’میں اپنی زندگی بدلنے یورپ آئی تھی لیکن یہاں آتے ہی مجھے ایسے شرمناک کام پر لگادیا گیا کہ اب خود سے بھی شرم آتی ہے‘ نوعمر عرب لڑکی نے ایسی بات کہہ دی کہ دنیا کو رُلادیا

’میں اپنی زندگی بدلنے یورپ آئی تھی لیکن یہاں آتے ہی مجھے ایسے شرمناک کام پر ...

  

ایتھنز(مانیٹرنگ ڈیسک) سہانے مستقبل کے خواب سجائے یورپ پہنچنے والی خواتین کے متعلق ایک ایسا اندوہناک انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے کہ ہر سننے والا اشکبار ہو جائے۔ دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق یونان پہنچنے والی پناہ گزین خواتین آگے کے سفر سے روک دیئے جانے کے باعث وہیں کیمپوں میں عصمت فروشی پر مجبور ہو چکی ہیں کیونکہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ یونان کے ان پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ایک لڑکی نے بتایا ہے کہ ”میں اپنی زندگی بدلنے کے لیے یورپ آئی تھی لیکن یہاں مجھے جسم فروشی پر لگا دیا گیا ہے۔ اب مجھے خود سے ہی شرم آتی ہے۔“ ہاورڈ یونیورسٹی نے یونان میں پناہ گزینوں کی حالت زار پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ”یورپ اور ترکی کے پناہ گزینوں کو روکنے کے معاہدے کی وجہ سے 62ہزار لوگ خوار ہو رہے ہیں۔ یونان کے پناہ گزینوں میں جو خواتین رقم اور کھانے کے حصول کے لیے جسم فروشی پر مجبور پر چکی ہیں ان میں 4سال تک کی بچیاں بھی شامل ہیں۔“

’اگر میں حجاب پہننا چھوڑ دوں تو کیا آپ مجھے ماریں گے‘ نوجوان سعودی لڑکی کا اپنے باپ سے سوال، آگے سے باپ نے ایسا خوبصورت جواب دے دیا کہ پوری دنیا میں دھوم مچ گئی، غیرمسلم بھی داد دینے پر مجبور ہو گئے

رپورٹ کے مطابق یونانی دارالحکومت ایتھنز میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ میں کام کرنے والے ماہرنفسیات نے تحقیق کاروں کو بتایا ہے کہ ”ہمارے پاس جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی جو پناہ گزین خواتین آئی ہیں ان میں ایک چار سالہ بچی بھی شامل ہے۔ان خواتین کو جنسی زیادتی کا شکار بنانے والے لوگ مجرم انہیں پولیس کے پاس جانے سے روکنے کے لیے دھمکیاں دیتے ہیں جس کی وجہ سے بہت کم کیس رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان خواتین کو مترجم کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے بھی انہیں خود پر گزرنے والے حالات حکام تک پہنچانے میں مشکل پیش آتی ہے۔“ اس ماہر نفسیات نے بتایا کہ یہ ایک باقاعدہ مافیا ہے جو ان خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے پیچھے کارفرما ہے۔ یہ خواتین چونکہ رقم کی اشد ضرورت میں مبتلا ہوتی ہیں لہٰذا ان کے لیے بہت آسان شکار ثابت ہو رہی ہیں۔“

مزید :

بین الاقوامی -