نواز شریف اور شہباز شریف دو برس قبل بھی جے آئی ٹی کے پاس پیش ہوچکے

نواز شریف اور شہباز شریف دو برس قبل بھی جے آئی ٹی کے پاس پیش ہوچکے
نواز شریف اور شہباز شریف دو برس قبل بھی جے آئی ٹی کے پاس پیش ہوچکے

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے بھی دو برس قبل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)یا دیگر تحقیقاتی ٹیموں کے پاس پیش ہوچکے یا انہیں اپنا بیان بھجواچکے ہیں۔دونوں مرتبہ مقدمات فوجداری نوعیت کے تھے۔وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کے حوالے سے تشکیل کردہ چھ رکنی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونااور اپنا بیان ریکارڈ کرواناکوئی غیر معمولی بات نہیں ہوگی۔

سینئر عہدیدار کے بقول یہ پیشی قانونی عمل کے تحت ہےنہ کہ ریاستی اداروں کے مختلف گریڈ کے افسران کے سامنے پیشی ہے۔یہ افسران قانونی طور پر بااختیار ہوں گےجو تحقیقاتی عمل انجام دیں گے۔قانون کی نظر میں یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ ملزم وزیر اعظم ہے، وزیر اعلیٰ، کابینہ کا رکن یاسرکاری عہدیدار، قانون کا اطلاق بلاامتیاز ہوتا ہے اور اس میں اس کے عہدے یاسماجی حیثیت معنی نہیں رکھتے۔

15اکتوبر، 2015 کو وزیر اعظم نوازشریف نے ایف آئی اے کی ٹیم کو جس کی قیادت کراچی کے ڈائریکٹر شاہد حیات کررہے تھے اور جس میں پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان انور اور اسلام آبادڈائریکٹر اکنامک کرائم ونگ(ای سی ڈبلیو)سردار ظہیر شامل تھے، انہیں پہلے ہی اپنا بیان جمع کرواچکے ہیں۔ایف آئی اے انکوائری ٹیم کی تشکیل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی تھی جس کی سربراہی اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کررہے تھے جب کہ دیگر ججوں میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین شامل تھے، جس نے اپنا فیصلہ 19 اکتوبر، 2012کے کیس پر سنایا تھا۔جس میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی لہٰذا سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیئے کیوں کہ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کرکے آئین کو پامال کیا ہے۔

عدالت عالیہ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ آئین و قانون کے تحت مذکورہ دونوں افسران کے خلاف کارروائی کرےکیوں کہ انہوں نے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوںکو 1990 کے انتخابات میں مخالفین کے خلاف سہولتیں فراہم کی تھیں تاکہ ان کی کامیابی یقینی ہو۔اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ انہوں نے انٹیلی جنس ایجنسی سے کوئی پیسہ وصول نہیں کیا، اگر یہ ثابت ہوجائے تو وہ سود کے ساتھ وہ رقم واپس لوٹا دیں گے۔انہوں ن تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ انتخابات کے دوران مختلف افراد نے مہم میں فنڈز دیے تھے، تاہم اب اس کا شمار کرنا مشکل ہے۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ”اگر انکوائری میں یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ اس طرح کی رقم کی منتقلی ہوئی ہےتو مجھے سود کے ساتھ وہ رقم لوٹانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے“ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بھی اپنی جماعت کی مہم کے دوران فنڈ دیا تھا اور وہ آج تک ایسا کررہے ہیں۔ایف آئی اے نے ایئرمارشل ریٹائرڈاصغر خان، درانی، کالعدم مہران بینک کے سابق چیف ایگزیکٹیویونس حبیب، واشنگٹن میں پاکستان کی سابق سفیر سیدہ عابدہ حسین ، سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر، ایڈوکیٹ یوسف میمن، درجنوں سابق سرکاری ملازمین اور خفیہ ایجنسیوں کے عہدیداروںکے بیان ریکارڈ کیے تھے۔اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ انکوائری ٹیم کو کچھ سابق فوجی افسران کے بیان لینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ جب تک ان کی نظر ثانی کی درخواست کا فیصلہ نہیں آجاتا وہ ٹیم کو کسی قسم کا بیان نہیں دیں گے۔ 14مارچ،2015 کو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئےاور اپنا بیان ریکارڈ کروایا کیوں کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں نامزد تھے۔انہوں نے ہلاکتوں میں کسی قسم کے کردار کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو پولیس کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت کی تھی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہلاکتوں کے ذمہ دار تمام پولیس اور سول عہدیداروں کے انہوں نے فوری تبادلے بھی کیے تھے۔انہوں نے ماڈل ٹاﺅن میں پنجاب پولیس کو آپریشن کرنے کا حکم دینے سے انکار کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں تو اس بات کا بھی علم نہیں تھا کہ ضلعی حکومت نے ماڈل ٹاﺅن میں علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر سے بیریئرز ہٹادیئے ہیں۔

مزید :

اسلام آباد -