سینیٹ ،قومی اسمبلی میں ’’پانامہ کا ہنگامہ ‘‘وزیر اعظم استعفیٰ دیں :متحدہ اپوزیشن

سینیٹ ،قومی اسمبلی میں ’’پانامہ کا ہنگامہ ‘‘وزیر اعظم استعفیٰ دیں :متحدہ ...

  

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک /ایجنسیاں) سینیٹ قومی اسمبلی کے اندر اور باہر ’’ پانامہ کا ہنگامہ ‘‘ ہوا ہے ۔مشترکہ اپوزیشن نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے جسے حکومت نے یکسر مسترد کر دیا ،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حزب اختلاف کی شدید نعرے بازی کی گئی ،ایجنڈا کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں ،سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کیا گیا۔ دونوں ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتے رہے ۔پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت کا سیاسی ماحول گرم ہو گیا،۔سینیٹ اور قومی اسمبلی میں شدید احتجاج اور ہلڑ بازی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس ہوئے جس میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھ کر شرکت کی دونوں ایوانوں میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور وزیراعظم استعفی دو کے نعرے لگائے گئے چیئر مین سینیٹ رضا ربانی کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں استعفی کے مطالبے پر متفق ہیں اس لئے وزیراعظم عہدے سے مستعفی ہوں۔ نواز شریف کی نااہلی کا 2 ججز نے بڑی دلیری سے فیصلہ دیا اور 3 ججوں نے اس فیصلے کی تردید نہیں کی بلکہ مزید تحقیقات کا حکم دیا، تین ججز نے بھی وزیراعظم کے خلاف بہت کچھ لکھا ہے، ججز نے فیصلے میں لکھا ہے کہ وزیراعظم اپنی صفائی پیش نہیں کر سکے لہذا اپوزیشن اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائے گی۔ تین ججزنے لکھا ہے کہ وزیراعظم ثبوت پیش نہیں کرسکے،قطری خطوط کے علاوہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، یہ خطوط مسترد کیے جا چکے وزیراعظم خود کونااہل تسلیم نہیں کرتے تواپوزیشن استعفے کامطالبہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پر دھبہ لگ چکا ہے۔ وزیر اعظم کے استعفے پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہو گئیں، ہم چوکوں اور چوراہوں میں اکٹھے لڑیں گے۔ ملک میں ایسی صورتحال ہے جو ایوان کے قائد سے متعلق ہے۔رہنما تحریک انصاف اعظم سواتی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نوازشریف کو ڈی سیٹ کرے ، قوم کی لوٹی ہوئی دولت چھپانے پر آج مٹھائی تقسیم کی جارہی ہے ،نوازشریف اخلاق اور قانونی طور پر وزیراعظم رہنے کا جواز کھوچکے ،ایک ہی آواز آئے گی نوازشریف استعفی دو۔اجلاس میں اپوزیشن کے شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔پاناما پیپرز پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں گرما گرمی دیکھنے میں آئی،اپوزیشن ارکان نے ایجنڈا کی کاپیاں پھاڑ دیں اورسپیکر کے ڈائس کا گھیراو کرلیا۔دوسری جانب حکومتی بینچوں پر ارکان کی حاضری کم رہی۔ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کااجلاس شروع ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے وزیراعظم سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم استعفی دیکر ایوان اور جمہوری نظام کو بچائیں کیونکہ جے آئی ٹی وزیراعظم سے تحقیقات نہیں کرسکتی 2 ججز نے وزیراعظم کو نااہل قراردیا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، شاہ محمود ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدبھی ایوان میں موجودتھے ۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت ختم کرو لیکن وزیر اعظم کو استعفی دینا چاہئے، وزیر اعظم فیصلہ کریں کہ اداروں کو بچانا چاہتے ہیں یا اپنے اقتدار کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور جمہوریت جب کمزور ہورہی تھی، اس وقت پیپلز پارٹی نوازشریف کے ساتھ کھڑی ہوئی ، اس وقت ہمارا موقف جمہوری تھا ، جس پر ہم آج بھی قائم ہیں، ہم نے ہمیشہ مثبت سیاست کی۔ ہمیں فرینڈلی اپوزیشن ہونے کا طعنہ دیا گیا لیکن ہم نے ہمیشہ جمہوریت کو سہارا دیا، اب ہمیں احتجاج کرنا پڑرہا ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ کل سپریم کورٹ کے دو ججز نے واضح فیصلہ دیدیا ہے، ہم جے آئی ٹی کو نہیں مانتے، وزیراعظم سے ان کے ماتحت کیا پوچھیں گے۔میڈیا سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے جے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی میں گریڈ19 کے افسران کیا کریں گے؟ آئی ایس آئی سے شریف برادران کا تعلق خاندانی ہے، اسٹیٹ بینک کا گورنر کیا تحقیقات کرے گا؟۔اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ٹھیک کہا کہ یہ فیصلہ یاد رکھا جائے گا، سلام کرتے ہیں ان دو ججوں کو جنہوں نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا۔میڈیا سے گفتگو میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے نوازشریف کرسی چھوڑ دیں، آزادانہ تحقیق کے لئے ضروری ہے کہ وزیر اعظم استعفی دیں۔سراج الحق نے کہا کہ جے آئی ٹی بنانا بہت بڑی بات ہے، کل عدالت نے وزیر اعظم کو کلیئر نہیں کیا، پاناما اسکینڈل کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہونا چاہئے، رائٹ اور لیفٹ کے بجائے رائٹ اور رانگ کی سیاست کرنی چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ کل کا دن تاریخی دن تھا، سپریم کورٹ نے حکومت وقت کے خلاف فیصلہ دیا کہ ان کے ثبوت قابل یقین نہیں ہیں، یہ فیصلہ کامیابی کی طرف پیش قدمی ہے، ملک کی ترقی کے لئے کرپشن کے خلاف جدوجہد جاری رکھنی چاہئے، جماعت اسلامی کرپشن کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔۔ حکومتی رکن شیخ آفتاب کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو عوام نے منتخب کیا ہے اور یہ اپوزیشن کی بھول ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے سے استعفی دیں گے۔ رانا تنویرکا کہنا تھا کہ اگراپوزیشن اراکین بات کرنا چاہتے ہیں تو قاعدے و قوانین کے مطابق پہلے سوالنامہ پیش کیا جائے اور اس پر رائے لی جائے جس کے بعد اس سے متعلق فیصلہ کریں گے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شیخ آفتاب نے کہا کہ وزیر اعظم کے حق میں فیصلہ سن کر یہ لوگ مایوس ہوگئے ہیں،اور بلا جواز واو یلاکر رہے ہیں ،اپوزیشن بھول جائے کہ وزیراعظم استعفا دینگے ۔شیخ آفتاب کا جارحانہ خطاب جاری تھا تو اپوزیشن ارکان ڈپٹی سپیکر کی ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر خوب نعرے بازی کی ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان کو بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن ارکان نے شورشرابہ شروع کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں جس سے ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ ڈپٹی سپیکر اپوزیشن اراکین کو نشستوں پر بیٹھنے کا بار بار بولتے رہے لیکن کسی نے ایک نہ سنی ۔ اپوزیشن کا شور شرابا جاری رہا ، ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔ پارلیمان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کے چیف ایگزیکیٹو کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے ایسے سخت تبصرے کیے گئے ہوں۔انھوں نے سوال کیا کہ فیصلے میں ججوں کی جانب سے کہی گئی باتوں کے بعد وہ کس منہ سے عوام میں جانا چاہتے ہیں۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو وہ کہتی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، تو یہ ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے ان کے خلاف تحقیقات کر سکتے ہیں؟۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں بات کرنا ان کا حق تھا جو انھیں نہیں ملا اور وہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں جلسہ منعقد کریں گے۔سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی پارلیمانی جماعتوں کااجلاس خورشید شاہ اور اعتزاز احسن کی سربراہی میں ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم سے مستعفی ہونیکا مطالبہ کردیا۔اجلاس میں پاناما پیپرز کے فیصلے پر مشاورت کی گئی اور اپوزیشن نے سینٹ اور قومی اسمبلی میں وزیر اعظم سے مستفی ہونے کا مطالبے سمیت معاملے ہر پر بھر پور احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔سراج الحق، شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری بھی اجلاس میں شریک تھے تاہم عمران خان نے اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سوائے حکومت کے تمام جماعتوں کو پاناما کیس فیصلہ سمجھ آ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی ہو جائیں گے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کو آج دونوں ایوانوں میں بھرپور احتجاج کرنا چاہیئے۔سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کی پارلیمنٹ ہاس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تمام جماعتیں حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بنائیں۔اپنے برجستہ انداز میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ دو مضمونوں میں فیل ہوئے اور تین میں سپلی آنے کے بعد بھی پپو پاس ہو گیا۔سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو فوری طور مستعفی ہو جانا چاہیئے اور اس مطالبے پر تمام جماعتیں متفق ہیں۔ عمران خان نے پانامہ کیس کی شفاف تحقیقات کیلئے وزیر اعظم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے آمدہ جمعہ پر اسلام آبادمیں جلسے اور ریلی کا اعلان کیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کے چیف ایگزیکیٹو کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے ایسے سخت تبصرے کیے گئے ہوں۔انھوں نے سوال کیا کہ فیصلے میں ججوں کی جانب سے کہی گئی باتوں کے بعد وہ کس منہ سے عوام میں جانا چاہتے ہیں۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو وہ کہتی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، تو یہ ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے ان کے خلاف تحقیقات کر سکتے ہیں؟۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں بات کرنا ان کا حق تھا جو انھیں نہیں ملا اور وہ آئندہ جمعہ کو اسلام آباد میں جلسہ منعقد کریں گے۔۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی صرف اس وقت کامیاب ہوگی جب نوازشریف وزیراعظم نہ ہو۔ عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیرا عظم پر تاریخی ریمارکس دیئے، دنیا میں کسی بھی ملک میں ایسا فیصلہ آتا تو حکمراں پارٹی خود وزیراعظم سے استعفا لیتی، ن لیگ کس منہ سے عوام کے سامنے جائیگی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا کہا، دو ججز نے کہا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں ، سپریم کورٹ نے قطری کا خط رد کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے۔عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم اخلاقی قوت سے حکومت کرتا ہے، ڈیوڈ کیمرون نے اخلاقی بنیاد پر عہدے سے استعفی دیا۔ ہم نے تمام اپوزیشن کو ساتھ چلنے کی دعوت دی ہے،عدالت نے مریم نواز کو بھی کلین چٹ نہیں دی ، نیلسن اور نیسکول کے بینیفشری اونر کا پتہ چلانے کا کہا ہے عدالت نے ہمارے الزامات پر جے آئی ٹی بنائی ہے، ایک طرف سپریم کورٹ کہتی ہے کہ انصاف کے ادارے مفلوج ہو گئے ہیں، نیب کی کارکردگی سب کے سامنے ہے تو اب یہ ہی ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے تحقیقات کریں گے، اداروں نے کام کرنا ہوتا تو نوازشریف کب کے پکڑے جا چکے ہوتے۔ خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ نواز شریف کو سہارا دینے کا طعنہ دیا گیا لیکن درحقیقت ان کی جماعت نے ہمیشہ جمہوریت اور اداروں کا ساتھ دیا،آج ہم بھی کہہ رہے ہیں استعفیٰ دو۔ میڈیا سے گفتگو میں خورشید شاہ نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتی۔ہم نے پہلے کہا تھا کہ نہ دو استعفی۔ لیکن آج ہم کہہ رہے ہیں کہ استعفی دو۔ پارلیمان اور اداروں کو بچا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ بالکل نہیں کہ رہے کہ حکومت ختم کرو۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اداروں کو بچانا چاہتے ہیں یا اقتدار کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ نواز شریف کو سہارا دینے کا طعنہ دیا گیا لیکن درحقیقت ان کی جماعت نے ہمیشہ جمہوریت اور اداروں کا ساتھ دیا۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ فیصلے میں سپریم کورٹ کے دو ججوں نہ واضح اور دو ٹوک الفاظ میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا جبکہ تین ججوں نے اس کی تردید نہیں کی، بس یہ کہا کہ جے آئی ٹی بنادی جائے۔ ریاستیں اداروں کے مضبوط ہونے سے ہی مضبوط ہوتی ہیں اور وہ اس جے آئی ٹی کو نہیں مانتے خورشید شاہ نے کہا ہم جے آئی ٹی نہیں مانتیمیں کہوں گا کہ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ وہ گریڈ 19 کا افسر کیسے اپنے مالک کی تفتیش کرے گا۔ یہ کیسی تفتیش ہوگی؟ خدا کو مانو۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ کا حصہ ہے، سپریم کورٹ شریف خاندان پر نرم ہاتھ رکھتی ہے اور 'مریم نواز جو سارے مسئلہ کا منبع ہیں انہیں جے آئی ٹی سے پہلے ہی فارغ کر دیا گیا۔اعتزاز احسن نے کہا سپریم کورٹ نے درست کہا فیصلہ برسوں یار رکھا جائے گا،شریف برادران پر نرم ہاتھ رکھا جاتا ہے،سپریم کورٹ کے دونوں ججوں کو سلام پیش کرتے ہیں جوجے آئی ٹی کو مسترد کرتے ہیں،جوڈیشل کمیشن بنتا تو نوازشریف خود پیش ہوتے تو مزاآتا،نوازشریف سے جرح کرتے اور ان کے بچوں سے جرح کرتے،قطری کاغذ ایک ردی کا ٹکڑا ہے۔اپوزیشن کی پارلیمانی جماعتوں کااجلاس خورشید شاہ اور اعتزاز احسن کی سربراہی میں ہوا اجلاس میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری اجلاس میں شریک تھے تاہم عمران خان نے اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی۔اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم سے مستعفی ہونیکا مطالبہ کیاا ور جے آئی ٹی مسترد کر دی۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے سینیٹ اور قومی اسمبلی اجلاسوں میں بھرپور احتجاج کافیصلہ کیا ہے۔قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ تمام جماعتوں کا موقف بہت واضح ہے، حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے مشترکہ پیغام جانا چاہیے، ہمیں احتجاج کرنا چاہیے۔ نواز شریف استعفا دے کر پارلیمنٹ کو بچائیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ ہم سسٹم گرانا نہیں چاہتے لیکن وزیر اعظم کو گھر جانا پڑے گا، ہم جے آئی ٹی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ٗ مسترد کرتے ہیں ٗسپریم کورٹ نے ان اداروں کو تہس نہس کیاہے ٗحکومت کے ماتحت افسران کیا تحقیقات کریں گے؟نجی ٹی وی کے مطابق شیخ رشید نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو وزیراعظم کے استعفے کیلئے گرینڈ الائنس بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اکٹھی ہوگئی ہے اور مل کر وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگیں گے۔

سینیٹ قومی اسمبلی احتجاج

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک/ ایجنسیاں) تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پانامہ کیس کی شفاف تحقیقات کیلئے وزیر اعظم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے آمدہ جمعہ پر اسلام آبادمیں جلسے اور ریلی کا اعلان کیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے ایسے سخت تبصرے کیے گئے ہوں۔اچیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو وہ کہتی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، تو یہ ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے ان کے خلاف تحقیقات کر سکتے ہیں؟۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں بات کرنا ان کا حق تھا جو انھیں نہیں ملا اور وہ آئندہ جمعہ کو اسلام آباد میں جلسہ منعقد کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی صرف اس وقت کامیاب ہوگی جب نوازشریف وزیراعظم نہ ہو۔ عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیرا عظم پر تاریخی ریمارکس دیئے، دنیا میں کسی بھی ملک میں ایسا فیصلہ آتا تو حکمراں پارٹی خود وزیراعظم سے استعفی لیتی، ن لیگ کس منہ سے عوام کے سامنے جائیگی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا کہا، دو ججز نے کہا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں ہیں، سپریم کورٹ نے قطری کا خط رد کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے۔عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم اخلاقی قوت سے حکومت کرتا ہے، ڈیوڈ کیمرون نے اخلاقی بنیاد پر عہدے سے استعفی دیا ہم نے تمام اپوزیشن کو ساتھ چلنے کی دعوت دی ہے، ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ عدالت نے مریم نواز کو بھی کلین چٹ نہیں دی ، نیلسن اور نیسکول کے بینیفشری اونر کا پتہ چلانے کا کہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ عدالت نے ہمارے الزامات پر جے آئی ٹی بنائی ہے، ایک طرف سپریم کورٹ کہتی ہے کہ انصاف کے ادارے مفلوج ہو گئے ہیں، نیب کی کارکردگی سب کے سامنے ہے تو اب یہ ہی ادارے نواز شریف کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کیسے تحقیقات کریں گے، اداروں نے کام کرنا ہوتا تو نوازشریف کب کے پکڑے جا چکے ہوتے

مزید :

کراچی صفحہ اول -