زرداری کا صادق و امین کا لیکچر دینا قیامت کی نشانی ،عدالتی فیصلے کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے :چودھری نثار

زرداری کا صادق و امین کا لیکچر دینا قیامت کی نشانی ،عدالتی فیصلے کو سیاست کی ...

  

ٹیکسلا/واہ کینٹ(مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این) وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان نے کہاہے کہ آصف زرداری کی جانب سے قوم کو ایمانداری پر لیکچر اور لوگوں کو 62،63 پر سرٹیفکیٹ بانٹنا قیامت کی نشانیاں ہیں ، پاناماکیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے نہ ہی مزید عدالتیں لگنی چاہئیں۔ٹیکسلامیں گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ لوگ پاناما کیس کے فیصلہ پراپنی خواہشات کے مطابق عجیب عجیب منطق دے رہے ہیں، 2 ججوں نے اپنی الگ رائے کا اظہار ضرور کیا مگر جے آئی ٹی بنانے میں پانچوں ججوں کے دستخط موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عجب کرپشن کی غضب کہانی والے لوگ وزیراعظم کو مستعفی ہونے کا کہہ رہے ہیں اور شائدمخالفین پھڈا بازی چاہتے ہیں لیکن معاملہ اب بھی عدالت میں ہے اور اسے عدالت پر ہی چھوڑ دینا چاہیے،وزیرداخلہ نے کہا کہ ،نواز شریف کے خلاف الٹی گنگا بہائی جارہی ہے ، انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس کی رپورٹ پاناما کیس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی جو منگل تک وزیراعظم کو پیش کردی جائے گی جبکہ ہمارا موازنہ فرشتوں سے کرنے کے بجائے پچھلی حکومت کی کارکردگی سے کیا جائے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ اگر اسے مثبت انداز سے دیکھا جائے تو یہ ایک متفقہ فیصلہ ہے، کہا جارہا ہے کہ دوججز ایک طرف اور تین ایک طرف تھے لیکن یہ درست نہیں جہاں تک میں جانتا ہوں دوججوں نے اپنی الگ رائے کا اظہار ضرور کیا لیکن جے آئی ٹی بنانے میں پانچوں ججوں کے دستخط موجود ہیں جبکہ کوئی بھی جج اکثریت کے فیصلے سے اختلاف کرکے الگ بھی ہوسکتا ہے لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ مزید تفتیش کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی ہے،سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کا نمائندہ شامل ہو مگر لوگ اپنی خواہشات کیلئے عجیب منطق دے رہے ہیں اور عدالتی فیصلوں کیخلاف احتجاج کا اعلان کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ عدالتی فیصلہ کسی کی خواہش کے مطابق نہیں ہوسکتا، قانون اور آئین کے مطابق ہوگا اور یہ اس وقت تک ہے جب تک جے آئی ٹی رپورٹ نہیں آجاتی لیکن لوگ عدالتی فیصلوں کے خلاف آوازیں اٹھارہے ہیں اور کچھ ججوں کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے سختی سے تلقین کی ہے کہ دو تین کی بات نہ کی جائے اسے سپریم کورٹ کافیصلہ کہاجائے نہ ہی ججز کے بارے کوئی بات کی جائے ۔وزیرداخلہ نے کہاکہ کسی بھی حل کیلئے سپریم کورٹ سے بڑا ادارہ کون سا ہے؟ عدالت عالیہ کو سب کیلئے قابل قبول ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں اچھے سے زیادہ برے کام کی تشہیر زیادہ ہوتی ہے معاملہ اب بھی عدالت میں ہے اور اسے عدالت پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کو ٹیکنا کیس،ڈائمنڈ نیکلس یا سرے محل کیس یا کرپشن کا معاملہ نہیں بلکہ کچھ فلیٹس کا معاملہ ہے جو وزیراعظم اور ان کی فیملی نے خریدے کہ ان کے پیسے کہاں سے آئے اور کس نے دیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی روایت قائم کی حالانکہ ان پر کوئی پریشر نہیں تھا ۔اپوزیشن رہنما ء شروع سے جے آئی ٹی بنانے کا کہہ رہے تھے مگر جب سپریم کورٹ نے خود حکم دیا جے آئی ٹی بنانے کا تو شور ہورہا ہے، خدارا اس ملک پر رحم کریں اور اس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ پر ہی چھوڑ دیں ۔ڈان لیکس کے معاملے پر چوہدری نثار نے کہا کہ نیوز لیکس کی رپورٹ پاناما کیس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی جو منگل تک وزیراعظم کو پیش کردی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت جس دن سے آئی ہے اس کو کام نہیں کرنے دیا جارہا ہے، تحریک انصاف کی تجویز سے چیف الیکشن کمشنر آئے اور چارمیں سے تین ممبر الیکشن کمیشن پیپلزپارٹی کی مرضی سے آئے اور تمام صوبوں اور وفاق میں نگراں سیٹ اپ پیپلزپارٹی کی مرضی سے بنا تھا، نجم سیٹھی کی میں نے اورشہبازشریف نے نگران سیٹ اپ میں لانے کی مخالفت کی تھی تو وہ کیسے ہمارے لیے کام کرسکتا تھا لیکن پھر بھی ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -