افغانستان: طالبان کے حملے میں 140 سے زائد افغان فوجی ہلاک

افغانستان: طالبان کے حملے میں 140 سے زائد افغان فوجی ہلاک
افغانستان: طالبان کے حملے میں 140 سے زائد افغان فوجی ہلاک

  

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغان صوبے بلخ کے شہر مزار شریف میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے آرمی ہیڈ کوارٹر پر حملے کے نتیجے میں 140افراد ہلاک ہوگئے، گزشتہ دو ماہ کے دوران حکومت مخالف جنگجو گروپوں کی جانب سے آرمی کی تنصیبات پر یہ دوسرا براہ راست حملہ ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق بلخ میں واقع افغان نیشنل آرمی کی 209 شاہین کور کمانڈر ہیڈ کوارٹر پر 10طالبان جنگجوﺅں کی جانب سے نماز جمعہ کے دوران حملہ کیا گیا ۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ جنگجوﺅں نے آرمی ہیڈ کوارٹر پر حملہ دوپہر ڈیڑھ بجے کیا جس کے بعد افغان آرمی کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی ۔ جنگجوﺅں اور افغان فوج میں یہ مقابلہ 8 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا جس کے نتیجے میں تمام حملہ آور مارے گئے ۔

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو دو فوجی گاڑیوں میں سوار ہو کر مزار شریف میں آرمی ہیڈ کوارٹر آئے ، طالبان جنگجوﺅں نے آرمی کی وردیاں بھی پہن رکھی تھیں۔ گاڑی میں سوار طالبان جنگجوﺅں نے گیٹ پر کھڑے سیکیورٹی اہلکاروں سے کہا کہ وہ زخمیوں کو لے کر آئے ہیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہے۔ بہانہ تراشے جانے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے فوجی وردیوں میں ملبوس طالبان جنگجوﺅں کو اندر جانے دیا, اندر جا کر طالبان جنگجوﺅں نے بھاری ہتھیاروں سے تباہی پھیلانا شروع کردی اور 140 کے قریب فوجی اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔ جبکہ طالبان کے اس حملے میں مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان فوجی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے ان کے جنگجوﺅں نے بھاری ہتھیاروں سے آرمی ہیڈ کوارٹر میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہےاور 500 سے زائد اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے ۔ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ سب سے پہلے فدائین نے بڑا دھماکہ کیا اور بعد میں مرکز میں متعدد فدائین داخل ہوئے اور وہاں تعینات اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جس میں 500  سے زائد اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں ۔

واضح رہے کہ دو ماہ قبل حکومت مخالف جنگجوﺅں کی جانب سے کابل میں سردار محمد داﺅد ملٹری ہسپتال پر حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -