مصالحتی نظام سے فوری اورسستا انصاف ممکن ہے ،یہ نظام دنیا بھر میں کامیابی سے چل رہا ہے،سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق جیلانی

مصالحتی نظام سے فوری اورسستا انصاف ممکن ہے ،یہ نظام دنیا بھر میں کامیابی سے ...
مصالحتی نظام سے فوری اورسستا انصاف ممکن ہے ،یہ نظام دنیا بھر میں کامیابی سے چل رہا ہے،سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق جیلانی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاکستان کالج آف لاءاورایشیاءفاونڈیشن کے اشتراک سے مصالحتی نظام کے بارے میں ایک روزہ سیمنار سے سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا مصالحتی نظام سے فوری اورسستا انصاف ممکن ہے اوریہ نظام دنیا بھر میں کامیابی سے چل رہا ہے۔

حزب اختلاف کے بعد وکلاءنے بھی وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا،ہائی کورٹ کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس

سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ لاءکالجز میں مصالحتی نظام کے  بارے  میں تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے،نجی ہوٹل میں پاکستان کالج آف لاءاورساوتھ ایشاءکے باہمی تعاون سے اے ڈی آر نظام کے حوالے سے ایک روزہ سمینارکا انعقادکیاگیا جس میں سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی ، جسٹس ریٹائرناصرہ اقبال ، پرنسپل پاکستان کالج آف لاءپروفیسر تسنیم کوثر ، لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرذوالفقارعلی ، سیکرٹری عامرسعید راں ،سمیت اسٹیکٹ ہولڈرز ، پاکستان بار اورپنجاب بار کے ممبران اورطلبہ نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ عدالتوں میں معاملہ لے جانے کی بجائے مصالحت کے لئے ذریعے کم وقت میں مسئلہ کاحل راضی خوشی سے نکل آتا ہے ،مصالحتی نظام سے فوری اورسستا انصاف ممکن ہے اوریہ نظام دنیا بھر میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ پرنسپل پاکستان کالج آف لاءپروفیسرتسنیم کوثر نے کہا کہ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے مصالحتی نظام کے حق میں ہیں، ان کا کہناتھا کہ اس سلسلہ میں پاکستان کالج آف لاءجلد مصالحتی نظام کے قوانین بارے کورسزکا آغازکرے گا جس میں طلبہ ، وکلاءسمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ان قوانین باے پڑھایاجائے گا، ہائیکورٹ بار کے صدر چودھری ذولفقار علی کا کہناتھا کہ محالحتی نظام کو فعال کرنا ایک اچھا اقدام ہے، ججز کے ساتھ ساتھ وکلاءکو بھی اے ڈی آر قوانین بارے کورسز کروائیں جائیں۔ ظفراقبال کلانوری ایڈوکیٹ نے کہا کہ عدالتوں میں سال ہا سال تک مقدمات کے فیصلے نہیں ہوتے، محالحتی نظام سے تصفیہ طلب معاملات جلد حل ہوتے ہیں ،اس سے عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ کم ہوگااورکیسز کے فیصلے بھی جلد ہوں گے، تقریب میں دیگرمقررین نے بھی اظہارخیال کرتے ہوئے مصالحتی نظام کی افادیت پرروشنی ڈالی۔ 

مزید : لاہور