ایک دن ’’کرپشن سائیں‘‘ کے ساتھ!

ایک دن ’’کرپشن سائیں‘‘ کے ساتھ!
ایک دن ’’کرپشن سائیں‘‘ کے ساتھ!

  

قارئین!اسے ہماری ’’خوش قسمتی‘‘ کہیں یا کچھ اور۔ ہمیں ایک دن ’’کرپشن سائیں‘‘ سے انٹرویو کا ’’ٹاسک‘‘ ملا۔ ایک نووارد صحافی کے طور پر ہمارے لئے تو یہ ’’کوہِ گراں‘‘ سے کم نہ تھا، جو ہمیں سَر کرنا تھا مگر ’’مدیر گرامی‘‘ کی ’’ہُلاشیری‘‘ پر ہم نے بھی کچھ ٹھان لی۔

اگلے ہی روز ’’ان‘‘ سے ملاقات کا وقت بھی طے ہو گیا۔ ان سے کئے گئے سوالات و جوابات قارئین! آپ کی نذر کرتے ہیں اور آپ سے اپنی خیریت کی دعا کی درخواست بھی کرتے ہیں۔۔۔ہماری ملاقات ان کے محل نما گھر کے لان میں ہوئی۔

سوال: (ان کے پُرشکوہ محل کی بلندیاں چھو کر جب ہماری نظر واپس پلٹی تو ہمیں اپنا وجود حقیر سا محسوس ہونے لگا مگر انہوں نے جب اپنی کرسی سے اٹھ کر نہایت تپاک سے ہمارا خیرمقدم کیا، تو ہماری خود اعتمادی بحال ہو گئی) آپ کی طرف سے ہماری خوشدلانہ پذیرائی اور آپ کی درویشی دیکھ کر ہمیں یقین نہیں آ رہا کہ آپ کسی ’’کرپشن وغیرہ‘‘ کے مرتکب ہوئے ہونگے، مگر پھر بھی لوگ آپ کو ’’شہنشاہِ کرپشن‘‘ کہتے ہیں، کیا یہ ’’کھُلا تضاد‘‘ نہیں؟

جواب: ’’غلط‘‘ مَیں بھی نہیں اور ’’غلط‘‘ لوگ بھی نہیں ہیں۔ آپ نے شاید وہ پرانا گانا نہیں سنا، جس میں میڈم نورجہاں کہہ رہی ہیں، ’’ہم پہ الزام تو ویسے بھی ہے، ایسے بھی سہی‘‘ دراصل یہ میڈیا کی ’’ریشہ دوانیاں یا کرشمہ سازیاں‘‘ ہیں یا پھر ہمارے دشمنوں کی پھیلائی ہوئی افواہیں ہیں۔

میرے آباؤ اجداد ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک تھے، جنہیں آباد کرنے کے لئے، ظاہر ہے، انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ انسان، وہ ہاری ہماری زمینوں پر کام کرتے ہیں، جنہیں ہم معقول معاوضہ ادا کرتے ہیں۔

ان زمینوں سے ’’کچھ‘‘ آمدنی ہو جاتی ہے جو ہماری گزر بسر کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اس آمدنی سے اگر مَیں نے کوئی اچھا گھر اپنی رہائش کے لئے تعمیر کر لیا ہے تو میڈیا والوں کو نجانے کیوں ’’مروڑ‘‘ اٹھتے ہیں، ایسے ہی خواہ مخواہ ’’کرپشن‘‘ جیسے الفاظ میرے نام سے منسلک کر دیتے ہیں، جبکہ مَیں نے آج تک کسی کا ’’حق‘‘ نہیں مارا اور نہ ہی ایسا سوچ سکتا ہوں۔

سوال: سنا ہے، آپ کیریئر کے آغاز ہی میں نہایت ’’ذہین‘‘ تھے؟ آپ کے ’’اجداد‘‘ نے شہر کے متمول علاقہ میں جو سینما گھر تعمیر کیا تھا، وہ آپ کی ’’نگرانی‘‘ میں سونپ دیا گیا تھا، جہاں ہر سینما کی طرح ’’سینما ٹکٹ‘‘ ’’بلیک‘‘ میں فروخت ہوا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے یہ سب آپ کے ایماء پر ہوتا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جائے؟

جواب: یہ انتہائی ’’بھونڈا‘‘ ’’مذاق‘‘ ہے، جو میرے بارے میں مشہور کر دیا گیا۔ (تھوڑا تلملاتے ہوئے) دیکھیں اگر آپ نے اسی طرح کے سوالات کرنے ہیں تو میرے پاس ’’نو کمنٹس‘‘ کا جواب ہے۔

درحقیقت کچھ لوگ ہوں گے جو اس طرح کا قبیح کام کرتے رہے ہوں گے لیکن میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں۔ ویسے بھی ہم زمین دار لوگ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر ’’توجہ‘‘ نہیں دیتے۔

سوال: چلیں ’’موٹی باتوں‘‘ کی طرف آتے ہیں، آپ نے شادی کے لئے ایک معروف حکومتی خاندان کی ’’لڑکی‘‘ کو چنا، جب کہ وہ ’’واجبی‘‘ شکل و صورت کی مالک تھی۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ آپ کی ترجیح ’’حسن‘‘ کے بجائے ’’حصول طاقت برائے امارت‘‘ تھی، تو کیا آپ کی یہ حرکت ’’دولت سے محبت‘‘ کی علامت نہیں تھی؟

جواب: (گہری سانس لے کر مسکراتے ہوئے) ہماری سرزمین درویشوں کی جلوہ گاہ رہی ہے، ہمیں ’’انسانیت سے محبت‘‘ کا سبق سکھایا جاتا ہے اور ویسے بھی ہمیں حسن و عشق جیسے فضول کاموں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میرے آباؤ اجداد نے اگر ایک جگہ میری شادی طے کر دی تو مَیں کون ہوتا ہوں جو ’’انکار‘‘ کروں۔

یہ حسن و عشق وغیرہ سب ’’دنیاوی‘‘ باتیں ہیں جو آج کل کے، نوآموز ’’چھوکرے‘‘ سوچا کرتے ہیں۔

سوال: کہتے ہیں اس شادی کو آپ نے بہت ’’کیش‘‘ کیا، چہار جانب ’’ریکارڈ‘‘ چلتے رہے، کوئی آپ کو ’’کرپشن کنگ‘‘ تو کوئی آپ کو ’’کرپشن آئیکون‘‘ کہتا رہا، سچائی کیا ہے؟

جواب: اس سوال کا جواب ابھی دیتے ہیں مگر کھانے کا ٹائم ہو گیا ہے، چلئے کھانا کھاتے ہیں (وہ اٹھے اور ہمیں ساتھ لے کر اندر ڈائننگ ٹیبل کی جانب بڑھے) آپ خود دیکھ لیں، مجھے کھانے میں کیا پسند ہے؟ یہ ’’دیسی بھنڈی‘‘ اور سادہ روٹی میری کمزوری ہے، باقی لوازمات آپ جیسے ’’مہمانوں، ساتھیوں اور دوستوں‘‘ کے لئے ہوتے ہیں۔

آپ سے پہلے بھی کئی اخباری نمائندے اور ٹی وی مہربان آتے رہے ہیں اور مَیں ان سب کے لئے ایک ’’خدمت گزار‘‘ سا بندہ بنا ہوتا ہوں۔ آپ کھانا شروع کریں۔ آپ کے ’’سوال‘‘ کا جواب بھی دوں گا۔ (چہار جانب باوردی ’’خدمت گاروں‘‘ نے کھانا ’’سرو‘‘ کرنا شروع کر دیا۔

وہ گویا ہوئے، یہ ’’کرپشن کنگ‘‘ ’’کرپشن آئیکون‘‘ یہ سب مفروضے ہیں، مَیں نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا، میرے دل میں اپنی قوم کا درد ہے، مَیں نے ہر طرح سے یہی کوشش کی ہے کہ قوم کی خدمت کر سکوں اور اپنی طرف سے پورا حق ادا کروں مگر یہ میڈیا والے نجانے کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں، مَیں نے ساری دنیا دیکھی ہے اور ہر معقول جگہ پر ایک ’’جھونپڑی‘‘ بنائی ہے تاکہ عوامی خدمت سے جب کبھی طبیعت بوجھل ہو اور پھر سے تازہ دم ہونے کے لئے باہر چکر لگانا مقصود ہو تو ہوٹلوں میں خوار نہ ہونا پڑے اور عوامی بجٹ پر بھی بوجھ نہ آئے، ویسے بھی اس تیز رفتار میڈیا نے تو ہر کسی کی ’’پرائیویسی‘‘ چھین لی ہے اور کمرشل جگہوں پر قیام کرنا پُرخطر ہو چکا ہے۔

اپنی شادی کو ’’کیش‘‘ کرنے کے الزام پر مَیں فقط اتنا ہی کہنا چاہوں گا، وہ دوست کیا ہے جو کسی دوست کے کام نہ آ سکے۔ مَیں نے اپنے کسی دوست کو اس کا ’’جائز‘‘ حق دلانے میں اگر ساتھ دیا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ اس طرح کی الزام تراشیاں میرے مخالف سیاستدان کرتے رہتے ہیں جن میں ذرا بھی سچائی نہیں۔

سوال: ہماری معلومات کے مطابق آپ نے دنیا بھر میں فقط ’’جھونپڑیاں‘‘ ہی نہیں بنائی ہیں بلکہ بڑی بڑی ملیں اور فیکٹریاں بھی قائم کی ہیں جن کی لاگت کے مقابلے میں آپ کی زرعی آمدنی شرماتی نظر آتی ہے۔ کیا آپ کے کچھ اور وسائل بھی ہیں جو آپ کے بڑے بڑے پراجیکٹس مکمل کرنے میں معاون ہیں؟

جواب: آپ صحافی لوگ واقعی بڑے ’’بدمعاش‘‘ ہوتے ہیں، کوئی نہ کوئی تیر ایسا ضرور چھوڑتے ہیں جو ٹھیک مقابل کے سینے میں پیوست ہو جائے، لیکن چھوٹے بھائی! ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ صحافت کی بجائے ’’اکنامکس‘‘ پڑھ لیتے تو کئی الجھنوں سے بچ سکتے تھے۔

برادرم! آپ نے اگر کوئی فیکٹری یا مل قائم کرنی ہے تو ہمارے ملکی بینک آپ کو سرمایہ فراہم کرتے ہیں یا آپ کو فقط زمین کی ملکیت دکھانا ہوتی ہے۔

باقی سارا کام بینک کا عملہ اور میرا عملہ مل کر انجام دے ڈالتے ہیں اور اس کام کے فوائد دیکھیں، ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار مل جاتا ہے۔ لوگوں کے چولہے جلتے ہیں تو مجھے دعائیں دیتے ہیں، ویسے بھی مَیں اپنی بھرپور توانائی اسی کام میں صرف کر رہا ہوں کہ ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔

سوال: (روسٹ ران کا نوالہ ہمارے حلق میں اٹکنے لگا تھا) سَر! لوگ کیا پاگل ہیں کہ پھر بھی آپ پر کرپشن جیسے الزامات عائد کر رہے ہیں اور آپ بھی خاموش ہیں۔ کیوں؟

جواب: دیکھیں! ہر چیز کی کوئی حد ہوتی ہے، لوگ جب حد سے تجاوز کرنے لگیں تو ’’خاموشی‘‘ سے بہتر کوئی بات نہیں ہوتی۔ آپ نے کبھی ’’دیمک‘‘ پر غور کیا ہے، جو خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی ہے۔

مَیں بھی چپ ہوں کہ شاید اسی میں میرا رب راضی ہے؟

(اس فلسفیانہ جواب کے بعد ہمارے پاس کسی سوال کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے؟ قارئین کرام! آپ ہی بتائیں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔

مزید : رائے /کالم