نوید ِ صبحِ آزادی اور مصطفےٰ علی ہمدانی

نوید ِ صبحِ آزادی اور مصطفےٰ علی ہمدانی
 نوید ِ صبحِ آزادی اور مصطفےٰ علی ہمدانی

  

مصطفےٰ علی ہمدانی ایک شخص نہیں، شخصیت تھے۔ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے سے ریڈیو سے وابستہ تھے۔ اُن کے کریڈٹ میں یہ بات انمٹ نقش کی طرح ثبت ہے کہ 14اگست1947ء کی شب بارہ بجے کے فوراً بعد طلوعِ صبحِ آزادی کی نوید سُنائی۔اُنھوں نے ’’اناؤنسر آن ڈیوٹی‘‘ کے طور پر ہَوا کے دوش پر یہ تاریخی جملہ نشر کِیا: ’’یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے‘‘!

اور یُوں آل انڈیا ریڈیو لاہور، ایک جَست میں ریڈیو پاکستان لاہور ہو گیا۔۔۔!

اُس دور میں ریڈیو وائی ایم سی اے مال روڈ کی بلڈنگ میں قائم تھا،جہاں1937ء سے1947ء تک رہا،پھر شملہ پہاڑی کے قرُب میں گورنر ہاؤس کے پچھواڑے آ گیا اور1965ء میں صدرِ مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے ریڈیو لاہور کی موجودہ نئی عمارت کا افتتاح کِیا۔اُن وقت سے اب تک اپنی پاکستانی شناخت کے ساتھ ریڈیو پاکستان لاہور کے طور پر سرگرمِ عمل ہے۔ مصطفےٰ علی ہمدانی کے آباؤاجداد کا تعلق ہمدان سے تھا، اسی نسبت سے یہ ایرانی النسل خانوادہ ہمدانی کہلاتا تھا۔مصطفےٰ علی ہمدانی کی پیدائش29جولائی 1909ء کو لاہور میں ہوئی اور اسی شہر میں اُن کی زیادہ تر عمر گزری،بالآخر 21اپریل 1985ء کو لگ بھگ 76برس کی بھرپور زندگی گزار کر وہ قبرستان مومن پورہ لاہور میں سپردِ خاک کر دیئے گئے۔ان کے لوحِ مزار پر فارسی کا یہ شعر کندہ ہے:

پروازِ نطُقِ مصطفےٰ بَردوشِ آغوشِ صبا

کہ افتخارِ خاصِ اُو اعلانِ پاکستان شُد

اور اس میں کیا شبہ ہے، کیا کلام ہے کہ:

این سعادت بزورِ بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

کہا جاتا ہے کہ، یہ کیا بات ہوئی؟ اُس روز ڈیوٹی پر جو بھی اناؤنسر ہوتا اُسے یہ جملہ نشر کرنا ہی تھا۔ نہیں یہ اتنی معمولی بات نہیں، دراصل مصطفےٰ علی ہمدانی اوّل و آخر پاکستانی تھے۔قائداعظمؒ کے عقیدت مند تھے، پیرو کار تھے، اُنھیں معلوم تھا کہ قیام پاکستان کے اعلان کے بعد اُس روز یعنی14اگست1947ء کے دن کی کیا اہمیت ہے اِس لئے اُنھوں نے بطورِ خاص نائٹ ڈیوٹی بطور اناؤنسر لی ہوئی تھی اور یہ اعلان اُن کے لئے کل کو تمغائے افتخار بننا تھا،اس کا اُنھیں شعوری یا لاشعوری طور پر مکمل ادراک تھا، اُن کے حصے میں جو تاریخی سعادت آئی، وہ آنی ہی تھی۔وہ بہترین آواز کے حامل پڑھے لکھے اناؤنسر، نیوز کاسٹر اور براڈ کاسٹر تھے، ہم نے جب پہلے پہل براڈ کاسٹنگ ہاؤس لاہور میں بطور طالب علم ادبی مجلے کے شریک اور پھر مُدیر کے طور پر آنا جانا شروع کِیا تو اُن سے ہر ہفتے ملاقات آمد کا لازمی جُزو تھی۔ وہ بڑی آن بان شان اور علمی تفاخر اور بظاہر خوش لباسی اور خوش جمالی کے کروفر کے ساتھ کوریڈور کی سیڑھیوں پر قدم رکھتے تو تین بار اپنے بوٹوں کو زور سے گرد جھاڑنے کے لئے زمین پر مارتے، پھر اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر محفل آرائی کرتے۔ ہم نے اُن سے ’’مِٹی‘‘ اور ’’مّٹی‘‘ کا فرق اس قسم کی محفل میں سیکھا۔ ان کا کہنا تھا، یہ لفظ دونوں طرح صحیح ہے اور سَند کے طور پر انیس و دبیر کے مرثیوں سے اور مختلف شعراء کے کلام سے اپنی بات کو باوزن بناتے، اس طرح سُخن اور سخٰن کو دو طرح سے ادا کر کے بتایا کہ:

سُخَن کے ہم ہی ہیں وارث سَخُن ہمارا ہے

اس بات کی تصدیق زیڈ اے بخاری کی مرثیہ خوانی سے بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بھی اہل زبان نہ ہوتے ہوئے زبان سیکھتے تھے اور اُس زمانے میں مصطفےٰ علی ہمدانی اور اخلاق احمد دہلوی ہی تلفظ کی درستی اور زبان دانی کے لئے سَند مانے جاتے تھے۔ مشہور شاعر فراق گورکھپوری کا ایک مشہور مصرع یاد آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا:

اگلی نسلیں فخر کریں گی ہم نے فراق کو دیکھا تھا

اسی طرح پچھلی نسل میں سے مجھے یہ فخر اور افتخار حاصل ہے کہ ہم نے مصطفےٰ علی ہمدانی کو دیکھا، سُنا اور اُن سے سیکھا۔ وہ چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا تھے، شعر و ادب کا معاملہ ہو یا تحریک پاکستان کے حوالے سے جلسوں جلوسوں کا حال احوال ہو: ایک ذرا چھڑیئے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے۔۔۔!

مصطفےٰ علی ہمدانی اپنی اکلوتی کتاب ’’ہمسفر‘‘ ]خود نوشت[ کے مصنف بھی، شاعر بھی تھے۔ فارسی، اُردو کلام یکجا نہ ہو سکا۔اُنھیں تاریخ و تحریکِ پاکستان کی کہانی اپنی زبانی سنانے کا ہَوکا تھا، وہ جب بولنا شروع کرتے تو سننے والے کو اپنی خوبی گفتار کے سحر میں جکڑ لیتے۔ وہ ریڈیو میں اناؤنسر کے طور پر آئے اور پھر استاد آرٹسٹ اور پروڈیوسر و رائٹر کے طور پر بھی ہر شعبے میں کام آئے۔ اُنھوں نے ہم ایسے نووَارد اناؤنسروں کی عملی تربیت کی۔ اُن کے صاحبزادے صفدر علی ہمدانی اور ان کی بہو ماہ پارا صفدر بھی ریڈیو سے کئی حیثیتوں میں وابستہ رہ کر بطور پروڈیوسر نیک نامی کما کے بی بی سی لندن پہنچے اور آج تک وہیں برسرِ کار ہیں، دونوں میاں بیوی اچھی آواز کے حامل نیوز کاسٹر، اناؤنسر، براڈ کاسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہیں۔یہ دونوں مصطفےٰ علی ہمدانی کے نام اور کام کو آگے بڑھانے میں پیش پیش ہیں اور جانتے ہیں کہ:

نام نیک رفتگاں ضائع مکُن

تا بہ ماند نام نیکت برقرار

مزید :

کالم -