آج کا دن زمین کے نام

آج کا دن زمین کے نام
آج کا دن زمین کے نام

  

زمین بھی ماں جیسی ہے جو نہ صرف بنی نوع انسان بلکہ ہر جاندار کو اپنی گود میں سنبھال کر رکھتی ہے۔وہ زندہ ہو تب بھی اور مر جائے تب بھی اپنی آغوش میں پناہ دیتی ہے ۔زندہ ہو تواس کی پرورش کرتی ہے، ہم جو کچھ بھی کھاتے ، پیتے یا پہنتے ہیں اس کا تعلق بھی کسی نہ کسی لحاظ سے زمین کے ساتھ ہے یعنی انسان اپنی تمام تر ضروریات زمین سے پوری کرتا ہے ۔انسان ہی نہیں تمام جاندار ،زمین کی بدولت ہی زندہ ہیں ۔اس لیے اس دن ماحول کی صورتحال، خاص طور پر ماحولیاتی تبدیلی پر سیمینارز، مباحثے ہوتے ہیں جبکہ کچھ ممالک میں اس روز شجرکاری کی جاتی ہے ۔کیونکہ زمین پر انسان ماحولیاتی آلودگی کے باعث اپنی بقا کے حوالے سے خدشات کا شکار ہے ۔

یومِ ارض یا زمین کا دن (Day Earth) ہر سال دنیا بھر میں 22 اپریل کو منایا جاتا ہے ۔اس دن کو منانے کا فیصلہ 1969ء میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکوکے تحت امریکی ریاست کیلی فورنیامیں ہونے والی ایک کانفرنس میں کیا گیا ۔پہلی دفعہ یہ دن 1970 ء میں امریکہ میں لاکھوں طلبا ء و طالبات نے ماحولیاتی تحفظ کے حق میں نعرے لگا کر منایا۔اور اب ہر سال اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام 192 سے زائد ممالک میں منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے موقع پر دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کے لیے تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔

اس دن کو دو طرح منایا جاتا ہے ۔ایک طرف کرہ ارض پر پائی جانے والی اللہ کی نعمتوں کا جشن منایا جاتا ہے ۔یہ جشن بھی کہیں خرافات کی حد کو چھونے لگتا ہے ۔دوسری طرف اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہوئے ارض کو نقصان پہچا نے والے انسانی عوامل کے تدراک کے لیے تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔اور کسی حد تک عملی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ۔کیونکہ زلزلوں ، سیلابوں ،طوفانوں ،سمندروں کی بلند ہوتی ہوئی سطح، اور بڑھتی ہوئی آلودگی نے ہماری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔اس کا واحد حل ہمہ اقسام کی آلودگیوں کا خاتمہ اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہی ہے ۔

وطن عزیز پاکستان میں جنگلات خطر ناک حد تک کم ہیں ،پھر انہیں،درخت جو زمین کا زیور کہلاتے ہیں کاٹ کر، جلا کر ختم کیا جا رہا ہے ۔ایسا کرنے والے وہی ہیں جو اس کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں ۔ہمیں کرپشن ،رشوت اقربا ء پروری نے احساس ذمہ داری سے بے بہرہ قوم بنا دیا ہے ۔کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ایک طرف پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ،جنگلات ،صفائی کے لئے کام کرنے والے اداروں کی تعدا دبہت کم ہے ۔ یہ ادارے خود غرض اور سفارشی افراد کو بھرتی کرتے ہیں ۔دوسری طرف ملک میں فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ گاڑیوں ، کارخانوں اور فیکٹریوں کا دھواں اور ان سے نکلنے والے کیمیائی زہریلے مادے وغیرہ ہے ۔

زمین کو محفوظ اور خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی سے بھی پاک رکھنا بھی ضروری ہے ۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ایسی باتوں کی اور کام کی طرف نہ ہماری حکومت کو فکر ہے اور نہ ہی عوام کی اس جانب توجہ ہے ۔نہ ہی ہماری ترجیح میں شامل ہے ۔ہمارا ملک زرعی ملک ہے لیکن آپ ہمارے ندی نالے ، نہریں ، دریا اور سمندر کو دیکھیں اپنے اندر مستقل بنیادوں پر گندا پانی سمو رہے ہیں۔اسی ماحول کو دیکھیں ،دھواں دیتی گاڑیاں ،کارخانے وغیرہ انہی اعمال کے سبب پاکستان کے بڑے شہروں میں زیر زمین پانی خطر ناک حد تک خراب ہو چکا ہے ۔پھر فضائی آلودگی کا بھی براہ راست اثر زمین پر پڑتا ہے ۔

ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے جو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ زیادہ درخت لگا کر بھی فضائی آلودگی کے اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔فضائی آلودگی کے بعد آلودگی کی دوسری بڑی قسم’’آبی آلودگی‘‘ ہے۔ہوا کی طرح پانی بھی انسان کی زندگی کے لئے لازمی عنصر ہے۔بیسویں صدی میں جہاں صنعتی انقلاب اور آبادی کے بڑھنے کے باعث پانی کی ضروریات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے،وہاں پینے کے لئے صاف و شفاف پانی بھی ناپید ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان میں آلودہ پانی کے باعث بیمار ہونے والوں کی تعداد دوسرے تمام عوامل سے زیادہ ہے۔آبی آلودگی کی وجہ سے معدے اور جگر کی بیماریاں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ان تمام اسباب سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں ۔

ارتھ ڈے کے موقع پر ہم سب کا فرض ہے کہ زمین کی حفاظت فطرت کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق کریں۔یعنی زیادہ سے زیادہ درخت لگانا،صفائی ہمہ اقسام، جس میں ہوا،پانی،زمین کی صفائی قابل ذکر کا اہتمام کرناشامل ہے۔اس دن کو بھر پور طریقے سے منانے کی اشدضرورت ہے ۔ملک بھر میں اس دن کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے،تقاریب کا انعقاد کیا جائے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ شجر کاری کی جائے ۔صفائی مہم چلائی جائے۔ہر دن کو بطور ارتھ ڈے منایا جائے۔ ہمیں ماحولیاتی آلودگی ،شجر کاری کرنے والے،اداروں اور افراد کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -