دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے ۔۔۔ چھٹی قسط

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے ۔۔۔ چھٹی قسط
دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے ۔۔۔ چھٹی قسط

  

ہم آگے کی سمت بڑھ رہے تھے۔ مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ اندر داخل ہوتے ہی مجھے جس تبدیلی کا احساس ہوا تھا وہ کیا تھی۔ میری چال میں بہت اعتماد تھا۔ شاید یہ آئینے کا اثر تھا کہ اب مجھے یقین آنے لگا تھا کہ ربِّ کعبہ نے مجھے سرفراز کرکے میرے بخت کو ہمیشہ کے لیے جگادیا ہے۔ میری زندگی کے شب و روز اور اس میں پیش آنے والے مسائل اب میرے لیے خواب و خیال ہوچکے تھے۔ پچھلی دنیا کی محرومیاں، صبر اور محنتیں کبھی اس طرح بھی رنگ لائیں گی، مجھے اس کا قطعاً اندازہ نہیں تھا۔ قرآنِ کریم اور احادیث میں ا گلی دنیا کا بہت کچھ تعارف پڑھا تھا، مگر آنکھ جوکچھ دیکھ سکتی، کان سنتے اور حواس محسوس کرسکتے ہیں وہ الفاظ سے شعور تک بہت کم منتقل ہوتا ہے۔ آج جب یہ سب حقائق سامنے ہیں تو یقین نہیں آتا کہ میں۔۔۔ مجھے یہ اندازہ تو زندگی ہی میں ہوچکا تھا کہ آخرت کی بازی میں جیت جاؤں گا۔ مگر اس جیت کا مطلب اتنا شاندار ہوگا، اس کا مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے ۔۔۔ پانچویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’تمھیں ابھی پورا ندازہ نہیں ہوا ہے۔‘‘، صالح پتہ نہیں کس طرح میرے خیالات پڑھ رہا تھا۔ اس کے جملے نے مجھے چونکادیا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی:

’’اصل زندگی تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئی۔ ابھی تو تم حشر کے عارضی مرحلے میں ہو۔ اصل زندگی تو درحقیقت جنت میں شروع ہوگی۔ اُس وقت خدا کا بدلہ دیکھنا۔ اُس وقت خدا کو داد دینا۔ سرِ دست تو آگے دیکھو، ہم کہاں کھڑے ہیں۔‘‘

اس کی بات سے مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے ماحول سے بالکل لاتعلق ہوکر چل رہا تھا۔ میں نے نظر اٹھاکر دیکھا۔ ہم اس وقت ایک وسیع و عریض اور سرسبز و شاداب میدان میں تھے۔ آسمان پر سورج چمک رہا تھا۔ اس میں روشنی تھی پر دھوپ نہ تھی۔ آسمان پر کہیں بادل نہ تھے، مگر زمین پر ہر جگہ سایہ تھا۔ زمین سبز تھی۔ شاید اسی کے اثر سے آسمان نیلگوں کے بجائے سبزی مائل ہورہا تھا۔ میدان کے وسط میں ایک فلک بوس پہاڑ تھا۔ محاورۃً نہیں، حقیقتاً فلک بوس۔ کیونکہ اس کی چوٹی جہاں سے ہم کھڑے دیکھ رہے تھے، آسمان میں پیوست لگ رہی تھی۔ فضا میں ہر طرف بھینی بھینی خوشبو مہک رہی تھی۔ یہ خوشبو ہر اعتبار سے بالکل نئی مگر انتہائی مسحورکن تھی۔ ہماری سماعت ہمیں ان نغموں کا احساس دلارہی تھی جو کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی کے ساتھ چار سو بکھرے ہوئے تھے۔ مجھے یہ لگ رہا تھا کہ یہ خوشبو اور یہ موسیقی میری ناک اور کان کے راستے سے نہیں بلکہ براہِ راست میرے اعصاب تک پہنچ رہی ہے۔ اس کی تاثیر میں مہک و آہنگ اور سکون و سرور کے عناصر اس خوبصورت تناسب سے یکجا تھے کہ مجھے اپنا وجود تحلیل ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

میں ایک جگہ رک کر کھڑا ہوگیا اور آنکھیں بند کرکے اس ماحول میں گم ہوگیا۔ صالح نے میرا انہماک دیکھ کر کہا:

’’اس پہاڑ کا نام اعراف ہے۔ آؤ اس کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ میں ساتھ ساتھ تمھیں یہاں کی ساری تفصیلات سے آگاہ کرتا رہوں گا۔‘‘

میں جواب دیے بغیر سحر زدہ انداز میں صالح کے ساتھ ہولیا۔ ہم نے دائیں طرف سے اپنا سفر شرو ع کیا۔ ہم کچھ دور ہی چلے تھے کہ پہاڑ کے ایک حصے پر امت آدم لکھا ہوا نظر آیا۔ میں نے صالح سے پوچھا:

’’کیا یہاں آدم علیہ السلام ہیں؟‘‘

’’نہیں۔ سارے نبی پہاڑ کے اوپر بلند حصے پر موجود ہیں۔ تم دیکھوگے کہ ہر تھوڑی دیر بعد اسی طرح کسی نہ کسی نبی اور اس کی امت کا نام لکھا ہوا نظر آئے گا۔ ہر امت کے نجات یافتہ لوگ۔۔۔ تمھاری طرح کے نجات یافتہ لوگ۔۔۔ یہاں آکر جمع ہوں گے۔‘‘، اس نے جواب دیا۔

’’کیا مجھے امت محمدیہ کے کیمپ میں جانا ہوگا؟‘‘، اس پر میں نے اشتیاق سے پوچھا۔

صالح نے نفی میں سر ہلایا اور بولا:

’’ان مقامات پر نجات یافتہ لوگ کھڑے ہوں گے اور روز حشر کے اختتام پر یہیں سے جنت میں جائیں گے۔ تمھیں پہاڑ کے اوپر جانا ہوگا۔ وہاں سارے نبی اور ان کی امتوں میں سے وہ لوگ جمع ہیں جنہوں نے نبیوں کے اتباع میں لوگوں پر حق کی شہادت دی۔ یہ لوگ یہیں سے انسانوں کے بارے میں خدا کا فیصلہ دیکھتے رہیں گے۔اسی جگہ سے انہیں انسانوں پر گواہی دینے کے لیے بلایا جائے گا۔ ہر نامراد شخص جہنم کی طرف اور ہر کامیاب شخص پہاڑ کے نیچے اپنے اپنے نبی کے کیمپ میں آتا جائے گا۔ پھر ہر امت گروہ در گروہ یہیں سے جنت میں جائے گی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے حشر میں ہونے والے ہر فیصلے کو براہِ راست دیکھا جاسکتا ہے۔ جنت و جہنم بھی یہاں سے نظر آتی ہیں۔‘‘

ہم یہ گفتگو کررہے تھے اور ایک ایک کرکے تمام نبیوں کی امت کے مقامات سے گزرتے جارہے تھے۔ اس وقت تک ہر جگہ بہت کم لوگ تھے۔ میں نے صالح سے کہا:

’’شایدا بھی تمام لوگ نہیں آئے۔‘‘

اس نے کہا:

’’نہیں یہ بات نہیں۔ دیگر نبیوں کی امت میں سے نجات یافتہ لوگ ہیں ہی بہت کم۔ زیادہ تر لوگ بنی اسرائیل میں سے ہیں اور سب سے زیادہ امتِ محمدیہ میں سے۔ یہ دونوں کیمپ ابھی تک نہیں آئے ہیں۔ لیکن اس وقت تک وہاں بھی زیادہ لوگ نہیں ہیں۔ لیکن تھوڑی دیر میں ہوجائیں گے۔ آؤ اب اوپر چلتے ہیں۔ اِس پہاڑ کا چکر تو بہت طویل ہوجائے گا۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے بلند مقامات پر چڑھنے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔ لیکن شاید یہ میری زندگی کی سب سے عجیب بلندی تھی۔ یہ بظاہر بہت بلند اور آسمان تک اونچی تھی۔ مگر یہاں سے ہم زمین کو اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے چند منزل ہی اوپر کھڑے ہوں۔ نیچے سے جو جگہ ایک چوٹی لگتی تھی وہ ایک ہموار سطح مرتفع تھی۔ تاہم اس ہموار زمین پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بلند و بالا قلعہ نما تعمیرات بنی ہوئی تھیں۔ تاہم ان کے اردگرد کوئی دیوار تھی اور نہ ان میں دروازے ہی موجود تھے۔ اس لیے باہر سے بھی اندر کا نظارہ کیا جاسکتا تھا۔ یہاں ہر طرف شاہانہ انداز کے خدم و حشم تھے۔ عالیشان تخت پر تاج پہنے ہوئے انتہائی باوقار ہستیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے اردگرد اسی شان کے لوگ شاہانہ نشستوں پر براجمان تھے۔ میں نے صالح سے ان بلند تعمیرات کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا:

’’یہ مختلف انبیا کی عارضی قیام گاہیں ہیں۔ انھی کی بنا پر اس پہاڑ کو اعراف کہا جاتا ہے۔ تم تو جانتے ہو کہ اعراف کا مطلب بلندیوں کا مجموعہ ہے۔‘‘

میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بولا:

’’تخت پر بیٹھے ہوئے حضرات انبیاے کرام ہیں۔ اور ان کے اردگرد بیٹھے لوگ ان کی امت کے شہدا اور صدیقین ہیں۔ صدیقین وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبیوں کی زندگی میں ان کا ساتھ دیا اور شہدا وہ لوگ ہیں جنہوں نے انبیا کے بعد ان کی دعوت کو آگے پہنچایا۔ یہ سب وہ لوگ تھے جو دنیا میں خدا کے لیے جیے اور اسی کے لیے مرے۔ اسی کے صلے میں یہ لوگ آج اس عزت و سرفرازی سے ہمکنار ہوئے ہیں جس کا مشاہدہ تم اس وقت کررہے ہو۔‘‘

’’کیا یہ ممکن ہے کہ انبیا علیھم السلام سے میری ملاقات ہوسکے؟‘‘، میں نے پوچھا۔

’’سب سے ملاقات کا وقت تو نہیں لیکن کچھ سے ضرور مل سکتے ہیں۔‘‘

اس نے جواب دیا اور پھر ایک ایک کرکے خدا کے جلیل القدر پیغمبروں سے میری ملاقات کرانی شروع کی۔ وہ پیغمبر جو میرے لیے عظمتوں کا نشان تھے، میں ان سے مل رہا تھا۔ آدمؑ ، نوحؑ ، ہودؑ ، صالحؑ ، اسحاقؑ ، یعقوبؑ ، یوسفؑ ، شعیبؑ ، موسیٰؑ ، ہارونؑ ، یونسؑ ، داؤدؑ ، سلیمانؑ ، زکریاؑ ، یحیےٰؑ ، عیسیٰؑ اور سب سے بڑھ کر ابو الانبیا سیدنا ابراہیم علیہم السلام۔ سب نے گلے لگاکر اور میری پیشانی پر بوسہ دے کر میرا استقبال کیا اورمجھے مبارکباد دی۔

ان جلیل القدر ہستیوں سے کچھ گفتگو کے بعد ہم آگے روانہ ہوگئے، مگر مجھے دوران گفتگو یہ احساس ہوا تھا کہ سب لوگ ایک نوعیت کے تفکر میں مبتلا ہیں۔ راستے میں صالح سے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ بولا:

’’تمھیں نہیں معلوم اس وقت حشر کے میدان میں کیا قیامت برپا ہے۔ اس وقت ہر نبی پریشان ہے کہ انسانیت کا کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ان انبیا میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کی امت عذاب الٰہی کا سامنا کرے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو معاف کردیں۔ مگر سرِ دست اس کا کوئی امکان نہیں۔ ایسی کوئی دعا کی جاسکتی ہے اور نہ اس کی اجازت ہے۔ لوگ سیکڑوں برس سے خوار و خراب ہورہے ہیں اور سرِدست حساب کتاب شروع ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔‘‘

’’سیکڑوں برس؟ کیا مطلب! ہمیں تو اندر آئے ہوئے بمشکل ایک دو گھنٹے گزرے ہوں گے۔‘‘، میں نے چونک کر تعجب سے کہا۔

’’یہ تم سمجھ رہے ہو۔ آج کا دن کامیاب لوگوں کے لیے گھنٹوں کا ہے اور باہر موجود لوگوں کے لیے انتہائی سختی و مصیبت کا ایک بے حد طویل دن ہے۔ باہر صدیاں گزر گئی ہیں۔ مگر تم ابھی یہ بات نہیں سمجھو گے۔‘‘، اس نے وضاحت کرتے ہوئے جواب دیا۔

میں اس کی بات کو ہضم نہیں کرسکا، مگر ظاہر ہے میں جس دنیا میں تھا وہاں سب کچھ ممکن تھا۔ اور نجانے اور کتنی تعجب انگیز باتیں میرے سامنے آنے والی تھیں۔(جاری ہے)

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول ،جو زندگی بدل سکتا ہے ۔۔۔ ساتویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

مزید :

جب زندگی شروع ہوگی -