی سنانا شروع کر دیئے اور ایسی ایسی نادر آرا دیں کہ دِل باغ باغ ہو گیا ہے۔

ہم تو یہ گزارش کرنے پر مجبور ہیں کہ فاضل جج حضرات نے اپنے ذہن و دِل کے مطابق انصاف کیا ہے۔ اسے تاریخی کہا جا سکتا ہے کہ قریباً38سال بعد ایک بڑے کیس میں منقسم فیصلہ آیا، اسے بھٹو کیس کے حوالے سے یاد کیا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل ایک فاضل جج کی اکثریت سے مسترد کر دی گئی اور وہ بالآخر تخت�ۂ دار پر لٹکا دیئے گئے۔ یہاں ایک فاضل جج کی اکثریت سے وزیراعظم محمد نواز شریف کے سر پر لٹکتی تلوار ہٹ گئی اور فاضل ججوں نے کلین چٹ دینے کی بجائے ایک ایسی تفتیش کے لئے کہا ہے، جس کے حوالے سے ابھی سے شکوک کا اظہار کر دیا گیا ہے۔ یوں بھی ماضی کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جن کے مطابق عدالت عظمیٰ کے سخت تر رویئے کے باوجود تفتیش یا سماعت مکمل نہ پائی۔

کہا جاتا ہے کہ یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے۔ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے، سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ردعمل پر اعتراض کیا گیا اور ان پر تنقید کی گئی ہے ہم ان کی موافقت یا مخالفت میں کچھ نہیں کہتے۔ البتہ یہ کہیں گے کہ انہوں نے جو کہا اُس پر غور کیا جائے، وہ کہتے ہیں کہ جو کام سپریم کورٹ نہ کر سکی وہ سرکاری افسر (19۔گریڈ) کیسے کر لیں گے؟ اکثریتی فیصلے میں تفتیش کے لئے کہا گیا اور قریب قریب ٹی او آر بھی متعین کر دیئے گئے ہیں،لیکن سوال تو یہ ہے کہ اتنے بڑے اور بظاہر پیچیدہ معاملے میں یہ ٹیم دو ماہ میں کیا کر سکے گی،جبکہ وزیراعظم کے صاحبزادگان بیرون مُلک ہوتے ہیں اور وزیراعظم قومی امور سرانجام دے رہے ہوتے ہیں اس عرصے میں ان کو بیرون مُلک دوروں پر بھی جانا ہوتا ہے۔ یوں ان سے تفتیش مشکل تر ضرور ہو گی۔ یوں بھی اکثریتی فیصلے کے مطابق اگر کا لفظ استعمال کر دیا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو وزیراعظم کو بھی طلب کیا جا سکے گا۔ سوال یہ ہے کہ یہ ’’اگر‘‘ تفتیشی ٹیم کے لئے ایک موثر دفاع کا ہتھیار ثابت نہیں ہو گا؟ اور کیا وہ وزیراعظم کو کسی بہت ہی ٹھوس تر وجہ کے بغیر آنے کے لئے کہہ یا گزارش کر سکیں گے؟ اور کیا وزیراعظم کے پاس تفتیشی ٹیم کے لئے وقت ہو گا؟ یوں بھی اس فیصلے میں بہت سے ابہام ہیں، نیب پر تنقید کر کے نیب ہی کے رکن کو ٹیم میں شامل کیا گیا اور پھر حدیبیہ پیپر ملز والا ریفرنس بھی دوبارہ کھولنے کی ہدایت کی گئی تو یہ بھی نیب کے لئے ہے۔ ایسے میں تو بہتر ہوتا کہ یہ معاملہ بھی کسی اور ایجنسی کے سپرد کر دیا جاتا،لیکن ایسا بھی نہیں کیا گیا۔ اگر اکثریتی فاضل جج حضرات کے مطابق وزیراعظم کے خلاف کچھ ثابت نہیں کیا جا سکا تو پھر ان کو کلین چٹ دے دینا چاہئے تھی اور ملکیت کے حوالے سے ان پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت کیا تھی، اس بارے میں دورانِ سماعت بہت کچھ سامنے آیا، فیصلہ حتمی ہونا چاہئے تھا اور تسلیم کر لینا چاہئے تھا۔

جہاں تک ان دو فاضل جج حضرات کا تعلق ہے جنہوں نے اختلاف کیا تو وہ بھی آئین اور قانون کے ہاتھوں مجبور تھے کہ براہِ ر است نااہل قرار نہیں دے سکتے تھے، بہتر عمل کے طور پر کہہ سکتے تھے کہ متاثرہ فریقین الیکشن کمیشن سے رجوع کریں کہ بادی النظر میں وزیراعظم صادق اور امین نہیں اور اس طرح نااہل ہوتے ہیں،لیکن اس اختلاف رائے والے فاضل جج نے براہِ راست الیکشن کمیشن کو ہدایت کر دی کہ وہ نااہلیت کا نوٹیفکیشن جاری کر دے۔

بہرحال اِس فیصلے پر اب غور کیا جا رہا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سب ہی راضی ہیں، عمران خان کی طرف سے مٹھائی کی تقسیم اور فرزندِ راولپنڈی شیخ رشید کی طرف سے بھی50+50 کا نعرہ اسی کا غماز ہے کہ سبھی راضی ہیں، جبکہ مسلم لیگ(ن) والوں نے جشن منایا تو وہ بھی برحق ہیں کہ وزیراعظم کے خلاف براہِ راست الزام قریباً رد ہی ہو گئے ہیں اور محترم وزیر خزانہ کے لئے صرف یہی مشکل ہے کہ ایک بند اور ختم ہو جانے والے ریفرنس کو دوبارہ کھولنے کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ بھی زلف کے سر ہونے والی بات ہے کہ تب تک تو نئے انتخابات بھی ہو چکے ہوں گے۔

ہمیں مسلم لیگ(ن) کی حکمت عملی کی داد دینا چاہئے کہ فیصلہ سے پہلے ہی ماحول پیدا کر دیا گیا اور کارکنوں نے جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے جشن بھی منایا اور یوں بھی خوش اور مطمئن ہیں۔ اب تو سوال یہ ہے کہ آئندہ کیا ہو گا تو اس کی فکر اپوزیشن کو ہے، صورتِ حال یہ ہے کہ عمران خان بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں تشریف لے آئے، قائد حزب اختلاف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں کا مشترکہ اجلاس کر کے طے کر لیا کہ آئندہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت حزبِ اقتدار (حکمران جماعت) کو بہت ٹف ٹائم دیا جائے گا اور حکمت عملی کے لئے مشترکہ اجلاس ہوتے رہیں گے۔ یوں ایوانوں کی سطح پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تحریک انصاف کے عمران خان اور پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری تحریک کی بات کرتے ہیں۔ قارئین! ہم نے بھی یہی عرض کیا تھا کہ سکون نہیں اضطراب ہو گا اور اب حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا متحدہ محاذ بنانے کی کوشش شروع ہو گئی اور اب سنجیدہ ہے۔ اِس سلسلے میں متحدہ(پاکستان) کا رویہ معنی خیز۔ فاروق ستار پریس کانفرنس میں تنقید کرتے اور حزبِ اختلاف کے مشترکہ اجلاس سے غائب ہیں؟ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ کیا چاہتے ہیں؟

مزید :

کالم -