تعلیمی اداروں کے قیام سے اہداف حاصل کر لئے :ڈاکٹر دائود

تعلیمی اداروں کے قیام سے اہداف حاصل کر لئے :ڈاکٹر دائود

  

پشاور( سٹاف رپورٹر )خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور کے بانی وائس چانسلر پروفسیر ڈاکٹر محمدداؤد خان نے کہا ہے کہ کے ایم یوکے زیر انتظام صحت کے مختلف شعیبوں میں تعلیمی اداروں کے قیام کے ذریعے دس سال کے مختصر عرصے میں جو اہداف حاصل کئے گئے ہیں۔انکے اثرات بہترین طبی خدمات کی صورت میں معاشرے کے عام افراد تک پہنچنے چاہیں ۔ وہ کے ایم یوکے زیر اہتمام یونیورسٹی کی دس سالہ تقریبات کے سلسلے میں کیک کاٹنے کی خصوصی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفسیرڈاکٹرمحمد حفیظ اللہ رجسٹر ار پروفیسر ڈاکٹرمحمد سیلم گنڈاپور اور دیگر اعلیٰ حکام ، کنڑولر امتحانا ت ، ڈائریکٹرفنانس اور ڈاکٹر ڈائریکٹڑ اکیڈیمکس کے علاوہ فیکلٹی اورایڈمن سٹاف ایک بڑی تعدادبھی موجود تھی۔ پروفسیرڈاکٹرمحمدداؤد خان نے کہا کہ کے ایم یوکی موجودہ قابل رشک ترقی اورکامیابیوں کو دیکھ کر دل کوسکون اورآنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ آج سے دس سال قبل کے ایم یو نے انتہائی محدود وسائل اورکسمپرسی کی حالت میں جس سفر کا آغاز کیا تھا آج اسے صوبے کی پرانی اوربڑی جامعات کی صفوں میں نمایاں پوزیشن پر دیکھ کر سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ۔ انھوں نے کہا کی صوبے اور ملحقہ قبائلی علاقوں کو ان دنوں صحت کے شعبے جن مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنا اوراس ضمن میں ایک قابل عمل تعلیمی اور تحقیقی لائحہ عمل کی تشکیل نہ صرف وقت کی ضروت ہے بلکہ یہ کے ایم یو کے مینڈیٹ اورمقاصد کاایک بنیادی عنصر بھی ہے۔ پروفیسر داؤ د خان نے کہا کہ طے شدہ اہداف کے حصول پراللہ تعالیٰ کاشکر بجالانے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی قیادت کومستقبل کے دوبڑے چیلنجز منیجمنٹ سکلز اور مختلف امراض کے خلاف حفاظتی تدابیر کے ضمن میں بعض واضح اوردوٹوک اقدامات اٹھائے ہونگے۔انہوں نے کہا کے ایم یو کو دس سالہ کامیابیوں کاعشرہ منانے اور اس ضمن میں یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر حفیظ اللہ کے کردار اورقائدان صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ کے ایم یو کے تحت حاصل ہونے والی علمی اور تحقیقی کامیابیوں کو مفاد عامہ کے لئے بروئے کار لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاجائیگا۔قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر حفیظ اللہ نے کہاکہ کے ایم یو نے پروفیسر محمد داؤد خان کی قیاد ت میں جس سفر کاآغاز ایک ننھے پودے کی حیثیت سے کیاتھا وہ پودا اب ایک تناور سایہ دار درخت بن چکاہے۔ انہوں نے کہا ایک کمرے سے شروع ہونے والا یہ سفر آج دس سال بعد یونیورسٹی کے ساتھ کیمپسزکے آٹھ انسٹی ٹیوٹس کے علاوہ 35 الحاق شدہ تعلیمی داروں کے ایک بڑی نیٹ ورک اورخاندان پر مشتمل ہے جس کے ساتھ میڈیکل ایجوکیشن، ہیلتھ ریسرچ اور بیسک میڈیکل سائنسز کے ہزاروں طلباء وطالبات منسلک ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ ہمیں سب سے بڑا چیلنج طبی تعلیم کے نصاب اور امتحانات میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ تحقیق کے چیلنج طبی تعلیم کے نصاب اور امتحانات میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ تحقیق کے چیلنجز درپیش تھے۔ لیکن الحمد للہ کے ایم یو کی فیکلٹی، مختلف شعبوں کے سربراہان اورایڈمن سٹاف کی ٹیم ورک اور شبانہ وروز محنت سے ان تمام چیلنجزپرقابو پایاجاچکاہے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ انشاء اللہ آنے والے دنوں میں کے ایم یو بہترین نتائج دے گی اور ان تمام توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔ تقریب سے سابق رجسٹرار ڈاکٹر جلیل الرحمان، سابق ڈائریکٹر اکیڈیمکس ڈاکٹر فرخ سیئرنے بھی خطاب کیاجبکہ آخر میں شرکاء نے کیک کاٹ کر دس سالہ تقریبات کے انعقاد کاافتتاح کیا۔#

مزید :

پشاورصفحہ آخر -