صوبوں کو کمزور کرنے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ہو سکتی :میاں افتخار

صوبوں کو کمزور کرنے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ہو سکتی :میاں افتخار

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ حکومت کی معیاد ختم ہونے اور نگران سیٹ اپ سے قبل فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے ، موجودہ دور میں پختونوں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، صوبوں کو کمزور کرنے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ہوگی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں مومند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی کی سرکردہ شخصیات ملک ولی محمد جان، ملک محمد امین اورصوبیدار رحم شیر کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا ، مہمند ایجنسی کے صدر نثار خان بھی اس موقع پر موجود تھے، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ توپیاں پہنائیں اور انہیں باچا خان اور ولی خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ حل طلب ہے اور طویل عرصہ سے حکومت کی جانب سے اسے حل نہیں کیا جا رہا ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور آئین میں ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں فاٹا کا حصہ مختص کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ فاٹا دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے لہٰذا اس کی ترقی کیلئے مالی پیکج کو بھی یقینی بنایا جائے ، فاٹا کے بیشتر علاقوں میں بچھی مائینز سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں لہٰذا مزید جانی نقصان روکنے کیلئے ان مائینز کو صاف کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے اور دہشت گردی و بارودی سرنگوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے ورثا کو شہداء پیکج دینے کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ، انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام ایک طویل عرصہ سے کیمپوں میں پڑے ہیں لیکن ان کا پرسان حال نہیں فاٹا کے غریب آئی ڈی پیز کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام آئی ڈی پیز کی جلد اور باعزت واپسی کا انتظام کیا جائے ، ان کے تباہ شدہ گھر سکول ،ہسپتال سمیت تمام انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ آپریشن کے دوران بے دخل ہونے والے قبائلیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ اور ان ان کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر انہیں مالی امداد دی جائے، انہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور میں پختونوں کو حصہ نہیں دیا جا رہا ، سی پیک پختونوں کیلئے معاشی انقلاب ہے لیکن حکومت نے پختونوں کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی ترک نہ کی اور مغربی اکنامک کوریڈور ہمیں نہیں دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ ہم چین کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں البتہ پختونوں کے حقوق پر سودے بازی نہیں برداشت کریں گے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ کارخانے لگنے سے یہاں بے روزگاری کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکتا تھا لیکن مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث یہ نقصان اٹھانا پرا ۔انہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور میں فاٹا کو بھی شامل کیا جائے اور ایکسپریس وے کے ذریعے تمام قبائلی علاقوں کو اس میں رسائی دی جائے ،،ٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم ایک انقلاب تھا جس کا سہرا اے این پی کے سر ہے اور 18ویں ترمیم کی بدولت ملک مضبوط ہوا ، انہوں نے کہا کہ جو اٹھارویں ترمیم ختم کرنا چاہتے ہیں وہ دراصل این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ کم ہونے پر پریشان ہیں لیکن یاد رہے ملک تب ہی مضبوط ہو گا جب صوبے مضبوط ہوں ، انہوں نے کہا کہ چند عناصر ایسے ہیں جن کی آنکھ میں اٹھارویں ترمیم کھٹک رہی ہے ،تاہم اے این پی اپنی فتح کسی کی جھولی میں نہیں ڈالے گی اور اگر اسے رول بیک کیا گیا تو اے این پی میدان میں ہو گی ، حقوق چھیننے کی صورت میں ایک بار پہلے مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہو چکا ہے لہٰذا ملک اس بار ایسی کسی پالیسی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں چل سکتا ۔انہوں نے کہا کہ عوام صوبائی حکومت کی بد انتظامی سے پہلے ہی نالاں تھے ، دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والے سینیٹ الیکشن میں خود ضمیر بیچتے رہے اور حالیہ صورتحال نے سب کو بے نقاب کر دیا ہے ،،عمران خان ممبران کو پارٹی سے نکالنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی وضاحت کریں کہ انہوں نے اپنا ووٹ کس کو فروخت کیا ، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے دورہ پشاور کے بعد تبدیلی کا پول کھل گیا ہے ،عوام اے این پی پر بھرپور اعتماد کرنے لگے ہیں اور آئندہ الیکشن میں کامیابی کے بعد پختونوں کو درپیش تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے

مزید : پشاورصفحہ آخر