تخت بھائی، پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کردیا

تخت بھائی، پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کردیا

  

تخت بھائی (نامہ نگار) تخت بھائی سرکل پولیس نے پولیس گردی کا مظاہر ہ کرکے گھر پر چھاپہ مارکر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا ۔ پولیس نے خواتین کو گالیاں دیکر توہین کردی۔ پولیس نے اپنے ساتھ پانچ لاکھ روپے نقد اور پانچ تولے طلائی زیوارات لے کرگھر میں توڑ پھوڑ کردی متاثرین کا الزام۔ تخت بھائی کے علاقے پرخوڈھیری کے رہائشی یونس خان ولد ناصر خان نے اپنی بھابی زوجہ اقبال اور اپنی چچی زوجہ رشید خان کے ہمراہ میڈیا کلب تخت بھائی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تخت بھائی سرکل پولیس کے اے ۔ایس ۔ پی علی بن طارق نے اغوا کاروں کا روپ دھار کر میرے بے گناء بھائی اقبال کو اٹھاکر نامعلوم مقام منتقل کردیا ۔ میں اے ۔ ایس ۔ پی سرکل تخت بھائی علی بن طارق کے دفتر جا کر اپنے بھائی کے متعلق دریافت کرنا چاہا تو اے ۔ ایس ۔ پی نے مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر اپنے دفتر سے باہر نکالا اور بعد ازاں پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ہمارے گھر پر لیڈیز پولیس اور سرچ وارنٹ کے بغیر چھاپہ مارکر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر نے کے علاوہ خواتین کو گالیاں دیکر بے خرمتی کی اور گھر میں توڑ پھوڑ کرکے اپنے ساتھ پانچ لاکھ روپے نقد اور پانچ تولے طلائی زیوارات لے اڑے ۔پولیس نے جاتے ہوئے زبردست ہوئی فائرنگ بھی کی ۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک،چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، آئی ۔جی ۔ پی ، ڈی ۔ آئی ۔جی ، ڈی ۔پی ۔ او مردان سے نوٹس لینے اور پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور اپنے بے گناء بھائی کو جلد از جلد رہا کرنے کی اپیل کی ہے ۔ بصورت دیگر ہم وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے خود سوزی کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -