فصیح بھائی کا پوتا اور جے آئی ٹی

فصیح بھائی کا پوتا اور جے آئی ٹی

  

یہ بھائی فصیح کمال بھی عجیب آدمی ہیں، بعض اوقات میرے دل میں ان کے لئے اتنی نفرت پیدا ہوتی ہے کہ انہیں اگر یہ سسٹم نہیں کچل پا رہا تو میں کچل کر پھینک دوں، اب آپ خود بتائیں میں انہیں پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور جے آئی ٹی بننے کے عظیم فوائد پر گفتگو کررہا ہوں اور ان کی آنکھوں سے مجھے ایسا پیغام مل رہا ہے کہ جیسے میں کوئی احمق آدمی ہو، میں گفتگو کے دوران جب بھی سانس لینے کے لئے رکتا ہوں تو ان کے ہونٹ ایسے کھلتے ہیں جیسے وہ کچھ کہنا چاہ رہے ہوں، آپس کی بات ہے میں انہیں خود بولنے کا موقع نہیں دے رہا، میں جانتا ہوں وہ کیا بولیں گے! غربت، بھوک، بے چارگی اور کیا؟ میں ان کی اس ڈھٹائی پر اور کیا کرسکتا تھا سوائے انہیں بھی بولنے کا موقع دینے کے۔ وہ تو جیسے موقع کے انتظار میں تھے۔ کہنے لگے بھائی جے آئی ٹی کا میں کیا کروں آپ کو پتہ ہے میرے معذور پوتے کا زخم نہیں بھررہا، اب میں آپ کو بتاؤں بھائی فصیح میرا دماغ خراب کرنے روز آجاتے ہیں، پہلے ان کی داستان سن لیں، اس دنیا میں ان کی کل جائیداد انکا پوتا ہے جو دونوں ٹانگوں سے معذور ہے، چند ہفتے قبل چوہوں نے اسکی ٹانگ کاٹ لی اور اب یہ چوہے روزانہ اس زخم پر دانت مارتے ہیں، فصیح بھائی کا پوتا تکلیف تو جھیلتا ہے لیکن ان چوہوں کو بھگا نہیں سکتا، فصیح بھائی کہتے ہیں اگر میں ساری رات جاگ کر اپنے پوتے کی حفاظت کروں تو دن میں مزدوری کیسے کروں، اپنا اور اسکا پیٹ کیسے پالوں؟ میں انہیں بتاتا ہوں کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے گی اور اس سارے عمل سے جمہوریت مضبوط ہوگی، وہ میری طرف دیکھتے ہیں میں سمجھا کہ جمہوریت کی مضبوطی کا سن کر انکی آنکھیں بھر آئیں، انہوں نے اپنا گلا کھنکارا اور بولے بھائی کیا میرے پوتے کا کہیں علاج نہیں ہوسکتا۔ میں نے کہا کہ قوم اس وقت ایک نازک دور سے گزررہی ہے، جمہوریت کی بقاء اس میں ہے کہ یہ سسٹم ڈی ریل نہ ہو، اس نظام کے تحفظ کیلئے آصف علی زرداری اور سراج الحق ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہے ہیں۔ فصیح بھائی جیسے لوگ کیا جانیں کہ قوموں کی زندگی کیلئے ایسے اتحاد کتنے اہم ہوتے ہیں۔ سچی بات ہے ان کی عدم دلچسپی سے میرے دل میں ان کے لئے ایک نفرت آمیز احساس پیدا ہوا۔ قوم اس وقت پانامہ لیکس کے فیصلے پر مٹھائیاں بانٹ رہی ہے اور یہ اپنے پوتے کو رو رہے ہیں۔

فصیح بھائی کو میں تب سے جانتا ہوں جب وہ ایک اچھے عوام تھے۔ ملگجے سے بال، ویران آنکھوں اور شرمندہ شرمندہ سے چہرے والے فصیح بھائی اداکارہ صبیحہ خانم کے عشق میں گھر سے بھاگ کر لاہور آئے تھے کئی مہینے وہ صبیحہ خانم کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ایور نیو، باری، اے ایم، شاہ نور سٹوڈیوز کے چکر لگاتے رہے اور کسی طرح ایورنیو میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے اور دھکے کھاتے کھاتے فلمساز ایم اے رشید تک پہنچ گئے اور یوں وہ روز نا صرف صبیحہ خانم کو دیکھنے لگے، بلکہ ایم اے رشید کے چھوٹے چھوٹے کام بھی کرنے لگے، وہ خود کو ایم اے رشید کا اسسٹنٹ قرار دیتے اور ان کو ڈیڈی کہہ کر پکارتے، اس دوران انہوں نے کئی فلموں جیسے دل میرا دھڑکن تیری، تم سلامت رہو، آدمی وغیرہ میں ڈیڈی کو اسسٹ کیا، ایم اے رشد کا انتقال ہوا تو وہ پھر صفر پر آگئے جو پیسے بچا بچو کے رکھے تھے اس کی خود فلم بنانے کا اعلان کردیا، فلم کا نام رکھا ’’آشا کے دیپ‘‘ فلم تو کیا بننی تھی کوئی میوزک کے نام پر، کوئی نغمے لکھنے کے نام پر ان سے پیسے بٹور کرچلتا بنا اس دوران انہوں نے شادی کرلی، اف کتنی بکواس بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی طرح زندگی تھی، آپ بھی پڑھ کر بور ہونگے میں مختصراً بتاتا ہوں ان کے دو بیٹے ہوئے جوان ہوئے ایک کی شادی ہوئی جس سے یہ معذور پوتا ہے، پھر اچانک ان سے نجانے کیا بھول ہوئی کہ قدرت انہیں اپنی طاقت سمجھانے اٹھ کھڑی ہوئی انکی بیگم کا انتقال ہوا پھر چھوٹا بیٹا مر گیا اور کچھ دنوں بعد بڑا بیٹا بھی، ہے نہ انتہائی بورنگ سٹوری، اب یہ محترم ہیں اور انکا پوتا، فصیح صاحب جیسا میں نے بتایا بہت ڈھیٹ انسان ہیں ان کے اندر کا فنکار انہیں بار بار اچکلیں دیتا رہتا ہے اور وہ آج بھی گلیوں میں نوٹنکی کراتے رہتے ہیں۔

میں آپ کو بتاؤں فصیح بھائی ٹلنے کا نام نہیں لے رہے وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کے پوتے کی مدد کروں، ورنہ انکا پوتا زخموں میں زہر پھیلنے سے مرجائے گا۔ مرجائے تو مرجائے ہم نے ٹھیکا لے رکھا ہے ان کے پوتے کا، میں تو پریشان ہوں کہ حسین اور حسن نواز کو جے آئی ٹی فیس کرنی پڑے گی، ان بیچارروں کا کیا قصور اگر انہوں نے فصیح بھائی کے پوتے کی عمر میں کامیابی کی تمام منزلیں طے کرلیں ان پر فصیح بھائی کے ہزار پوتے قربان، میں تو حیران ہوں فصیح بھائی کی جرات پر کس بھرے منہ سے مجھے کہہ رہے ہیں کہ کیا حکومت اور اسکے ادارے ان کے پوتے ’’سونو‘‘ کا علاج نہیں کرسکتے، او بھائی اور میرے جنونی احمق بھائی تو پاگل ہے کیا! یہ ادارے یہ خزانے کیا تیرے معذور پوتوں کیلئے بنے ہیں۔ جمہوریت کے دشمن انسان، اب کیا میں آصف علی زرداری کی ایمانداری، عمران خان کی ثابت قدمی، سراج الحق کی راست گوئی اور میاں صاحب کی نیک نامی پر نہ لکھوں؟ تم پر لکھوں۔ سینٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے یخ بستہ حالوں کی کارروائی رپورٹ کرنے کے بجائے تمہارے لئے کاغذ کالے کروں، تم ہو کون؟ تم ہوتے کون ہو؟ پاکستان کی بقا کامیابی، ترقی اور اقوام عالم کیلئے ہمارے پاس حسن، حسین نواز، بلاول بھٹو، مریم نواز، حمزہ شہباز، مونس الٰہی رول ماڈل موجود ہیں، جنہوں نے اس غربت زدہ عوام کیلئے عظیم منصوبے بنا رکھے ہیں، بس یہ منصوبے مکمل تو ہونے دو اگر تمہارا پوتا تب تک زندہ رہا تو انکے عظیم اثرات اس تک بھی پہنچ جائیں گے۔ اللہ پاکستان کے اس عظیم مستقبل کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

بھائی اگر چوہے تمہارے پوتے کا زخم روز کترتے ہیں تو کیا کروں؟ اس پر کالم لکھوں؟ اس جیسے تو سینکڑوں روز مرجاتے ہیں اور باقی مرنے کے دہانے رہتے ہیں۔ ان کے ہونے اور نہ ہونے سے پاکستان کو کیا فرق پڑتا ہے، تم زندہ رہو یا مر جاؤ، بھاڑ میں جاؤ۔ یہ ملک غریب مسلمانوں کیلئے بنا تھا اور اس خواب کو پورا کرنے کیلئے سرے محل بلاول ہاؤس، رائیونڈ محل، بنی گالہ کا محل مضبوط کئے جارہے ہیں تاکہ غریبوں کو بہتر زندگی دی جاسکے۔

فصیح بھائی تو چلے گئے ہیں لیکن نجانے کیوں ان کی آنکھوں میں میرے لئے ایک تمسخر تھا جیسے میں کوئی میراثی ہوں جو بس چودھریوں کی مداح سرائی کیلئے پیدا ہوا ہے۔ ہونہہ۔۔۔ لوگ کیا سوچتے ہیں تو سوچتے رہیں، میں نے اپنے ضمیر کو گواہ کرکے لکھتا رہونگا کہ میاں برادران، آصف زرداری چودھری برادران، عمران خان جس طرح پاکستان کی ترقی خوشحالی کیلئے کام کررہے ہیں انہیں جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے، بس میرے قلم کی سیاہی قائم رہے میں ان کے گن گاتا رہوں۔

پریشر گروپ

مزید :

کالم -