نگران حکومت پر کسی کا دباؤ نہیں ہونا چاہئے ، نواز شریف

نگران حکومت پر کسی کا دباؤ نہیں ہونا چاہئے ، نواز شریف

 لندن(ابتسام عزیز، نمائندہ خصوصی،نیوز ایجنسیاں)مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائد وسابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ایسی نگران حکومت ہونی چاہیے جس پر کسی کادباؤنہ ہو،کیا ہم صاف اور شفاف انتخابات کی طرف جا رہے ہیں؟۔لندن میں اپنے صاحبزادے حسن نواز شریف کی دفتر میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہاکہ میری زبان بندی کردی گئی تاہم الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو برابری کا موقع ملناچاہیے جبکہ مسلم لیگ ن سے ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نے کہا کہ عوام الیکشن کو ریفرنڈم سمجھ کر اس میں حصہ لیں۔میاں نوازشریف نے کہا کہ مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں اورجس طرح کا مجھ پر مقدمہ ہے کیا پہلے کسی پر ایسا مقدمہ قائم ہوا؟۔ایک سوال پرانہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے پوچھیں کیا ان کے ممبران نے تیر پر مہر نہیں لگائی؟۔میاں نواز شریف نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے اتوار کو پاکستان پہنچ جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری انصاف فراہم کرنا ہے۔ انتظامی کاموں کیلئے وزراء اورحکام موجود ہیں۔کلثوم نواز کی تیمارداری کیلئے عدالت کی جانب سے استثنیٰ نہ ملنے پر نوازشریف نے کہا کہ کبھی کبھی ساری مشکلات ایک ساتھ آ جاتی ہیں کیونکہ اسی کا نام زندگی ہے۔قبل ازیں مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائد میاں نوازشریف کے زیر صدارت پارٹی کاغیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق لندن میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسن نواز کے دفتر میں مسلم (ن) کا غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اسحق ڈار، حسن اور حسین نواز بھی شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں نوازشریف اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے درمیان نگراں سیٹ اپ پر گفتگو کی گئی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف کے صاحبزادے حسن نواز نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو، یہی میاں صاحب کا نعرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو عدالتی استثنیٰ نہ ملنا افسوس ناک ہے لیکن ماضی میں بھی ایسے کیسز میں لوگوں کو استثنیٰ ملتا رہا ہے۔میاں نوازشریف نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے پاکستان کے موجودہ حالات پر گفتگو ہوئی ، وزیراعظم سے ملک میں غیر یقینی صورتحال پر بھی بات ہوئی ہے وزیراعظم سے ملاقات ہوتی رہتی ہے ،موجودہ حالات میں پاکستان کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر وزیراعظم سے میری گفتگوہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف اور مجھ میں بہت فرق ہے ، میں پرویز مشرف نہیں جو ملک سے بھاگ جاؤں گا۔ نوازشریف نے کہا کہ عوام الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیں ، مسلم لیگ (ن) حقدار بھی ہے ، سینیٹ انتخابات میں کیا ہوا جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے بتا دیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کا حکم اوپر سے آیا ہے ، باقی پارٹیاں اوپر سے حکم لینے والی ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) عوام سے حکم لیتی ہے ،مسلم لیگ (ن) ان قوتوں سے ہدایات نہیں لیتی جنہوں نے بلوچستان میں اسمبلی الٹائی اور صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنوایا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے پوچھیں کیا ان کے لوگوں نے سینیٹ انتخابات میں تیر کو ووٹ نہیں دیا ، عمران خان سے پوچھیں کہ انہوں نے تیر پر مہر آصف زداری کے کہنے پر لگائی یا کسی نے اوپر سے حکم دیا ، عمران خان کو یہ بات قوم کو بتانا پڑے گی ، قوم کو جانچنا پڑے گا کہ ان سب میں جھوٹے کون ہیں اور کھرے اور سچے کون ہیں ؟آج سچے اور جھوٹے کا مقابلہ ہے، قوم کو دیکھنا چاہیے اور قوم دیکھ بھی رہی ہے۔نواز شریف نے کہا ہے کہ میں قوم کی توجہ مبذول کروا رہا ہوں، یہ پاکستان کو کس طرف لے کر جائیں گے، میں اس طرح کا بندہ نہیں ہوں کہ چھوڑ کر بھاگ جاؤں، میرے اوپر ایک مشکل وقت ضرور آیا ہے، مشکل وقت مجھ پر کیوں آیا ہے میں اس کی وجہ سمجھ نہیں پایا، سمجھ آتی بھی ہے لیکن شاید میں اس طرے سے آپ کے سامنے کہہ نہ سکوں، نگران وزیراعظم سے متعلق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے بات چیت ہو چکی ہے ،ایک دو اور اجلاس ہوں گے اور نگران وزیراعظم کیلئے جو بھی نام ہوگا اس پر بات کریں گے ،آجکل پاکستان میں بہت دباؤ ہے یہ ٹھیک نہیں ہے ،ایسا کوئی ملک دنیا کے خطے میں نظر نہیں آتا جہاں پاکستان جیسے حالات ہوں ،بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں آئے دن اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر نیچے جا رہے ہیں اور روپے کی قدر میں کمی ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقی کی شرح 6فیصد متوقع تھی ، اب پیشنگوئی ہے کہ اگلے سال شاید4.9فیصد رہے ،میرے مقدمے میں کسی قسم کی کرپشن کا ذکر نہیں ہے۔نیب میں سب وہ مقدمات ہیں جہاں کمیشن لی گئی ، کرپشن ہوئی ، میرے کیس میں ایسا کچھ نہیں ہے ، میں بہت ساری باتیں ایسی کروں گا جنہیں آپ ٹی وی پر بھی نہیں چلا سکتے ،بتایا جائے جیسا مقدمہ مجھ پر نیب میں دائر ہوا ہے کیا ایسا کبھی کسی اور پر دائر کیا گیا ہے ،یہ صورتحال ملک اور پوری قوم کیلئے بڑی پریشان کن ہے ۔ نوازشریف نے کہا کہ یہ زبان بندی اظہار رائے پر پابندی ،میڈیا پر پابندی ایسا کسی جمہوری دور میں نہیں ہوا، کیا ہم شفاف الیکشن کی طرف جا رہے ہیں؟، میں اس قسم کا معاملہ پاکستان میں پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں ، میرے معاملے میں کوئی کرپشن، خورد برد ،فنڈز کا ناجائز استعمال یا کوئی کمیشن کا معاملہ نہیں ہے ،نیب کی تاریخ میں کوئی مقدمہ ایسا دائر نہیں ہوا جو میرے مقدمے سے ملتا جلتا ہو ،ہفتے میں پانچ پانچ پیشیاں ہو رہی ہیں جبکہ دوسرے مقدمات میں تین مہینے تک کوئی پیشی نہیں ہوتی ، یہ چاہتے ہیں کہ نوازشریف کو کسی نہ کسی طرح سزا دیں اور اگلے الیکشن میں (ن) لیگ کو مساوی چانس نہ ملے ، میں قوم کو خبردار کرنا چاہ رہا ہوں ،سارے فیصلے اور جو کچھ میرے خلاف ہو رہا ہے یہ الیکشن سے پہلے دھاندلی کی دلیل ہے ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم اس معاملے کو روکے گی اور پورے زور کے ساتھ روکے گی ۔

نوازشریف

لندن( نمائندہ خصوصی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ’’ووٹ کوعزت دو‘‘آئندہ انتخابات میں یہی مسلم لیگ ن کا نعرہ ہوگاکوئی بھی پاکستانی ایسا نہیں ہوگاجو یہ نہ چاہے کہ ووٹ کو عزت نہ دی جائے ۔عام انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے،لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ( ن) کا یہ منشور اور یہ نعرہ ہوگاکہ ووٹ کو عزت دی جانی چاہیے ۔ جب نگراں وزیراعظم کے نام سے متعلق پوچھا گیا تو وزیراعظم نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے ساتھ مشاورت کی جائے گی، وہ خود اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نگراں وزیراعظم کے نام کو فائنل کریں گے پنجاب کے وزیر اعلی کے حوالے سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلی فی الحال شہبازشریف ہی ہیں ۔ الیکشن سٹریٹجک کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی اور کامیاب ہوگی یہی ہماری سٹریٹجی ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ نوازشریف پاکستان سے آئے ہیں اور پاکستان ہی جائیں گے ۔ اس سوال پر کہ احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ہفتے بھر کا استثنا نہیں دیاہے تو اس پرشاہد خاقان عباسی نے کہاکہ یہ عدالت کافیصلہ ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...