فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 67

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 67
فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 67

  

شاہانہ درمیانے قد‘گہرے سانولے رنگ کی ایک لڑکی تھی۔ ناک نقشہ اچھا تھا۔ جسم بھی متناسب تھا۔ چہرے پر سب سے نمایاں اس کی آنکھیں تھیں جو سیاہ اور بہت روشن تھیں۔ ہم نے شاہانہ کو میک اپ کے بغیر دیکھا اور کوئی خاص بات نظر نہ آئی۔شاہانہ کی بڑی بہن نے ہماری آؤ بھگت کی اور بینچ پر بیٹھنے کی دعوت د ی۔قمر زیدی صاحب فوراً چائے کا انتظام کرنے کے لیے رخصت ہوگئے۔سچ تو یہ ہے کہ ہم نے قمر زیدی صاحب سے شاہانہ کی جو تعریفیں سنی تھیں ان کے مطابق ہمیں شاہانہ میں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی مگر جب شاہانہ نے باتیں شروع کیں تو اس کی دلکشی واضح ہونے لگی۔وہ ایک خوش ذوق لڑکی تھی۔مطالعہ بھی خاصا تھا۔ ادب اور شاعری کے بارے میں اس کی معلومات بہت زیادہ تھی اور اس مطالعے کا اثر اس کی گفتگو سے بھی ظاہر ہوتا تھا۔ جب تک قمر زیدی ایک گول سی ٹرے میں چائے کی پیالیاں رکھوا کر واپس آئے اس وقت تک ہم شاہانہ کے مداح ہو چکے تھے۔ واقعی وہ ایک ذہین اور حاضر جواب لڑکی تھی۔ بات سے بات پیدا کرنا اور فقرے کسنا شاہانہ کے لیے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ اس کی باتیں بہت دلچسپ اور شگفتہ تھیں۔ بات کرنے کا انداز اس سے بھی زیادہ اچھا تھا۔ گفتگو کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سی رہتی تھی۔ اور آنکھیں تو ہر وقت شرارت سے مسکراتی رہتی تھیں۔ اس طرح شاہانہ سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی۔ کچھ دیر بعد شاہانہ کی شوٹنگ کے لیے ضرورت پڑ گئی۔ اس کے رخصت ہونے کے بعد قمر زیدی نے ہمیں دیکھا اور پوچھا۔ ’’کیوں‘ بھابی پسند آئی ؟‘‘

فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 66 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ کون بھابی ؟‘‘

’’ ارے یار سمجھا کرو‘ بس یہی تمہاری ہونے والی بھابی ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’ زیدی صاحب‘ اگر یہ آپ سے شادی کرے گی تو اس کے بارے میں ہماری رائے بدل جائے گی۔ ‘‘

’’ کیا مطلب ؟‘‘ انہوں نے ہمیں گھورا۔

’’ مطلب یہ کہ وہ ایک ذہین‘ صاحب ذوق اور پڑھی لکھی لڑکی ہے۔ یوں سمجھو کہ ہر لحاظ سے تمہاری ضد ہے۔‘‘

’’ بھائی وہ مجھے پسند کرتی ہے۔‘‘

’’ کرتی ہو گی مگر وہ تم سے شادی نہیں کرے گی۔ البتہ خود کشی کر لے گی۔‘‘

قمر زیدی بہت ناراض ہوئے اور ایک دو گھنٹے تک ہم سے روٹھے رہے۔

شاہانہ کا اس فلم میں مختصر سا کردار تھا۔ اداکارہ بھی وہ بہت زیادہ اچھی نہ تھی۔ مگر اس کی شخصیت اور بات چیت میں ایک خاص بات تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پڑھے لکھے ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں میں بہت مقبول تھی۔ ہمیں تو کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ لاہور کے قریباً سبھی صحافی اس کو نہ صرف جانتے تھے بلکہ باقاعدگی سے اس کے گھر جا کر محفل آرائی کرتے تھے۔

ہمارے ایک دوست رشید جاوید بھی تھے۔ یہ ہفت روزہ ’’ممتاز‘‘ کے ایڈیٹر اور مالک تھے۔ یہ ایک فلمی پرچہ تھا اور کافی مقبول تھا۔ رشید جاوید ایک بے باک‘ نڈر اور منہ پھٹ آدمی تھے۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، مضبوط ہاتھ پیر، صورت شکل بھی اچھی تھی۔ ذہین اور باتونی آدمی تھے، ہر وقت ہنستے‘ ہنساتے رہتے تھے۔ ماہنامہ ’’فلم لائٹ‘‘ کے دفتر ہی میں ان سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی اور بہت جلد دوستی ہو گئی جو مرتے دم تک جاری رہی۔ وہ ہمارے حصے دار بھی رہے۔ فلم ’’آس‘‘ ہم دونوں نے مشترکہ طور پر بنائی تھی۔ ان کے ساتھ ہم نے بہت وقت گزارا اور بہت اچھا وقت گزارا۔ بے حد مخلص دوست اور انتہائی ایماندار آدمی تھے۔ا ن پر یہ مثل صادق آتی تھی کہ نہ ساون سوکھے نہ بھادوں ہرے۔ ہم نے انہیں ہر حال میں ایک جیسا ہی دیکھا۔ بے فکر‘ خوش مزاج‘ خوش باش اور انتہائی دلچسپ۔ ان کے بارے میں تفصیلات بیان کرنے کا یہ وقت نہیں ہے۔ فی الحال شاہانہ کے حوالے سے گفتگو ہو گی۔

ہم نے بتایا ہے کہ ہمیں فلم کی کہانی اور ڈائریکٹ کرنے کا بہت شوق تھا۔ ہم کہانیاں سوچتے رہتے تھے لیکن اس سے زیادہ اہمیت فلموں کے نام سوچنے کو دیتے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ اصل چیز تو فلم کا نا م ہوتا ہے۔ کہانی کا کیا ہے وہ تو لکھ ہی لیں گے۔ ہم جو بھی اچھا سا نام سوچتے وہ رشید جاوید اور شباب کیرانوی کو ضرور بتاتے تھے۔ رشید جاوید ہم سے پہلے ہی شباب کیرانوی کے دوست تھے اور بعد میں ہم تینوں اکثر اکٹھے ہوا کرتے تھے۔

ایک دن ہم منٹگمری روڈ پر رشید جاوید کے دفتر گئے تو وہ کچھ خاموش سے تھے۔ منٹگمری روڈ پر وہ ایک بلڈنگ میں کرایہ دار تھے۔ اوپر کے حصے میں ان کا دفتر تھا اور اسی فلیٹ کے ایک حصے میں ان کی رہائش بھی تھی۔ اس طرح یہ آرام تھا کہ دفتر میں بیٹھے بیٹھے وہ ٹیلی فون کو ٹیپ کر کے گھر میں چائے وغیرہ کا آرڈر دے دیا کرتے تھے اور بہت اچھی چائے پینے کو مل جاتی تھی۔ اسی بلڈنگ میں ان کے فلیٹ کے نچلے حصے میں ایک جوتا ساز فیکٹری تھی۔ پتا نہیں وہ لوگ کس قسم کے جوتے بنایا کرتے تھے کہ ہر وقت نیچے سے دھما دھم کی آوازیں ہی آتی رہتی تھیں۔ پہلی بار جب دھما دھم سنی تو ہم گھبراگئے اور پوچھا کہ یہ کیسی آوازیں ہیں ؟

رشید جاوید نے حسب معمول اطمینان سے جواب دیا۔ ’’ جوتے بن رہے ہیں۔ تم فکر مت کرو۔‘‘

’’ بھئی یہ کس قسم کے جوتے بن رہے ہیں ؟‘‘

’’ یار سمجھا کرو‘ تم تو بہت ہی زیادہ بے وقوف آدمی ہو۔ جب جوتوں کے تلے اور ایڑیاں ٹھونکتے ہیں تو ایسی آواز پیدا ہوتی ہے۔‘‘

ہم نے کہا ’’ بھائی‘ یہ صرف ایڑیاں اور تلے ہی ٹھونکتے رہتے ہیں تو باقی جوتے کس وقت بناتے ہیں ؟‘‘

’’ یہ تو میں نے پہلے سوچا ہی نہیں۔‘‘ وہ سوچ میں پڑ گئے۔ پھر بولے ’’ بھئی یہ بھی کوئی تکنیک ہوگی مگر یہ بات طے ہے کہ یہ لوگ جوتے ہی بناتے ہیں۔ بم وغیرہ نہیں بناتے۔‘‘

اس روز بھی جاوید صاحب نے ٹیلی فون ٹیپ کر کے گھر سے بہت اچھی قسم کی چائے منگائی۔ بھابی نے کچھ بسکٹ بھی ساتھ رکھ دیے تھے۔ چائے بھی بہت اعلیٰ قسم کی تھی۔

’’ لو بیٹے عیش کرو۔ چائے کے بعد ایک سگریٹ بھی پینا۔ یہ چیزیں تمہیں اور کہاں نصیب ہوں گی۔‘‘ انہوں نے چائے بناتے ہوئے پیشگی احسانات جتانے شروع کر دیے۔

چائے خاموشی سے پی گئی۔ ان کا پیش کیا ہوا سگریٹ بھی ہم نے دو چار منٹ کے اندر پھونک کر ختم کر دیا۔ پھر بھی چپ رہے۔

’’ یار کیا بات ہے۔ تم آج چپ چپ سے ہو۔ خیر تو ہے۔‘‘ انہوں نے پوچھا۔

ہم نے کہا ’’ جاوید صاحب‘ ہمیں تین چیزوں کی حسرت ہے۔ اگر یہ حسرتیں پوری ہو جائیں تو ہماری زندگی میں انقلاب آجائے۔‘‘

’’ وہ کیا ہیں۔ بیان کرو ؟‘‘ وہ میز پر پھیلے ہوئے پاؤں سمیٹ کر بیٹھ گئے۔

’’ ایک تو ہم چاہتے ہیں کہ فلم کی کہانی لکھیں۔ دوسری خواہش یہ ہے کہ فلم ڈائریکٹر بنیں۔ تیسری خواہش یہ ہے کہ کوئی اچھی لڑکی اچانک مل جائے اور ہم اس سے شادی کر لیں۔‘‘

جاوید صاحب نے کچھ دیر سوچا۔ پھر کہا ’’ کہانی تم آج ہی لکھنا شروع کر دو۔ کوئی بیوقوف آدمی ڈھونڈ لیں گے۔ وہ فلم بنا ڈالے گااور وہی تم کو ڈائریکٹر بھی لے لے گا۔ اس لیے کہ ہم واقعی کوئی الو کا پٹھا ہی تلاش کریں گے۔‘‘

ہم نے کہا ’’ تمہارا مطلب ہے کہ ہم کہانی لکھ سکتے ہیں نہ ہدایت کاری کر سکتے ہیں ؟‘‘

’’ کہانی تو تم لکھ سکتے ہو اس لیے کہ رائٹر ہو‘ مگر تمہیں تکنیک نہیں آتی۔ ڈائریکٹر تم عمر بھر نہیں بن سکتے۔‘‘

’’ وہ کیوں ؟‘‘ ہم نے احتجاج کیا۔

’’ اس لیے کہ تم نے کسی ڈائریکٹرکو اسسٹ نہیں کیا۔جب تک تم کسی اچھے ڈائریکٹر کے ساتھ کام کر کے مار نہیں کھاؤ گے‘ ڈائریکٹر نہیں بن سکتے۔‘‘

’’ خیر یہ بات ہے۔ ڈائریکٹر بننے کے لیے کسی ڈائریکٹر کا اسسٹنٹ بننا ضروری نہیں ہے۔ ان کی جھڑکیاں کھاؤ‘ ان کے جوتے اٹھاؤ‘ پان سگریٹ لا کر دو‘ گھر کا سودا لاؤ، بلکہ ان کے لیے شراب بھی لے کر آؤ۔ اس سے کوئی ڈائریکٹر نہیں بن سکتا۔‘‘

’’ اس کے بغیر پاکستان میں کوئی ڈائریکٹربن ہی نہیں سکتا مگر‘ خیر‘ میں تمہیں مایوس نہیں کرنا چاہتا۔ تم سے بھی بڑے بے وقوف اس وقت فلم انڈسٹری میں ڈائریکٹر بنے ہوئے ہیں تو پھر ہمارا چانس بن سکتا ہے۔ رہی تمہاری تیسری خواہش تو وہ میں ابھی پوری کئے دیتا ہوں۔ چلو اٹھو کھڑے ہو جاؤ۔‘‘ وہ کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔

’’ کہاں ؟‘‘

’’ سوالات مت کرو۔ بس چپ چاپ میرے ساتھ چلو۔‘‘

ہم سیڑھیاں اتر کر فلیٹ سے نیچے اترے۔ ان کے فلیٹ کی سیڑھیاں پچھلی طرف تھیں جب کہ جوتا ساز فیکٹری سڑک کے بالمقابل تھی۔

ہم نے کہا ’’ یار جاوید‘ ذرا فیکٹری کے اندر جھانک کر دیکھ نہ لیں کہ یہ لوگ جوتے کس طرح بناتے ہیں۔‘‘

’’ سمجھا کرو یار۔ تمہارے لیے بیوی تلاش کرنے جا رہے ہیں اور تم جوتا ساز فیکٹری دیکھ کر بد شگونی کرنا چاہتے ہو۔ یاد رکھو‘ زندگی بھر بیوی کے جوتے ہی اٹھاتے رہو گے۔‘‘

ہم نے احتیاطً اپنا ارادہ فوراً ملتوی کر دیا۔(جاری ہے)

قسط نمبر 68 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -