جے آئی ٹی بنانے کا حکم ناقابلِ فہم ہے

جے آئی ٹی بنانے کا حکم ناقابلِ فہم ہے
 جے آئی ٹی بنانے کا حکم ناقابلِ فہم ہے

  

سپریم کورٹ نے اگرچہ دو ججوں کے مقابلے میں تین ججوں کے اکثریتی فیصلے کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کے نااہلی کے معاملے کو موخر کردیا ہے اور جے آئی ٹی تشکیل دے کر وزیر اعظم سمیت ان کے دونوں بیٹوں کے خلاف تحقیقات کا حکم صادر کیا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے دو ججوں کا نواز شریف کے بارے میں یہ تحریر کرنا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے، اس لئے پارلیمنٹ کی رکنیت کے وہ اہل نہیں ہیں، ایک ایسا فیصلہ ہے، جسے اخلاقی طور پر ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ درست ہے کہ آئینی اور قانونی طور پر سپریم کورٹ کا فیصلہ وہی ہے، جو تین ججوں کی اکثریت کے ساتھ سنایا گیا ہے، مگر سپریم کورٹ کے دو ججوں کا اپنے اخلاقی حکم میں وزیر اعظم نواز شریف کو قوم سے بے ایمانی کا مرتکب قرار دے کر نواز شریف کا بطور رکن قومی اسمبلی نوٹیفکیشن منسوخ کرنے کا حکم صادر کرنا ایک ایسا غیر معمولی فیصلہ ہے جس کو محض اس وجہ سے قابل توجہ نہ سمجھنا کہ یہ سپریم کورٹ کے 3رکنی اکثریتی فیصلے کے مقابلے میں دو ججوں کا فیصلہ ہے، درست نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ کے جن تین محترم جج صاحبان نے وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کے خلاف تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے، وہ تینوں جج صاحبان بھی وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں اپنے دفاع کے لئے جو بھی دلائل دیئے گئے اور دستاویزات پیش کی گئیں ان سے مطمئن نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے بیٹے اگر اپنے دفاع اور صفائی کے حوالے سے سپریم کورٹ کومطمئن نہیں کرسکے تو جے آئی ٹی کے سامنے اپنی بے گناہی کیسے ثابت کریں گے؟ جتنے بھی شواہد، جتنے بھی ثبوت اور جتنے بھی دلائل نواز شریف خاندان کی جانب سے اپنی بے گناہی کے لئے پیش کئے جاسکتے تھے، وہ سب سپریم کورٹ کے روبرو پیش کردیئے گئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ نواز شریف اور ان کے بیٹوں کی بے گناہی کے حق میں کوئی ایسی دلیل، ثبوت یا دستاویز یا کوئی مزید قطری خط باقی رہ گیا ہو جو سپریم کورٹ کے سامنے تو پیش نہیں کیا جاسکا، لیکن اب جے آئی ٹی کے روبروپیش کردیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے تقریباً ایک سال تک پاناما کیس کی سماعت کی۔ نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں کو اپنے دفاع کے لئے طویل وقت میسر رہا، لیکن وزیر اعظم اور ان کے بیٹے ایک سال کی طویل مدت میں بھی اپنے دفاع میں کامیاب نہیں ہوسکے اور وہ تین جج، جنہوں نے نواز شریف کی بطور رکن قومی اسمبلی نااہلی کا حکم تو نہیں دیا، وہ بھی نواز شریف کے خلاف تحقیقات کا حکم جاری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ گلف سٹیل ملز کا پیسہ جدہ، قطر اور برطانیہ کیسے پہنچا؟ اس سوال پر نواز شریف اور ان کا خاندان سپریم کورٹ کو کیوں مطمئن نہیں کرسکا؟ گلف سٹیل ملز کو کیوں فروخت کیا گیا؟ 1990ء کے عشرے میں نو عمر حسین نواز شریف اور حسن نواز شریف کے پاس لندن میں فلیٹ خریدنے کے وسائل کہاں سے آئے؟ اس سوال کے جواب میں اگر سپریم کورٹ کو اطمینان بخش ثبوت فراہم کردیا جاتا تو جے آئی ٹی کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟ لندن میں مختلف کمپنیوں کی ملکیت اور کاروبار کے لئے نواز شریف کے بیٹوں کے پاس سرمایہ کہاں سے آیا؟ حسین نوازنے کروڑوں روپے کے تحائف اپنے باپ کو کہاں سے دیئے؟ بیٹے کے پاس یہ وسائل کہاں سے آئے،ان سوالات پر اگر ایک سال کی مدت میسر ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کو مطمئن نہیں کیا جاسکا تو جے آئی ٹی کے سامنے کون سے نئے شواہد اور ثبوت پیش کئے جائیں گے، جن کی بنیاد پر نواز شریف بے گناہ ثابت ہو جائیں گے۔البتہ اگر حکومت کے ماتحت ادارے ہونے کی وجہ سے یہ ادارے ایک وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے خلاف کسی ایماندارانہ تحقیق و تفتیش کی جرأت نہیں کرسکتے تو وہ ایک الگ بات ہے۔جو لوگ اپنی تقرری اور تبادلوں کے لئے حکمرانوں کے محتاج ہوتے ہیں اور اپنی پسند کی تقرریوں کے لئے جو افسر بے ضمیری تک کی شرط قبول کرلینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، ان سے انصاف،بالخصوص حکمرانوں کے خلاف کسی دیانت دارانہ انکوائری کی اُمید کرنا شاید درست بھی نہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے دو محترم جج صاحبان نے جے آئی ٹی سے تحقیقات کروانے کے عمل کو غیر ضروری سمجھا ہے اور جب وہ نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے اپنے دفاع اور صفائی میں دیئے گئے شواہد اور دلائل سے مطمئن نہیں ہوئے تو انہوں نے بلا خوف و تردد نواز شریف کے نااہل ہونے کا حکم صادر کردیا۔

اب چونکہ سپریم کورٹ کا حکم سنایا جاچکا ہے،اس لئے سپریم کورٹ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے رائے دینے کی آزادی ہمیں بھی میسر ہے۔ ہماری رائے میں سپریم کورٹ کے تین محترم جج صاحبان کا جے آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات کا حکم دینا ناقابل فہم ہے۔ وہ شواہد اور ثبوت جو سپریم کورٹ کے روبرو نواز شریف اور ان کے بیٹے پیش کرچکے ہیں،ان سے الگ یا مختلف شواہد اور ثبوت اب جے آئی ٹی کے سامنے تو پیش نہیں کئے جاسکتے۔ سپریم کورٹ اگر اپنے سامنے نواز شریف اور ان کی فیملی کو سچ بولنے پر مجبور نہیں کرسکی تو جے آئی ٹی کی کیا حیثیت ہو گی کہ وہ وزیر اعظم یا ان کے بیٹوں کو سچ اگلوانے پر مجبور کرسکے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری کی بھی یہی رائے ہے کہ جب تمام شواہد اور براہین جو بھی نواز شریف پیش کرسکتے تھے، انہوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کردیئے تو پھر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ سمجھ سے بالا ہے۔جو بھی شواہد اور ثبوت سپریم کورٹ کے سامنے آچکے تھے، اگر وہ نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو ایماندار ثابت نہیں کرتے تو پھر فیصلہ سپریم کورٹ کو خود کرنا چاہتے تھا۔جس طرح جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنا فیصلہ جے آئی ٹی کی کسی تحقیق کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے خود کیا ہے۔ اگر جے آئی ٹی بنانے کا حکم ہی دیا جاتا تھا تو یہ فیصلہ ایک سال قبل ہی سنایا جاسکتا تھا۔ قطری خط تو تمام ججوں نے مسترد کردیا ہے، جس پر نواز شریف اور ان کے بیٹوں نے اپنے تمام تردفاع کی بنیاد رکھی تھی۔ اب جے آئی ٹی کس نکتے پر تحقیق کرے گی؟ جب منی ٹریل، جو سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ تھا، اس حوالے سے کوئی قابل اعتبار جواز، جواب یا ثبوت سپریم کورٹ میں پیش ہی نہیں کیا گیا تو نواز شریف کے صادق اور امین نہ ہونے کے لئے یہی ثبوت کافی ہے۔ اس لئے تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنانے کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔

مزید :

کالم -