وزیراعظم کو مستعفٰی ہو جانا چاہیے تاکہ جے آئی ٹی شفاف طریقے سے تحقیقات کرسکے : سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین

وزیراعظم کو مستعفٰی ہو جانا چاہیے تاکہ جے آئی ٹی شفاف طریقے سے تحقیقات کرسکے ...
وزیراعظم کو مستعفٰی ہو جانا چاہیے تاکہ جے آئی ٹی شفاف طریقے سے تحقیقات کرسکے : سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین

  

جدہ (محمد اکرم اسد) وفاقی وزیر سابق چوہدری شہباز حسین نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے نکھار پیدا کر دیا ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف کو 2ججوں نے مجرم جبکہ 3 نے ملزم قرار دیا ہے ۔ اس لیے اخلاقی طور پر میاں صاحب کو مستعفٰی ہو جانا چاہیے تاکہ جے آئی ٹی شفاف طریقے سے تحقیقات کرسکے کیونکہ اس سے مستقل تاثر جائے گا کہ حکومت جے آئی ٹی پر اثر انداز ہو رہی ہے جبکہ استعفٰی سے ان کے قد کاٹھ میں اضافہ ہو گا ۔ ان خیالات کا اطہار انہوں نے پانامہ کے حوالے اور سپریم کورٹ کے کے فیصلہ پر کیا۔

چوہدری شہباز حسین نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف اور اس کے بچوں کو مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو نے کا فیصلہ دیا ہے جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ وہ صاف نہیں ہیں۔ جے آئی ٹی کے سامنے وہی پیش ہوتے ہیں جو ملزم ہوں۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کو اب ان سوالات کا جواب دینا ہو گا وہ ان کے لیے کافی مشکل کا باعث ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اپنا وقت پورا کر چکے ہیں ااور انہیں چاہیے کہ وہ وقت کی نذاقت کو سمجھیں اور اس فیصلے کو تسلیم کر لیں۔ تفصیل دی جانے والی جے آئی ٹی کے حوالے سے چوہدری شہباز حسین کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کریمنل افراد سے تحقیقات کیلئے تشکیل دی جاتی ہے جو منی لانڈرنگ، بدعنوانی اور دیگر اس قسم کے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اس حوالے سے سپریم کورٹ نے تحقیقاتی ٹیم بنا کر خود ہی فیصلہ صادر کر دیا ہے ، حقیقت حال کا میاں برادران کو احساس ہی نہیں ہورہا بلکہ انہوں نے حقیقت سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلہ سے لوگوں کا خوف ختم ہو چکا ہے اور سیاسی جماعتیں بھی اکٹھی ہو رہی ہیں جبکہ حالات اب تیزی سے تبدیل ہونگے اور امید کی جانی چاہیے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم عوامی امنگوں پر پورا اثرے گی اور بغیر کسی دباﺅ کے اپنا کام کرت گی۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ والوں خوشیاں نہیں منانی چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ 2 سینئر جنہوں نے میاں برادران کو نااہل قرار دے دیا ہے جبکہ تین ججوں نے مزید تحقیقات کیلئے کہا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -