پولیس کی نئی وردی گرم نکلی ، شکایات کے انبار لگ گئے

پولیس کی نئی وردی گرم نکلی ، شکایات کے انبار لگ گئے

  

لاہور (شعیب بھٹی )گرمی کی شدت بڑھتے ہی نیا یونیفارم پہننے والے پولیس اہلکارمشکلات کا شکار،سی سی پی لاہور ، ڈ ی آئی جی آپریشن ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن آفس سمیت حساس مقاما ت پر ڈیو ٹی سر انجا م د ینے والے اہلکاروں کی جانب سے شکایات کے انبار لگا د ئیے ۔اہلکا رو ں کا کہنا ہے کہ پولیس کا نیا یونیفارم پہلے روز سے ہی اعتراضات کا شکار رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ یونیفارم میں آٹھ جیبیں موجود ہیں اور ان تمام جیبوں پر فولڈنگ کیپ لگائی گئی ہیں جس میں بکرم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بکرم کی وجہ سے کپڑا مزید موٹا ہو جاتا ہے جس سے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ کپڑا پنجاب کے موسم کی شدت کو مدنظر رکھ کر نہیں بنایا گیا کیونکہ کپڑا موٹا ہونے سے یونیفارم پہن کر ڈیوٹیاں کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔پولیس اہلکا رو ں کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ نئی یونیفارم کو بکرم فری بنایا جائے جس طرح پاک فوج کے یونیفارم میں بکرم کا استعمال نہیں کیا جاتا جبکہ کپڑے کی موٹائی کو بھی کم کیا جائے تاکہ اہلکار باآسانی ڈیوٹیاں سرانجام دے سکیں۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ پو لیس حکام کی ہدایت پر پولیس افسران نے یونیفارم تیار کرنے والی فرم نشاط ٹیکسٹائل سے ملاقات کی ہے جس میں پولیس کی جانب سے یونیفارم میں کچھ تبدیلیاں کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ یونیفارم میں لگائی گئیں آٹھ جیبوں پر فولڈنگ کیپ میں بکرم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کپڑا مزید موٹا ہو جاتا ہے یہ کپڑا پنجاب کے موسم کی شدت کو مدنظر رکھ کر نہیں بنایا گیا۔ کپڑا موٹا ہونے سے یونیفارم پہن کر گرمی میں ڈیوٹی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ نئی یونیفارم کوبکرم فری اور کپڑے کی موٹائی کو بھی کم کیا جائے۔

مزید :

علاقائی -