معروفسفرنامہ نگار ڈاکٹر محمد منیر مرزا کانیا شاہکار ’’نگر خنجراب داستان‘‘ شائع ہو گیا

معروفسفرنامہ نگار ڈاکٹر محمد منیر مرزا کانیا شاہکار ’’نگر خنجراب ...

لاہور(پ ر) جو صحیح معنوں میں تخلیق کار ہوتے ہیں ان کے لئے ہر گوشہ کائنات ایک حیرت کا جہاں لئے ہوئے ہوتا ہے۔ ان کی گہری نظر کا مشاہدہ اور تخلیقی صلاحیتوں کا سیل رواں قدم قدم پر قدرت کے نظاروں کی دعوت دیتا ہے۔ جن پر قدرت کے راز و شاہکار آشکار ہوتے ہوں وہ ہمیشہ اضطراب و جستجو میں مگن رہ کر ہی سکون محسوس کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد منیر مرزا زندگی کے طویل شب و روز گزارنے کے باوجود اگر تازہ دم ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے قدرت اور اس کے دل پذیر نظاروں سے لَو لگا رکھی ہے۔ کتنے ہی یادگار سفرناموں کے بعد ان کا نیا سفرنامہ ’’نگر خنجراب داستان‘‘ کے نام سے شائع ہو کر اعلیٰ ذوق کے حامل قارئین سے زبردست پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ سفرناموں کے ایک طویل سلسلے کی مناسبت سے ان کو ’’جہاں گرد‘‘ کا خطاب بھی مل چکا ہے لیکن یہ خطاب ملنے کے باوجود ان کی رگوں میں دوڑتا ہوا خون ابھی بہت کچھ کرنے کے لئے گرم رہتا ہے۔ ان کے ذہن و دل پر دور دراز بالائی علاقوں کے دل گداز منظرنقش ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے بلند وبالا پہاڑ بھی ان کے حوصلے کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ ان کے گراں قدر جذبات سے بخوبی آگاہ ہونے کے علاوہ متعدد بار ہم آغوش ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ نیا سفرنامہ معروف اشاعتی ادارے ’’دارلشعور‘‘ مزنگ روڈ نے شائع کیا ہے اس کا سرورق برف پوش پہاڑی چوٹیوں اور ان کی ایک خاص عزم و حوصلہ کی حامل تصویر سے آراستہ اور دیدہ زیب ہے۔ ان کی شاعرانہ طبیعت کا عنصر بھی اس سفرنامے کو جگہ جگہ مختلف شاعروں کے کلام سے مزین کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ تحریر کا وہی انداز اس سفرنامے میں بھی ہے جو اپنے تاثر کے حوالے سے دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان کا یہ سفرنامہ ادبی لحاظ سے بھی ایک انفرادیت کا حامل ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1