چیف جسٹس ثاقب نثار نے فیمی لیئل ہائیپر کولیسٹرو لیمیا بیماری میں مبتلا بچوں کا ازخود نوٹس لے لیا

چیف جسٹس ثاقب نثار نے فیمی لیئل ہائیپر کولیسٹرو لیمیا بیماری میں مبتلا بچوں ...

لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثارنے فیمی لیئل ہائیپر کولیسٹرو لیمیا بیماری میں مبتلا بچوں پر ازخود نوٹس لے لیا۔چیف جسٹس نے آج22اپریل کوایڈووکیٹ جنرل اور پنجاب حکومت کے ذمہ داران افسروں طلب کرلیا ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دورکنی بنچ کے روبرو درخواست گزارسحرش نے بتایا کہ میں اور میرا بھائی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا پاکستان میں علاج نہیں ہے،متاثرہ بچوں کے والد محمد زبیر نے عدالت کو بتایا کہ ایک سال کی دوائیوں کا خرچہ 12 لاکھ ہے، سحرش نے کہا کہ امریکہ میں مشین ہے جہاں علاج ہوتا ہے ،وزیر اعلی پنجاب نے کیس ہیلتھ کمیشن میں بھیجاہے ، بیماری میں مبتلا بچی سحرش نے کہا کہ وہاں پر موجود ایک نثار قمرنامی خاتون نے کہا امریکہ میں کوئی اور خدا ہے جو اآپ کا علاج کرے گا،چیف جسٹس نے سحرش سے استفسار کیا کہ یہ کس نے کہا آپ سے؟تو بچی نے جواب دیا کہ نثار قمر 8 کلب میں بیٹھتی ہیں اوروہ فنانشل ڈائریکٹر ہیں، ان کی اس بیان کی فوٹیج بھی ہمارے پاس موجود ہے، سحرش نے فاضل بنچ سے کہا کہ وزیر اعلی اپنا بلڈ تبدیل کروانے باہر جا سکتے ہیں تو ہمارا علاج کیوں نہیں ہو سکتا؟متاثرہ بچوں کے والد نے کہاکہ 18 سال سے دونوں بچے موزی بیماری میں مبتلا ہیں،18سالوں سے ہم ہسپتالوں کے دھکے کھا رہے ہیں، کوئی بات سننے کو تیار نہیں، بزرگ والد اپنی روداد سناتے ہوئے روتا رہا جس پر چیف جسٹس کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر ان بچوں کا ہم نے کچھ نہیں کرنا تو پھر حکومت کا کیا کام ہے؟وزیر اعلیٰ کو بلا لیتے ہیں اور پوچھ لیتے ہیں کہ ان کاکیا کیاہے؟چیف جسٹس نے سحرش کے والد سے استفسار کیا کہ کیا آپ ایک رات یہاں رک سکتے ہیں؟ سب کو بلا لیتے ہیں،چیف جسٹس نے آج22اپریل کوایڈووکیٹ جنرل اور پنجاب حکومت کے ذمہ داران افسروں طلب کرلیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر