اشتہاری قرار دینے سے الیکشن لڑنے کی آئینی اہلیت ختم نہیں ہوتی، اسحاق ڈار

اشتہاری قرار دینے سے الیکشن لڑنے کی آئینی اہلیت ختم نہیں ہوتی، اسحاق ڈار

اسلام آباد(صباح نیوز)سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے سے متعلق کیس میں اپنے جواب میں کہا ہے کہ آرٹیکل 62 کے تحت اشتہاری قرار دینا کسی بھی شخص کی (بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

انتخابی اہلیت ختم نہیں کرتا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار نے اپنے وکیل سلمان اسلم بٹ کے توسط سے سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف عدالت عظمی میں دائر درخواست کا جواب جمع کروا دیا ہے۔ 16صفحات پر مشتمل تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ اشتہاری قرار دینے سے بنیادی آئینی حقوق ختم نہیں ہوتے، انتخابات کے لئے اہلیت کا معیار آرٹیکل 62 میں دیا گیا ہے جب کہ کسی عدالت کی طرف سے اشتہاری قرار دینا آرٹیکل 62 کے تحت اہلیت ختم نہیں کرتا۔جواب میں درخواست خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہیں اشتہاری قرار دینے کے خلاف اپیل زیرالتوا ہے، درخواست گزار کی طرف سے اٹھائے گئے نکات الیکشن سے پہلے اٹھائے جاسکتے ہیں، اس بنا پر درخواست گزار کی اپیلیں ہائی کورٹ سے بھی خارج ہوئیں، الیکشن سے پہلے کے اعتراضات انتخابات کے بعد نہیں اٹھائے جا سکتے اور درخواست گزار نے الیکشن کے بعد متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا ۔عدالت عظمی کا آگاہ کیا گیا ہے کہ اسحاق ڈارکے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات بینک اکانٹ کے حوالے سے عائد کیے گئے تھے جس پر ریٹرننگ افسر نے کاغذات مسترد کیے تو اس کے خلاف اپیل دائر کی گئی، جس میں دونوں نشستوں کے لئے کاغذات نامزدگی درست قرار پائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...