کراچی لوڈشیڈنگ تنازع میں شدت،وزیر اعظم نے کابینہ کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

کراچی لوڈشیڈنگ تنازع میں شدت،وزیر اعظم نے کابینہ کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

اسلام آباد (آئی این پی )کراچی میں بجلی کا بحران الیکشن سے پہلے ہی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تنازع کی شکل اختیار کر گیااور ان میں تکرارجاری ہے۔ کراچی کے شہری بجلی کے بحران کے سبب طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بھگت رہے ہیں، ایسے میں وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی)کے درمیان گیس فراہمی کے تنازع پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے الیکٹرک کی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوگی۔وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ جب تک کے-الیکٹرک، ایس ایس جی سی کے 80 ارب کے واجبات ادا کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تشکیل نہیں دے دیتی، اس وقت تک کے-الیکٹرک کو ادائیگی کے بغیر مزید گیس کی فراہمی نہیں کی جائے گی۔انہوں نے وزیراعلی سندھ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحران کو سیاسی شکل دے رہے ہیں، واضح رہے کہ وزیراعلی سندھ نے بجلی بحران کے حل کے لیے صوبے کی تمام جماعتوں کو مل کر اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا کہا تھا۔وفاقی وزیر نے وزیراعلیٰ سندھ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بااثر افراد سے بجلی کی چوری رکوائیں، تاکہ کراچی کے شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ نے دھمکی دی ہے کہ وہ بجلی بحران کے معاملے کو اگلے ہفتے ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل اور قومی قتصادی کونسل کے اجلاس میں بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے، اور اس کے علاوہ کسی اور معاملے پر گفتگو میں شریک نہیں ہوں گے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی میں 70 فیصد جبکہ کے-الیکٹرک میں 25 فیصد شیئرز وفاقی حکومت کے ہیں، اور سندھ حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کے ای ایس سی) کی نجکاری کی گئی، وفاقی حکومت نے کراچی واٹر بورڈ کے واجبات کی ادائیگی کی ضمانت بھی لی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کے-الیکٹرک اور سوئی سدرن کے درمیان جاری تنازع حل کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا امن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ( ن )نے سندھ میں انتخابات کی شکست کا بدلہ، سندھ کے عوام سے لینے کی ٹھان ہے۔اس وقت حیدرآباد اور سکھر کے شہری 16 سے 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہے ہیں۔کے-الیکٹرک، ایس ایس جی سی اور پٹرولیم کے اعلی افسراوں سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان جاری تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ عام صارف کی 2 ماہ کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب انکاکنکشن منقطع کردیا جاتا ہے، تو ایسا کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کے بغیر کے-الیکٹرک کو گیس کی فراہمی جاری رہے، قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور کراچی واٹر بورڈ، کے-الیکٹرک کے نادہندگان ہیں، لیکن ان واجبات کی ادائیگی صوبائی معاملہ ہے اور اسے صوبائی سطح پر ہی حل ہونا چاہیے۔ لغاری کا کہنا تھا کہ ملاقات میں سندھ حکومت، وزارت پیٹرولیم، سوئی سدرن گیس کمپنی اور کے-الیکٹرک کے اعلی عہدایداروں نے شرکت کی، جبکہ وزارتِ خزانہ کو اس معاملے کے حل کے لیے فریقین میں معاہدہ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کے-الیکٹرک، ایس ایس جی سی کے 13 ارب 7 کروڑ کی نادہندہ ہے، جبکہ پالیسی کے مطابق 60 سے 70 ارب روپے لیٹ سرچارج بھی واجب الادا ہیں، یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ عوام کا پیسہ ہے اور اس معاملے کو عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، گیس کی فراہمی معاہدے کے تحت ہی ہوگی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہر صارف گیس کے تجارتی معاہدے کے تحت ہی گیس حاصل کرتا ہے جس میں غریب صارفین بھی شامل ہیں، اسی طرح کے-الیکٹرک بھی اس سے بالاتر نہیں۔۔کے-الیکٹرک کی ترجمان سعدیہ ڈاڈا نے بتایا کہ ایس ایس جی سی کی جانب سے 60 ارب روپے کے سرچارج کی ادئیگی پر اصرار کیا جارہا ہے۔

بجلی تنازع

اسلام آباّ ( مانیٹرنگ ڈیسک ): وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا۔وزیراعظم نے کراچی میں بجلی لوڈشیڈنگ اور شہر کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے ایشوز پرغور کے لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا خصوصی اجلاس پیر کو کراچی میں طلب کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس گورنر ہاؤس کراچی میں دوپہر 12 بجے ہوگا۔واضح رہے کہ گرمی بڑھتے ہی ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی ہب کراچی کے شہریوں کو بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر صنعتوں پر پڑا ہے۔اس سے قبل شہر کے صنعتکاروں نے بجلی فراہم نہ ہونے پر انڈسٹریز کو تالا لگانے کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ایک طرف میئر کراچی وسیم اختر کو اختیارات نہ ملنے کا شکوہ ہے، تو دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی بجلی بحران کے معاملے پر وفاق پر کافی گرم نظر آتے ہیں۔گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ وفاق کے پاس اگر بجلی بحران حل کرنے کی صلاحیتیں نہیں تو وہ اس کا اختیار سندھ حکومت کو دے دے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر اجلاس ہورہے ہیں لیکن کراچی کا کسی کو خیال نہیں آرہا، حتیٰ کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے مشیر خزانہ بھی کچھ نہیں کررہے۔اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کے الیکٹرک کو گیس کی کم فراہمی اور کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر وزیراعظم سیکریٹریٹ کے باہر احتجاج کا اعلان بھی کیا تھا۔’وزیراعلیٰ سندھ پہلے بجلی چوروں سے عوام کی جان چھڑائیں پھر دھرنے کی بات کریں‘وزیراعلیٰ سندھ کے اس بیان پر وفاقی وزیر پاور ڈویڑن اویس لغاری نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مراد علی شاہ پہلے اپنے صوبے کی پولیس کی مدد سے حیدرآباد اور سکھر ڈویڑن کے عوام کو بجلی چوری کرنے والوں کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا عوام کے مسئلے کا حل نکالیں، پھر وزیراعظم سیکریٹریٹ کے باہر احتجاج کا شوق پورا کریں۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...