بھینس کالونی کے کمیشن ایجنٹوں نے کے ایم سی کی کروڑوں کی زمین فروخت کر دی

بھینس کالونی کے کمیشن ایجنٹوں نے کے ایم سی کی کروڑوں کی زمین فروخت کر دی

کراچی(کرائم رپورٹر)بکرا منڈی بھینس کالونی میں کمیشن ایجنٹوں کو کاروبار کے لیے دی جانے والی زمین کی غیر قانونی فروخت ، متعدد بیوپاری لاکھوں روپے کی سرکاری ز مین بیچ کر چلے گئے،کے ایم سی کو کروڑوں روپے کا نقصان ،تفصیلات کے مطابق 1965میں کے ایم سی نے بکروں کے کمیشن ایجنٹس کو لیاری بکرا منڈی سے ہٹا کر بھینس کالونی بکرا منڈی گلی نمبر 9میں پلاٹنگ کرکے اس شرط پر مختصر مدت کے لئے جگہ دی تھی کہ نہ تو وہ اسے بیچ سکتے ہیں اور نہ ہی اسے کرائے پر دینے کے مجاز ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں پابند کیا گیا تھا کہ وہ اس جگہ پر کسی قسم کی تعمیرات نہیں کریں گے ۔کیونکہ انہیں اس جگہ کی نہ تو کوئی لیز دی گئی تھی اور نہ ہی ان سے اس جگہ کا کے ایم سے نے کوئی کرایہ لیا تھا ،لیکن جیسے ہی وقت کے ساتھ ساتھ زمین کی قدر بڑھنا شروع ہوئی چند کمیشن ایجنٹوں نے کے ایم سی کے کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے اپنے اپنے پلاٹ پر نہ صرف تعمیرات کرنا شروع کردی بلکہ انہیں لاکھوں روپے میں فروخت بھی کرنا شروع کردیا ،متعدد کمیشن ایجنٹوں نے اپنے پلاٹ پر تعمیرات کرکے انہیں کرائے پر دے دیا ،زرائع کے مطابق 2014میں کے ایم سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ نے پولیس اور مختیار کار کو اپنے ساتھ ملا کر چند قابضین سے اس جگہ کے کچھ پلاٹ واہگزار کرواکر جمشید کوارٹر کے رہائشی محمد اسحاق کو 60لاکھ میں وہ پلاٹ فروخت کردیے تھے ،جسے محمد اسحاق نے بعد میں بھینسوں کے باڑے بناکر فروخت کردیا ،اس اقدام پر کراچی مویشی مرچنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد یوسف مری بلوچ نے متعلقہ اداروں کو خطوط لکھے تھے جس پر جن قابضین نے اپنے اپنے پلاٹوں پر تعمیرات کی ہوئی تھی وہ گھبراگئے کہ کہیں ان خطوط کی وجہ سے کے ایم سی حرکت میں آکر ان کی تعمیرات کو نقصان نہ پہنچادے ،جس پر چند کمیشن ایجنٹس نے ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر لے لیا جس کے بعد کمیشن ایجنٹس نے اپنے اپنے پلاٹ دوسروں کو فروخت کرنا شروع کردیے اور ان خریدار کو پلاٹ کے کاغذات کی جگہ اسٹمپ پیپر پر ملبے کی رسید تھماتے رہے ، کمیشن ایجنٹوں آج بھی گلی نمبر 9میں زمین کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے اور کے ایم سی اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔اس ضمن میں کراچی مویشی مرچنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد اسماعیل نے روزنامہ پاکستان کو بتایاجب سے کمیشن ایجنٹوں کو یہاں کاروبار کرنے کے لیے عارضہ جگہ دی گئی تھی تب سے یہ کمیشن کروڑوں روپے کا کاروبارکرچکے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج تک ان میں سے کسی ایجنٹ نے انکم ٹیکس نہیں بھراجبکہ کے ایم سی کو صرف بکروں کے بیوپاریوں سے بکروں کی داخلہ فیس لی جاتی رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ میں روزنامہ پاکستان کے توسط سے وزیر اعلیٰ سندھ،کمشنر کراچی میئر کراچی سے اپیل کرتا ہوں بکروں کے بیوپاریوں کے وسیع تر مفاد میں اقدامات کرتے ہوئے گلی نمبر9میں کی جانے والی تمام غیر قانونی تعمیرات کو فوری مسمار کرکے اس جگہ کو کے سرکاری تحویل میں لے لیا جائے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر