سونو نگم اپنے بیان کی وجہ سے لعنت کے حقدار ٹھہرے ہیں، پاکستانی فنکار

سونو نگم اپنے بیان کی وجہ سے لعنت کے حقدار ٹھہرے ہیں، پاکستانی فنکار
 سونو نگم اپنے بیان کی وجہ سے لعنت کے حقدار ٹھہرے ہیں، پاکستانی فنکار

  

لاہور(فلم رپورٹر) گلوکارسونو نگم کے بیان کے خلاف پاکستانی فنکاروں نے بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔گلوکارہ کنزیٰ روز نے کہا کہ جو بھی ہمارے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے گا اسے کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا سونو نگم فوری طور پر معافی مانگے ۔سینئر اداکار اور ڈائریکٹر سہراب افگن نے کہا کہ بھارتی گلوکار نے بی جے پی کی حکومت کو خوش کرنے کے لئے ایسابے ہودہ ٹویٹ کیا ہے ان کے بیان کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔اذان کے خلاف اس مردود کا بیان نا قابل برداشت ہے ۔امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد پاپ سنگر بابا پرنس نے کہا ہے کہ امریکہ کی تین ریاستوں ڈی سی واشنگٹن،ورجینیا اور میری لینڈ کی مسلم اور ہندو کمیونٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ وہ سونو نگم کا کوئی شو آرگنائز نہیں کریں گے۔ صائمہ نور،نرگس اور ریشم نے کہا کہ سونو نگم اپنے بیان کی وجہ سے لعنت کے حقدار ٹھہرے ہیں۔اداکار آغا حیدر نے کہا کہ پوری دنیا میں سونو نگم نے اپنے بیان کی وجہ سے جو ذلت کمائی ہے اس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک نے کہا کہ اذان کے خلاف بات کرکے سونو نگم کی انتہاء پسند سوچ عیاں ہوگئی ہے۔سینئر اداکاروں اچھی خان اور ظفر عباس کچھی نے کہا کہ بھارتی گلوکار مجھ سمیت ہر مسلمان کی نظروں سے گرگیا اسے بی جے پی کے کارکنوں کی غنڈہ گردی نظر نہیں آتی ہماری اذان پر تنقید کرنے کا حق اسے کس نے دیا ہے۔سونو نگم کا منہ کالا کرکے اس کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈالنا چاہیے۔سید نور نے کہا کہ سونو نگم پر جتنی لعنت کی جائے وہ کم ہے اس کی حمایت کرنے والے بھی لعنت کے حقدار ہیں۔ موسیقار اعظم وجاہت عطرے،موسیقار رفیق حسین،گلوکارہ صائمہ جہاں،محمد سلیم بزمی اور دیگر نے بھی سونو نگم کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سزا اور لعنت کا حقدار قرار دیا ہے ۔یاد رہے کہ سونو نگم نے ٹویٹر پر بیان جاری کیا تھا کہ لاؤڈ سپیکر پر صبح کی اذان کی وجہ سے میری آنکھ کھل جاتی ہے جس کے باعث مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔

یہ سراسر غنڈہ گردی ہے ۔اس بیان کے بعد مسلم کمیونٹی کے ساتھ ساتھ روشن خیال ہندوؤں نے بھی ان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اس وقت جاری رہے گا جب تک سونو نگم اپنے کئے کی معافی نہیں مانگ لیتے

مزید :

کلچر -