گندم خریداری میں تاخیری حربے، نرخوں کا شدید بحران، باردانہ تقسیم پر جھگڑے

گندم خریداری میں تاخیری حربے، نرخوں کا شدید بحران، باردانہ تقسیم پر جھگڑے

  

ملتان، ٹھٹھہ صادق آباد، قطب پور، ڈہرکی ، کوٹ چھٹہ(سپیشل رپورٹر، نمائندہ گان) گندم کی سرکاری خریداری کے حوالے سے تاخری حربے جاری ہیں، جنوبی پنجاب میں نرخوں کا شدید ترین بحران باردانہ کی تقسیم میں دھکم پیل ہاتھاپائی باردانہ بیوپاریوں میں فروخت کرنے پر کسانوں کا احتجاج ، سنٹرکوارڈینیٹر کی چھترول کرڈالی۔ اس سلسلے میں ملتان سے سپیشل رپورٹر کے مطابقمحکمہ خوراک کی جانب سے سرکاری سطح پر گندم خریداری کے حوالے سے تاخیری حربوں کا سلسلہ بدستور جاری،باردانہ اجراء بارے 23اپریل کی تاریخ بھی فرضی نکلی ۔اس ضمن میں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ضلع ملتان سمیت ملتان ڈویثرن کے دیگر اضلاع میں گندم خریداری مراکز پر انتظامات مکمل نہ ہونے کے باعث محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی سرکاری سطح پر خریداری کے حوالے سے تاخیری حربوں کا سلسلہ جاری ہے اس ضمن میں ملتان میں باردانہ اجراء کیلئے 23اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی تھی مگر باردانہ 23اپریل کی بجائے 25اپریل سے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔محکمہ خوراک کے ذرائع کے مطابق 23اپریل کو گندم خریداری مراکز فعال کردیئے جائیں گے اور کسانوں کو باردانہ اجراء کیلئے درخواستیں 24اپریل سے وصول کرنا شروع کی جائیں گی کیونکہ اتوار کی چھٹی کے باعث بنک بند ہونے سے کاشتکار کال ڈیپازٹ نہیں بنوا پائیں گے ۔24اپریل کو وصول کی جانے والی درخواستوں پر باردانہ کا اجراء 25اپریل سے شروع کیا جائے گا تاہم تاحال گندم خریداری کی تاریخ بھی مقرر نہیں کی گئی مذکورہ صورتحال کے باعث کاشتکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔متاثرہ کسانوں نے وزیر اعلی پنجاب سے مذکورہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔دریں اثنائجنوبی پنجاب میں سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کاعمل شروع نہ ہونے پر نرخوں کاشدید ترین بحران پیدا ہونا شروع ہوگیا ہے کسانوں کواپنے فصل اونے پونے آڑھتیوں اور بیوپاریوں کوفروخت کرنا پڑرہی ہے جو گیارہ سوروپے سے لیکر ساڑھے گیارہ سو روپے فی من تک خریدکرنے لگے ہیں جبک سرکاری ریٹ 13سوروپے فی من ہے اس طرح فی من دو سوروپے کم پر گندم فروخت کرکے کسان بھاری نقصان کرنے لگے ہیں گندم کے کاشتکاروں نے حکومت پنجاب کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کسان پہلے فصل کپاس میں نرخوں کے بحران سے معاشی طور پر بدحال ہوچکے ہیں اب دوبارہ گندم کی فصل میں نرخوں کابحران پیدا کرکے کسانوں کوذلیل وخوار کیا جارہا ہے محکمہ خوراک اور پاسکو کو جلد ازجلد خریداری کرنے کاپابندبنایا جائے ورنہ کسان سڑکوں پر آجائیں گئے۔ٹھٹھہ صادق آباد سے نمائندہ پاکستان کے مطابق محکمہ خوراک خانیوال کی طرف سے 15اپریل سے باردانہ کی فراہمی،20اپریل سے گندم خریداری شروع کرنے کے دعوے جھوٹ ثابت ہوئے ہیں،فوڈ سنٹر ٹھٹھہ صادق آباد،فوڈ سنٹر جہانیاں پر گندم باردانہ کی فراہمی اور خریداری کے کوئی انتظامات نہ کیے جاسکے ہیں، ٹھٹھہ صادق آباد جہانیاں کے فوڈسنٹروں پر انتظامات تاخیر کا شکار ہیں،غریب کسان اونے پونے داموں مڈل مین کے ہاتھوں گندم فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ دریں اثناء ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر خانیوال احمد جاوید کی طرف سے فوڈ سنٹر ٹھٹھہ صادق آباد پر فوڈ انسپکٹر رانا ذالفقار علی کو انچارج تعینات کیا گیا مگر رانا ذوالفقار علی نے سنٹرکا چارج سنبھالنے سے معذرت کرتے ہوئے ایل پی آر چھٹی لے لی ہے،جبکہ اس کی جگہ فوڈ انسپکٹر ملک قاسم کو فوڈ سنٹر ٹھٹھہ صادق آباد تعینات کیا گیا ملک قاسم فوڈ انسپکٹر نے بھی چارج سنبھالنے سے قبل ہی اپنا تبدلہ ضلع لودھراں کروالیا ہے،یکے بعد ددیگر ے 2فوڈ انسپکٹرتبدیل ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر خانیوال نے فوڈ سپر وائزرعبدالرشید کو فوڈ سنٹر ٹھٹھہ صادق آباد تعینات کرد یا ہے۔قطب پور سے نامہ نگار کے مطابقمقامی مرز گندم خرید پر باردانے کی تقسیم کا پہلا دن ۔ناقص انتظامات ،دھکم پیل کے بعد ہاتھا پائی ۔لائن توڑ کر گھسنے پر جھگڑا ہو ا ۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پایا ۔نمبر لگانے میں بندر بانٹ کی جا رہی ہے ۔یہی صوتحال رہی تو روڈ بلاک کر دیں گے کاشتکاروں کی دھمکی ۔حکومت پنجاب نے 21اپریل سے گندم خریداری کے لیے مراکز گندم خرید پر مرحلہ وار سسٹم چالو کر دیا ہے ۔قطب پور سنٹر پر ناقص انتظام کے باعث مارپیٹ شروع ہو گئی ۔حالات کشیدگی پر تھانہ صدر پولیس کے اے ایس آئی عمران گجر نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پایا ۔اس موقع پر کاشتکاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ نمبر لگانے میں من پسند ،چہیتوں اور مدل مینوں کو نوازا جا رہا ہے ۔جس کی ہم شید مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر یہ روش تبدیل نہ کی گئی تو خانیوال لودہراں روڈ بلاک کر دیں گے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ سنٹر پر تعینات کوارڈینٹر کاشتکاروں کو نظر انداز کرتے ہوئے مڈل مینوں کو نواز رہا ہے ۔ ڈہرکی کے نامہ نگار کے مطابقڈہرکی اورآس پاس کے علاقوں ریتی،کھینجو،کموں شہید،رونتی،کھوہ نمبر8، اوردیگرکئی علاقوں کے سینکڑوں کاشتکاروں شاہ میرکوبھر،فداحسین نیازی،بخت علی،رسول بخش بھٹو،محمد افضل آرائیں،نظیر احمد راجڑی،محمد سلیم راجڑی اوردیگر کی سربراہی میں سخت احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے محکمہ فوڈ کے افسران کے خلاف شدیدنعرے بازی کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ہماری گندم کی کٹائی مکمل ہونے کے بعد ہم لوگ سرکاری گداموں میں اپنی گندم پہچانے کیلئے باردانہ حاصل کرنے کے سلسلہ میں پچھلے کئی ہفتوں سے محکمہ فوڈکے مقامی اورضلعی دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ہمیں نہ تو کسی سرکاری سینٹرپر کوئی فوڈ انسپیکٹر ملتا ہے اور نہ ہی ہمیں محکمہ فوڈکی طرف سے ایک بھی خالی بوری نہیں مل سکی ہے اور سرکاری طور پرگندم خریدنے کے مقررکیئے گئے تمام سرکاری مراکز بھی بند پڑے ہوئے ہیں انہوں نے مذید بتایا ہے کہ محکمہ فوڈکے مقامی اور ضلعی راشی افسران نے راھول جو رونتی سینٹر کا فوڈ انسپیکٹر ہے اسکے والد کرپشن کے بے تاج بادشاہ بدنام زمانہ نام چند عرف ناموں مل جوکہ ایک بااثر سیاسی گروپ سے بھی تعلق رکھتا ہے اسے سیاہ سفید کا مالک بنا کرکاشتکاروں پر غیر قانونی طور پر ضلعی انچار ج مسلط کیا گیا ہے اورہمیں باردانہ دینے کے بجائے اس پرائیویٹ بااثرشخص کو گندم کی لاکھوں خالی بوریا ں (باردانہ) فراہم کیا گیا ہے۔مقامی اور غیر مقامی بیوپاریوں سے سرعام بھاری رقم لے کرانہیں سرکاری باردانہ فروخت کررہا ہے کاشتکاروں نے اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرہمیں اپنی گندم سرکاری گداموں میں پہچانے کیلئے خالی بوریاں نہ دی گئیں تو ہم اپنی گندم ٹریکٹر ٹرالیوں میں بھر کر محکمہ فوڈ کے ضلعی افسر کی آفس کے سامنے گندم کو آگ لگا کر جلا دیں گے۔کوٹ چھٹہ سے نمائندہ پاکستان کے مطابق فوڈ سنٹرکوٹ چھٹہ پرسنٹر کوآرڈینٹرفضل الرحمن شاہ باردانہ کاشتکاروں کے بجائے آڑھتیوں کودینے میں مصروف تھا ۔درجنوں زمیدار اور کاشتکاروں نے دھاوا بولتے ہو سنٹر کوارڈنیٹرفضل الرحمن کی چھترول کر ڈالی ۔کوارڈینٹر جوتے چھوڑ کر بھاگ کے فوڈ انسپکٹرکے کمرہ میں گھس کر دروازہ بند کر کے جان بچائی۔فوری طور پر تحصیل انتظامیہ اور پولیس کو اطلاع دی گئی ،اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ عبدالجبار کھوکھراور ڈی ایس پی کوٹ چھٹہ رانا جان محمد بھاری پولیس نفری کے ہمراہ پہنچ کر کاشتکاروں سے مذاکرات کرکے منتشر کیا اور کاشتکاروں کو یقین دلایا گیا کہ دوبارہ آپ کا حق تلف نہیں ہونے دیں گے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر کوٹ چھٹہ نے کوآرڈینٹر فضل الرحمن شاہ کو سخت ہدایت کی باردانہ کاشتکاروں کا ہی ہے اور ہر صورت انہیں ہی دیا جائے اگر دوبارہ آڑھتی کو دیا گیا تو میں ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان اللہ رکھا کو رپورٹ کر دوں گا ۔اس موقع پر زمیداروں اور کا شتکاروں صحافیوں کو کہا کہ سنٹر کوآرڈینٹر فصل الرحمن شاہ انتہائی کرپٹ آفیسر ہے دو دن سے سنٹر پر بادانہ میڈل مین اور آڑھتیوں کو نوازنے میں مصروف ہے۔

خانیوال ، وہاڑی، کوٹ ادو، خانگڑھ ، رحیم یار خان، ہیڈ راجکاں، گڑھ مہاراجہ، تونسہ شریف( نمائندگان) کمشنر ملتان ، کمشنر ڈیرہ غازیخان اور مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ فوڈ کے افسران کی جانب سے مختلف خریداری مراکز کے دورے ، انتظامات کا جائزہ اجلاس کا انعقاد اور گندم خریداری کی حکومتی پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ۔ اس سلسلے میں خانیوال سے نمائندہ پاکستان کے مطابق کمشنر ملتان ڈویثرن بلال احمد بٹ نے گندم خریداری مراکز خانیوال او رجودھ پور کبیروالا کا اچانک معائنہ کیا اور وہا ں پر گندم خریداری مہم کے لیے کیے جانیوالے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر مظفر خان سیال ‘ڈی پی او جہانزیب نذیر خان ‘اسسٹنٹ کمشنرز آغا ظہیر عباس شیرازی ‘شاہدعباس کاٹھیہ او رڈی ایف سی احمد جاوید ودیگر سرکاری افسران بھی ان کے ہمراہ تھے ۔کمشنر بلال احمد بٹ نے اس موقع پر گندم خریداری مراکز پر تعینات گوآرڈینٹرز اور سنٹر انچارجز کو ہدایت کی کہ گندم خریداری مہم میں سو فیصد میرٹ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی دباؤ کے بغیر کاشتکاروں کو باردانہ پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر فراہم کیا جائے لائن توڑنے اور گڑبڑ کرنیوالوں کیساتھ سختی سے نمٹا جائے ۔کمشنر بلال احمد بٹ نے کہاکہ عام مارکیٹ میں بھی گندم کی قیمت 1300روپے فی من سے کم نہیں ہونے دی جائیگی اور سرکاری ریٹ پر عملدرآمد کروایا جائیگا۔وہاڑی سے بیورو رپورٹ +نما ئندہ خصوصی کے مطابق ڈپٹی کمشنر وہاڑی علی اکبر بھٹی نے کہا ہے کہ کسانوں سے گندم کی خر ید اری کے لیے انتظا ما ت کو حتمی شکل دے دی گئی ہے تحصیل وہاڑی میں محکمہ خوراک کی طرف سے 15لاکھ 40ہزار بوری گندم خر ید نے کے لیے 12خر ید اری مراکز قا ئم کئے گئے ہیں یہ با ت انہوں نے میڈ یا کو بر یفنگ دیئے ہو ئے کہی ڈپٹی کمشنر علی اکبر بھٹی نے کہا کہ حکو مت پنجاب نے گندم خرید اری مر اکز پر کا شتکا روں کے حقو ق کے تحفظ کے لیے نیب اور محکمہ انسدادرشو ت ستا نی کو بھی ما نیٹر نگ کی ہد ایت کی ہے میڈل مین کے کر دار کی حو صلہ شکنی کے لیے گر داوری کی بنیا د پر با ر دانہ کا اجر اء کیا جا ئے گا اور خر ید اری مر اکز پر سنٹر کوارڈینیٹر تعینا ت کئے گئے ہیں جو 23اپریل سے کا شتکا روں کا اندراج شر وع کر دیں گے اور باردانہ پہلے آئے اور پہلے پا ئے کی بنیا د پر جاری کیا جا ئے گا گر دواری فہر ستوں پر کا شتکا روں کے اعتراض کو مو قع پر ہی دور کیا جا ئے گا سنٹرز پر کسان تنظیموں کے نما ئندے اور ممبر ان اسمبلی کے نما ئندے بھی کسا نوں کی سہو لت کے لیے مو جود رہیں گے ڈپٹی کمشنر علی اکبربھٹی نے کہا کہ ایک ایکٹر کے لیے 10خالی بیگ کا شتکا روں کو دیئے جا ئیں گے جبکہ 9روپے با ر برادری کی مد میں ادا ہو ں گے تما م ادائیگیاں بنک کے ذریعہ ہوں گی اور تمام خر ید اری شفا ف انداز میں کی جا ئے گی۔ کوٹ ادو، خانگڑھ سے تحصیل رپورٹر، نامہ نگار کے مطابقگندم کے چھوٹے کاشتکاروں باردانے کی تقسیم میرٹ پر کی جائے گی، حکومت پنجاب کی ہدایت کی مطابق چھوٹے کاشتکاروں کو ترجیح بنیادوں پر باردانہ تقسیم کیا جائے گا، اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا سستی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی، یہ بات ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ محمد سیف انور نے تحصیل کوٹ ادو کے نواحی علاقے پتل منڈا میں گندم خریداری مرکز کا باردانے کی تقسیم کے عمل کا معائنہ کرتے ہوئے کہی، انہوں نے سنٹر کواڈینیٹر کو ہدایت کی کہ باردانے کی تقسیم کے عمل کو نہایت شفاف بنایا جائے ، کسی کی سفارش کو خاطر میں نہ لایا جائے ، کاشتکاروں کے مسائل کو شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔رحیم یار خان سے بیورورپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر سقراط امان رانا نے تحصیل صادق آباد میں قائم گندم خریداری مراکز کا دورہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ گندم خریداری مہم کے دوران تمام مراکز پر حکومتی پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور کاشتکاروں کے بیٹھنے کے لئے کرسیاں، سایہ دار جگہ، پینے کا صاف ٹھنڈا پانی، جنریٹر اور صفائی ستھرائی کو ہمہ وقت برقرار رکھا جائے۔انہوں نے سینٹرز کوارڈینیٹرز اور انچارجز کو ہدایت کی کہ خریداری مراکز پر باردانہ کی تقسیم کے وقت کسانوں کو دھوپ میں کھڑا نہ کیا جائے اور باردانہ کی تقسیم کو پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر شفاف انداز سے نمٹایا جائے۔ہیڈراجکاں سے نامہ نگار کے مطابق اس سال مرکز خرید گندم ہیڈراجکاں میں ایک لاکھ بیس ہزار گندم کی بوری خریدی جائے گی، 23اپریل سے گندم کی خریداری باقاعدہ شروع ہوجائے گی، ان خیالات کا اظہار انچارج مرکز خرید گندم ہیڈرجکاںآغا ہارون نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا،انہوں نے کہا کہ باردانہ اصل کاشت کار کو اس کے شناختی کارڈ پر مہیا کیا جارہاہے،ایک ہزار سے زاہد کاشتکاروں نے باردانہ کیلئے درخواستیں جمع کر وا دی ہیں، جو کہ شفاف طریقہ سے جمع کئی گئی، گندم کی خریداری کا عمل شفاف ہوگا۔ گڑھ مہاراجہ سے نامہ نگار کے مطابق اے ڈی سی جی جھنگ سجاد احمد،ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ فیصل آباد چوہدری جاوید،ڈی ایف سی جھنگ محمد اسلم دھول ،اسٹنٹ کمشنر احمدپور سیال ضمیر حسین ،ایس ایچ او گڑھ مہاراجہ اسرار احمد سہو ،نائب تحصیلدار قاری محمد یونس نے گزشتہ روز اچانک مراکز خریداری گندم احمد پور سیال،گڑھ موڑ،کوٹ بہادر شاہ کا دورہ کیا جہاں پر باردانہ کا اجراء اور گوداموں کا جائزہ لیا بعد ازں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں اورکاشتکاروں سے گندم کی خرید آخری دانہ تک کی جائے گی مڈل مینوں اور بیوپاریوں کا داخلہ ممنوع ہے چھوٹے کا شتکار کو ترجیح دی جائے گی مزید برآں باردانہ کے اجراء کا طریقہ کار کا معائنہ کیا جو تسلی بخش پایا جبکہ مرکز خرید گندم گڑھ موڑ سیٹ ون کے سنٹر کوآرڈینیٹر ڈاکٹر طاہر کو تبدیل کرکے گورنمنٹ ہائی سکول سلطان باہو کے ہیڈ ماسٹر گل شیر گرواہ کوبطور سنٹر کوآرڈینیٹر مقر ر کردیا گیا ۔تونسہ شریف سے تحصیل رپورٹر کے مطابق.کمشنر ڈیرہ غازیخان ڈویژن اللہ رکھا انجم نے تحصیل تونسہ کے گندم خریداری مراکز کا اچانک معائنہ کیا. کاشتکاروں کے شناختی کارڈ چیک کرتے ہوئے خود بار دانہ کے ٹوکن جاری کیے. انہوں نے فراہم سہولیات کا بھی جائزہ لیا. کاشتکاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کمشنر نے کہاکہ کسی کو کاشتکار کااستحصال نہیں کرنے دیں گے . پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر فی ایکڑ کے حساب سے پہلے 15روز 60فیصد باردانہ جاری کیا جائے گا . گندم خریداری عمل بغیر کسی تاخیر کے روزانہ صبح آٹھ سے پانچ بجے دن تک جاری رکھا جائے گا. گندم کی خریداری 25اپریل سے شروع ہو گی اور سنٹر کی حدود میں داخل ہونے والی ہر گاڑیوں کو اسی روز ان لوڈ کیا جائیگا. کمشنر اللہ رکھا انجم نے کہاکہ گندم خریداری مراکز پر مڈل مین اور آڑھتی کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -