سیف سٹی پراجیکٹ کے کیمروں کی مدد سے طیفی بٹ پر قاتلانہ حملہ کے ملزم شناخت کرکے گرفتار کرلئے گئے ،عدالت نے جسمانی ریمانڈ دے دیا

سیف سٹی پراجیکٹ کے کیمروں کی مدد سے طیفی بٹ پر قاتلانہ حملہ کے ملزم شناخت ...
سیف سٹی پراجیکٹ کے کیمروں کی مدد سے طیفی بٹ پر قاتلانہ حملہ کے ملزم شناخت کرکے گرفتار کرلئے گئے ،عدالت نے جسمانی ریمانڈ دے دیا

  

لاہور(نامہ نگار)ٹیپو ٹرکاں والا کے بیٹے امیر بالاج سمیت7ملزموں سے ابھی رائفل، کلاشنکوف ، پستول اور دو کاریں برآمد کرنی ہیں، عدالت میں پولیس کی استدعا پرضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے اقدام قتل اور طیفی بٹ کے گھر پر فائرنگ کرنے مقدمہ میں ملوث مذکورہ ملزمان کو 3روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی آئی اے کوتوالی پولیس کی تحویل میں دے دیاہے۔

چین میں دنیا کی سب سے زیادہ پری میچورپیدا ہونے والی بچی اب کس حال میں ہے ؟قدرت کا ایسا کرشمہ کہ دنیا بھر کے ڈاکٹرز ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے

جوڈیشل مجسٹریٹ فاروق اعظم سوہل کے روبرو سی آئی اے کوتوالی پولیس کے انسپکٹر مختار احمد نے ملزموں امیر بالاج ٹیپو، عامر مغل، عمران عرف مانی، جبران، حسن جہانگیر عرف علی، بابر حسین عرف بابری اور عمران اکبر کو طیفی بٹ کے گھر پر فائرنگ کرنے اور اقدام قتل کے الزامات کے تحت گرفتار کر کے پولیس کی بکتر بند گاڑی میں ضلع کچہری میں پیش کیاگیا، ملزموں کی پیشی کے وقت احاطہ کچہری میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی ، تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مدعی مقدمہ محمد عمران اجمل خان کی درخواست پر نامعلوم ملزموں مقدمہ درج کیا گیا تھا ،تا ہم سیف سٹی پراجیکٹ کے ذریعے ملزموں کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیا گیا ، ملزموں کو انسداد دہشت گردی عدالت میںپیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ملزموں کے خلاف درج مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ ختم کر دی ہے ، ملزموں کی نشاندہی پر رائفل، کلاشنکوف ، پستول اور دو کاریں برآمد کرنی ہیں ،ملزموں سے مقدمہ کے سلسلے میں مزید تفتیش کے لئے ان  کا 10روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے، ملزموں کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق گھر پر فائرنگ کرنے اور دیواروں کا پلستر اترنے سے اقدام قتل کا کیس نہیں بنتا ، پولیس نے بے بنیاد مقدمہ درج میں ملوث کیا ہے ملزموں نے مدعی کے گھر پر فائرنگ نہیں کی اور نہ ہی پولیس کے پاس ملزموں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ چند روز پولیس نے پہلے سے درج مقدمہ میں ملزم امیر بالاج کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا اور اب نئے مقدمہ میں بے بنیاد ملوث کر دیا ہے، قانون کے مطابق ایک ہی تھانے میں درج دو مقدمات کے علیحدہ علیحدہ جسمانی ریمانڈ حاصل نہیں کئے جا سکتے ہیں ،ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد طیفی بٹ کے گھر پر فائرنگ کرنے اور اقدام قتل کے مقدمہ میں ملوث امیر بالاج ٹیپو سمیت سات ملزموں کو 3روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیاہے۔

مزید : لاہور