سپریم کورٹ کا مینٹل ہسپتال میں خواتین کو ہراساں کرنے کا ازخودنوٹس

سپریم کورٹ کا مینٹل ہسپتال میں خواتین کو ہراساں کرنے کا ازخودنوٹس

لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارنے مینٹل ہسپتال میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا ازخود نوٹس لے لیا، سپریم کورٹ نے دورکنی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے آئندہ سماعت پررپورٹ طلب کرلی ہے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ایڈووکیٹ عائشہ حامد اور ایڈووکیٹ ظفر کالانوری ہسپتال کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم دورکنی بنچ نے لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے کافی عرصہ پہلے جب مینٹل ہسپتال کا دورہ کیا تھا تو پتہ چلا تھا کہ وہاں بچیوں کو جنسی ہراساں کیا جاتا ہے۔ مینٹل ہسپتال میں پیازکی جگہ شیرا دیا جاتا ہے، چیف جسٹس نے قرار دیا کہ مینٹل ہسپتال علاج گاہ نہیں بلکہ جیل ہے، پتہ چلا ہے وہاں مریض اپنی حاجت بھی بستر پر کر دیتے ہیں، خواتین مریضوں کو بھی مرد ورکرز دیکھتے ہیں۔ عدالت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں ڈائریکٹر کی خالی اسامی پر تعیناتی کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیاہے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...