’’یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے‘‘

’’یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے‘‘
 ’’یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے‘‘

  

ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہو۔پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفیٰ مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے، جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دیا ہو تا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔۔۔’’وزیر اعظم اور ان کے بچوں کوبری نہیں کیا گیا‘‘۔۔۔’’پاناما ون ختم، پاناما ٹو شروع ہو گیا ہے‘‘۔۔۔اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے، جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چودھری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ یہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی، مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا، مگر 2010ء میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزراء بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا، لہٰذا انہیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کردیا۔اعظم سواتی جمعیت علمائے اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے، لہٰذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہوگئے۔حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا، جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے تو 2014ء میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لئے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لئے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کردیا۔جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں ،اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہ میں نیب نے رانا مشہود کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے ’’اخلاقی دباؤ‘‘ کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا، مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔

2015ء میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کردیا، تب تک انہوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ سپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا۔جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہاروزیرِ داخلہ چودھری نثار علی کے استعفے کا مطالبہ کرتی ہے، تو چودھری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔

چودھری نثار نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لئے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کی سفارشات کو ’’لیرو لیر‘‘ کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چودھری نثار نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی پیش کش بھی کی، مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کردی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہوگئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر 2013 ء میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کردیا، مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے، جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں 2013ء کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب 2008ء میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں اور بہت کچھ ہوا، وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف ’’جھوٹے مقدمات‘‘ کا سامنا کرنے کے لئے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لئے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر ان کی تاجپوشی کی۔مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ 1983ء میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیاء الحق حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئرمین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انہوں نے وفاقی وزارت سے بھی استعفیٰ دے دیا۔فخر امام کے اس اقدام کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست 2007ء میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔

عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں، جنہوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا اور گھر بیٹھ گئے، مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔ یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفیٰ دے دیا۔ سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفیٰ دیا، جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔ ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 ء کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا، جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا :’’سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے‘‘۔ انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر 1971ء کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفیٰ دیا کیونکہ انہیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست 2008ء کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے، حالانکہ انہوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کئے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفیٰ دیا ہو۔وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت۔جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہ بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر 1999ء بھی نہ ہوتا۔ اگست 2008 ء کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیا۔جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفیٰ نہیں دیا، جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخود لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد، بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ہر ادارہ چاہتا ہے، مگر ضمیر کی گورننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے سوا سب کا احتساب جاری رہے گا

مزید :

کالم -