پہلی سہ ماہی میں این بی پی کے قبل از ٹیکس منافع میں 7.8 فیصداضافہ

پہلی سہ ماہی میں این بی پی کے قبل از ٹیکس منافع میں 7.8 فیصداضافہ

  

کراچی(اکنامک رپورٹر ) نیشنل بینک آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس 21اپریل 2017کو بینک کے ہیڈ آفس کراچی میں ہوا جس میں 31مارچ 2017 کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے لیے بینک کے مالی گوشواروں کی منظوری دی گئی۔تفصیلات کے مطابق بینک نے 2017کی پہلی سہ ماہی کے دوران 6.7ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا ہے جو گزشتہ مالی سال 2016 میں اسی عرصہ کے دوران حاصل ہونے والے 6.2ارب روپے کے قبل از ٹیکس منافع سے 7.8فیصد زیادہ ہے جبکہ بعد از ٹیکس منافع 4.2 ارب روپے تھا جو گزشتہ سال میں اسی عرصہ کے دوران 4.0 ارب روپے تھا ۔ اس طرح بینک کے بعد ازٹیکس منافع میں بھی 4.1فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ بینک کے منافع میں اس اضافہ کا مطلب بینک کے حصص پر حاصل ہونے والی آمدنی 1.98روپے فی حصص ہے جو گزشتہ سال اسی عرصہ کے دوران 1.90روپے فی حصص تھی۔بینک کے نیٹ انٹریسٹ/مارک اپ کی مالیت گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے 12.0ارب روپے کے مقابلہ میں 12.3ارب روپے رہی یعنی اس میں 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔یہ کامیابی بلند شرح آمدنی والے قرضوں اور سرمایہ کاری کے مکس اثاثوں کے مؤثرانتظام سے حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح، نان- مارک اپ / انٹریسٹ انکم میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں 7.4ارب روپے یعنی13.1فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔سال 2016کے مقابلہ میں بیلنس شیٹ کی فٹنگ (balance sheet footing) کم ہو کر 2فیصد رہ گئی ہے اور بینک کے ڈپازٹس اور ایڈوانسز میں گزشتہ سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں اضافہ ہوا ہے۔ مارچ 2017کو ختم ہونے والی سہ ماہی کو بینک کے ڈپازٹس کی مالیت 1,588ارب روپے تھی یعنی اس میں 2016کے مقابلہ میں 25فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ نیٹ ایڈوانسز میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں 17فیصد اضافہ ہو ا اور ان کی مالیت 649 ارب روپے تھی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -