ترکی میں ریفرنڈم کے ا ثرات

ترکی میں ریفرنڈم کے ا ثرات
 ترکی میں ریفرنڈم کے ا ثرات

  

ترکی میں 16اپریل کو ہونے والے صدارتی نظام کے ریفرنڈم میں صدر طیب اردوان نے کامیابی تو حاصل کرلی، مگر ریفرنڈم کے نتائج سے ترکی میں سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔جہاں ایک طرف یورپی یونین نے کھل کر اس ریفرنڈم کی مخالفت کی تو وہیں ترکی کے کئی شہروں میں بھی اس ریفر نڈم کے خلاف احتجاج ہورہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ریفرنڈم میں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں۔ اپوزیشن کی بڑی جماعت ’’ری پبلکن پیپلز پارٹی‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ریفرنڈم کے خلاف آئینی عدالت اور یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں اپیل دائر کر ے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی جاری رہے گا۔ تمام غیر جانبدار رپورٹوں سے بھی واضح ہورہاہے کہ ایمرجنسی کے تحت کروائے گئے اس ریفرنڈم میں حکمران جماعت ’’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘‘ نے بھرپور ریاستی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی پسند کے نتائج حاصل کئے۔ جولائی2016ء میں دہشت گرد تنظیم ’’فیتو ‘‘کی جانب سے ملک کا نظم ونسق اپنے ہاتھ میں لینے اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی سے زبردستی اقتدار حاصل کرنے کی ناکام کوشش کے بعد ترکی میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔ ایمرجنسی کے ان 9ماہ کے دوران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں سے ہمددردی رکھنے والے میڈیا اداروں اور صحافیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں۔ حکومت سے اختلاف رکھنے کی پاداش میں ہزاروں افراد کو جیل میں قید کیا گیا۔ ایمرجنسی کے بعد 110,000افراد کو مختلف الزمات کی بنا پر گرفتار کیا گیا۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے 13ممبران پارلیمنٹ کو جیل میں بندکردیا گیا۔ حکومت پر تنقید کر نے والے150صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔

حکمران جماعت’’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘‘کافی عرصے سے صدارتی نظام کی حمایت کرتی آئی ہے۔ 2005ء میں جب ترکی کے وزیر انصاف نے صدارتی نظام متعارف کروانے کا مطالبہ کیا تھا تو اس وقت طیب اردوان نے وزیر اعظم کے طور پر اس مطالبے کی حمایت کی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں کے بھر پور احتجاج کے باعث اردوان اپنی اس خواہش پر فوری طورپر تو عمل در آمد نہیں کرواپائے،مگر گزشتہ سال جب اردوان کا تختہ اُلٹنے کی ناکام کوشش کی گئی تو اس کے بعد اس ریفرنڈم کے انعقاد کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا۔ اس سے پہلے ملک کے آئین میں صدراتی نظام سمیت کئی ترامیم منظور کروانے کے لئے پارلیمنٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کی جماعت نیشنل موومنٹ پارٹی نے ان 18آئینی ترامیم کے لئے حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی حمایت کی۔

ان 18 ترامیم کوپارلیمنٹ کے کل550ارکان میں سے 339ارکان کی حمایت ملی، جبکہ آئین میں ترمیم کے لئے361ووٹوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے، یوں پارلیمنٹ میں ناکامی کے بعد ان ترامیم کو ریفرنڈم کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اور نیشنل موومنٹ پارٹی نے صدراتی نظام کے حق میں، جبکہ ری پبلکن پیپلز پارٹی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے صدارتی نظام کے خلاف مہم چلائی۔ صدارتی نظام کے حق میں 25,157,025 ووٹ (51.41 فی صد)جبکہ خلاف 23,777,091 ووٹ (48.59%) پڑے۔ یوں طیب اردوان انتہائی کم مارجن کے ساتھ ریفرنڈم جیتنے میں کامیاب ہو سکے۔

ترکی کے آئین میں ترامیم کے باعث جوا ہم سیاسی تبدیلیاں رونما ہوں گی، ان کے مطابق وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا، صدر ہی ریاست اور انتظامیہ کا سربراہ ہوگا۔ صدر کے پاس وزرأ کی تقرری، بجٹ بنانے، اعلیٰ عدلیہ کے اکثر ججوں کو چننے، صدارتی حکم کے ذریعے قوانین بنانے اور پارلیمنٹ کو برخاست کرنے جیسے اختیارات ہوں گے۔ان ترامیم سے صاف ظاہر ہو رہاہے کہ طیب اردوان ترکی کے صدر کے طور پر اتنے زیادہ اختیارات حاصل کرنے جارہے ہیں کہ جس کا کسی جمہوری ملک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ صدارتی نظام کے اندر بھی ایسے انتظامات کئے جاتے ہیں کہ صدر کے پاس ہی تمام اختیارات نہ رہیں، بلکہ کئی امور پر پارلیمنٹ بھی بااختیار ہو، عدلیہ بھی آزادی سے کام کرسکے، مگر ترکی کی حکمران جماعت ’’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘‘ نے ترکی میں جو کچھ بھی متعارف کروایا ہے، یہ قطعی طور پر جمہوری صدارتی نظام نہیں ہے۔اس ساری صورت حال کواردوان کی سیاست کو سمجھے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا۔

طیب اردوان نے 2002,ء 2007ء اور پھر 2011ء میں اپنی جماعت ’’اے کے پارٹی‘‘ یعنی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘‘ کو اپنے دم پر اکثریت دلاکرگیا رہ سال تک وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالے رکھا۔ اگست 2014ء میں اردوان ترکی کے صدر منتخب ہوگئے۔ ترکی کی ’’فلاح‘‘اور’’ورچیو‘‘ پارٹی کے کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد جب اس جماعت کے اہم ارکان’’اے کے پارٹی‘‘ کو وجود میں لائے تو انہوں نے اکثریت کو یہ باور کروایا کہ ترکی کے تمام معاشی اور سیاسی مسائل کی جڑ عسکری اور سیاسی اشرا فیہ ہے جو کمال اتا ترک کے سیکولر نظریے کے نام پر عوام کے سیاسی حقوق غصب کرچکی ہے اور عام آدمی تک معاشی ترقی کے ثمرات بھی نہیں آنے دے رہی۔’’اے کے پارٹی‘‘ نے طیب اردوان کے بطور میئر (استنبول) ترقیاتی کاموں کو پورے ترکی میں ایک ماڈل کے طور پر بھی کیش کروایا۔ انہی باتوں کو بنیاد بناکر ’’اے کے پارٹی‘‘ نے 2002ء کے انتخابات سے اپنی سیاسی کامیابیوں کا آغاز کیا۔

اگر سرمایہ داری نظام کو ہی بنیاد بناکر بات کی جائے تو اپنے اقتدار کے آغاز میں’’اے کے پارٹی‘‘ نے معیشت میں کئی اصلاحات متعارف کروائیں، عام لوگوں کے مسائل جیسے صحت، تعلیم کے شعبوں پر بھی خاص توجہ دی گئی۔ ترکی کا جی ڈی پی بھی حیران کن حد تک بڑھنا شروع ہوگیا۔ قومی آمدن میں 64 فی صد اضافہ ہوا، 2002ء میں زرمبادلہ کے ذخائر 26.5 بلین ڈالرتھے، جبکہ 2011ء میں یہ 92 بلین ڈالرز تک جاپہنچے۔ تعلیم کے بجٹ کے لئے 12ارب ڈالر جتنی بڑی رقم مختص کی گئی۔ اپنے اسی بھر پور اعتماد کے باعث اے کے پارٹی نے 2007ء کے انتخابات پہلے سے بھی زیادہ اکثریت سے جیتے۔ اپنی انہی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد کے باعث ’’اے کے پارٹی‘‘ نے ترکی میں فوج کے ادارے کا سیاسی کردار بھی محدود کرنا شروع کردیا۔ مارشل لاء کی سازش کرنے والے کئی جرنیلوں کے خلاف غداری کے مقدمے بھی چلائے گئے، مگر اب مسلسل انتخابی کامیابیوں کا خمار اردوان کے سر پر چڑھنا شروع ہوگیا ہے اور اردوان ایک’’سلطان‘‘ کا روپ دھارتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ 2014ء سے اردوان نے سیکولرازم کی مخالفت کے نام پر اپنے سیاسی مخالفین، سیاستدانوں، پولیس افسران، پروفیسروں، صحافیوں حتیٰ کہ ججوں کے خلاف بھی ریاستی جبر کا آغاز کر دیا۔ صحافیوں کو عمرقید کی سزائیں سنائی گئیں۔ آئین کی ایک شق، جس کے مطا بق سربراہ مملکت پر تنقید نہیں کی جاسکتی، اس کو بنیاد بناکر سوشل میڈیا میں اردوان پر تنقید کرنے والے افراد کو سخت سزائیں دی گئیں،حتیٰ کہ اخباروں میں معمولی مخالفت پر مبنی کارٹون بنانے والوں کو بھی سزائیں دی گئیں۔ ترکی کے ایک عام آدمی کو طیب اردوان (جو چند سال پہلے تک اپنے غریب خاندانی پس منظر کو فخر سے بیان کرتا تھا) اس وقت صحیح معنوں میں ایک’’سلطان‘‘ نظر آیا ہوگا جب اس نے دیکھا کہ اردوان نے 1,000 کمروں پر محیط ایک انتہائی عالی شان محل میں رہنا شروع کردیا، جس پر 600 ملین امریکی ڈالرخرچ کئے گئے۔ اب صدارتی نظام کے نام پر تمام ریاستی اور انتظامی اختیارات کو اپنی ذات میں مرکوز کرلینے کی سب سے بڑی وجہ اقتدار کی بھوک ہی ہے۔ترکی اور پاکستان میں جہاں کئی اقدار مشترک ہیں، وہیں پر دونوں ممالک کی تاریخ بتاتی ہے کہ جمہوریت کو بڑی بڑی مشکلات سرکرکے قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔ اگر جمہوری حکومتیں ہی آمرانہ ہتھکنڈوں پر اتر آئیں تو پھر عوام اس نظام سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ ایسے ممالک میں جہاں جمہوری نظام کوخطرہ رہتا ہو، وہاں پر سول حکمرانوں کی ترجیح صرف عوامی بہبود اور حقیقی جمہوری روایات کی پاسداری ہی ہونی چاہیے تاکہ عام انسانوں کا جمہوری نظام پر اعتماد مضبوط بنایا جاسکے۔ اگر اقتدار سے چمٹے رہنے کے لئے سول حکمران بھی آمروں کے طریقے ہی اختیار کریں گے تو پھروہ شاخ ہی ٹوٹ کرگر جائے گی، جس پر وہ بیٹھے ہیں

مزید :

کالم -