مخدوم فیصل صالح حیات پندرہ سال بعد دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے

مخدوم فیصل صالح حیات پندرہ سال بعد دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد سیاسی درجہ حرارت کچھ اور بڑھ گیا ہے، شدید گرمی میں اگر سورج کی تمازت کے نیچے جلسہ ہوگا اور مقررین ہوں گے آصف علی زرداری اور اُن کے صاحبزادے بلاول زرداری تو پھر خطاب تو ایسا ہی ہوگا جیسا شاہ جیونہ جھنگ میں ہوا۔ شاہ جیونہ سید فیصل صالح حیات کا آبائی گھر ہے جو 15 برس بعد پیپلزپارٹی میں دوبار شامل ہوئے ہیں، 2002ء کے الیکشن کے بعد جو جنرل پرویز مشرف کی نگرانی میں ہوئے تھے جو نتائج آئے اُن کے نتیجے میں کوئی حکومت نہیں بن پارہی تھی چنانچہ بہت سے ارکان کو حکومت کی حمایت پر آمادہ کیا گیا اس مقصد کے لئے جنرل پرویز مشرف نے وہ حربہ اختیار کیا جو اُن سے پہلے آنے والے فوجی حکمران بھی استعمال کرتے رہے تھے یعنی ترغیب و تعذیب کے ذریعے مخالفوں کو حکومت کی حمایت پر آمادہ کرنا۔ لاہور میں سرور روڈ کا تھانہ بھی اس مقصد کیلئے استعمال ہوتا تھا، جو جو سیاستدان اس تھانے سے ہو آئے انہوں نے حکومت کی حمایت کردی۔ بہت سے آزاد سیاستدانوں کو مسلم لیگ (ق)کی حمایت پر آمادہ کرنے کے باوجود جب حکومت نہ بن پائی تو آخری حربے کے طورپر پیپلزپارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کو پیش کش کی گئی کہ وہ پیپلزپارٹی چھوڑ کر آجائیں تو انہیں وزیر اعظم بنا دیا جائے گا اس مقصد کے لئے آخری ملاقات ’’اچانک‘‘ ہوئی مخدوم صاحب اسلام آباد سے کراچی جانے کے لئے ایئرپورٹ جا رہے تھے کہ انہیں پیغام ملا کہ (صدر) جنرل پرویز مشرف دامنِ کوہ کے ایک ریسٹورنٹ میں موجود ہیں وہ بھی وہاں آجائیں۔ لیکن اس ملاقات کے بارے میں تاثر یہی دیا گیا کہ یہ کوئی طے شدہ ملاقات نہیں۔ جنرل پرویز مشرف اچانک ریسٹورنٹ میں موجود تھے کہ مخدوم امین فہیم بھی وہاں پہنچ گئے، اتفاق سے ایک انگریزی اخبار کا سینئر فوٹو گرافر بھی وہاں پہنچ گیا اس نے دونو رہنماؤں کی یہ یادگار تصویر کھینچ لی جو اگلے روز اخبار میں چھپ بھی گئی تاہم اس طے شدہ ڈرامے کا ڈراپ سین یہی ہوا کہ مخدوم امین فہیم نے اپنی پارٹی چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ظاہر ہے جنرل پرویز مشرف اس پر ناراض ہوئے اور انہوں نے پیپلزپارٹی چھوڑنے کا دانہ اپنے ایف سی کالج کے زمانے کے دوست راؤ سکندر اقبال اور مخدوم فیصل صالح حیات کے سامنے پھینک دیا جو اُنہوں نے بڑی رغبت سے چن لیا یعنی راؤ سکندر اقبال، مخدوم فیصل صالح حیات سمیت دس رہنما بیک وقت پیپلز پارٹی چھوڑنے پر تیار ہوگئے ، تاثر یہ دیا گیا کہ ان رہنماؤں کو بے نظیر بھٹو کی آشیر باد حاصل ہے۔ یہ درست تھا یا جان بوجھ کر غلط تاثر دیا گیا تھا، اب اس بحث میں پڑنا بے فائدہ ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ راؤ سکندر اقبال مخدوم فیصل صالح حیات اور اُن کے آٹھ دوسرے ساتھی جمہوریت کو بچانے کیلئے پیپلزپارٹی چھوڑنے پر آمادہ ہوگئے، اس گروپ کا دعویٰ تھا کہ وہ جمہوریت کو بچانے اور ملک کے مفاد کی خاطر پارٹی سے الگ ہو رہے ہیں چونکہ یہ جذبہ محرکہ خالصتاً ملکی مفاد کی خاطر عود کر آیا تھا اس لئے پارٹی کا نام بھی اسم باسمیٰ رکھا گیا یعنی ’’پیپلز پارٹی پیٹریاٹس‘‘ آپ جانتے ہیں ہمارے ملک میں ہر غیر جمہوری کام یا تو جمہوریت کے نام پر ہوتا ہے یا پھر ملکی مفاد کی خاطر، مثال کے طور پر (گورنر جنرل) غلام محمد نے ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی جمہوریت کو مضبوط کرنے اور ملکی مفاد کی خاطر توڑی تھی۔ وزارتوں کا توڑ جوڑ ملکی مفاد اور جمہوریت کی خاطر ہوتا تھا، ری پبلکن پارٹی نے راتوں رات جمہوریت کی خاطر جنم لیا تھا۔ جنرل ایوب خان کو وردی میں وزیر دفاع جمہوریت کو مضبوط بنانے کیلئے بنایا گیا تھا۔ مفلوج گورنر جنرل غلام محمد سے استعفا جمہوریت کی خاطر لیا گیا تھا، سکندر مرزا نے مارشل لا جمہوریت کی خاطر نافذ کیا تھا ان کے ارادے کچھ اور تھے لیکن جنرل ایوب خان نے بیس دن بعد انہیں ملک سے ہی رخصت کردیا کہ ان کے نزدیک ملکی مفاد اسی میں مضمر تھا۔کہ وہ ملک کے اندر نہیں باہر رہیں یہاں تک کہ اُنہیں ملک میں دفن ہونے کی اجازت بھی نہ دی گئی اور ان کی اہلیہ ناہید اُن کا جسدِ خاکی ایران لے گئیں جہاں کے آب وگِل سے ان کا اپنا تعلق تھا ملکی مفاد اور جمہوریت کے لئے مخدوم فیصل حیات نے مسلم لیگ (ق) کی حکومت کا ساتھ دیا۔ ان کی حمایت سے ظفر اللہ جمالی ایک ووٹ سے وزیراعظم بنے اور اس وقت تک رہے۔ جب تک جنرل پرویز مشرف نے چاہا بعد میں انہیں آرمی ہاؤس طلب کرکے استعفا دینے کا حکم دیا گیا چونکہ وہ وزیراعظم کے ’’باس‘‘ تھے اور وزیراعظم کو ہمیشہ اس کا اعتراف رہا۔ اس لئے انہوں نے استعفا دیدیا البتہ تھوڑا سا حجاب رکھنے کیلئے اتنا تکلف ضرور کیا کہ استعفے کا اعلان مسلم لیگ (ق) کے اجلاس میں کیا اگر وہ آرمی ہاؤس ہی میں استعفا دے کر آ جاتے تو سارا پردہ چاک ہو جاتا۔ اور بھرم کھل جاتا ۔

فیصل صالح حیات اور ان کے ساتھی جنرل پرویز مشرف کے پورے عہد میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں شامل رہے۔ یہاں تک کہ 2008ء آگیا جب الیکشن ہوئے تو مسلم لیگ (ق) ہار گئی اور پیپلز پارٹی کی حکومت بن گئی۔ اس تمام عرصے میں فیصل صالح حیات اور ان کے ساتھی یوسف بے کارواں کی طرح پھرتے رہے بہت سے تو اب تک پھر رہے ہیں لیکن مخدوم صاحب خوش نصیب ہیں کہ پیپلز پارٹی نے انہیں دوبارہ قبول کرلیا ہے اب وہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح باقی پیٹریاٹس کو بھی اپنی اصلی جماعت میں واپس لے آئیں۔ فی الحال انہوں نے خود پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے اور اپنے رہنماؤں کو شاہ جیونہ بُلا کر ایک زبردست جلسے کا اہتمام بھی کر ڈالا جہاں آصف علی زرداری نے اعلان کیا کہ نواز شریف کو بھی جنرل پرویز مشرف کی طرح نکالا جائے گا۔ یہ چیلنج تو خوب ہے لیکن فیصل صالح حیات تو چھ سال تک جنرل پرویز مشرف کے وزیر رہے، معلوم نہیں انہیں یہ انداز کیسا لگا؟وہ زیرِ لب مسکرائے تو ہوں گے لیکن ملک و قوم کے مفاد کی خاطر یہ سب کرنا ، کہنا اور سننا پڑتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کس طرح نکلے یا نکالے گئے یہ داستان اگر کبھی خودجنرل پرویز مشرف سچ سچ بیان کریں تو بڑی توجہ سے سنی جائے گی۔

مزید :

تجزیہ -