کوہاٹ والوں کو مٹھائیوں کی شکل میں زہر کھلایا جارہا ہے : کامران یوسفزئی

کوہاٹ والوں کو مٹھائیوں کی شکل میں زہر کھلایا جارہا ہے : کامران یوسفزئی
کوہاٹ والوں کو مٹھائیوں کی شکل میں زہر کھلایا جارہا ہے : کامران یوسفزئی

  

پشاور (آن لائن)کوہاٹ میں ایک ماہ میں پانچ لاکھ چالیس ہزار کے جرمانے عائد، 158 اشیائے خوردونوش سے متعلق جگہوں کی چیکنگ ہوئی، 360 کلوگرام زہر آلود مٹھائی اور 200 لیٹر ملاوٹی دودھ ضائع کیا گیا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈحلال فوڈ اتھارٹی کوہاٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کامران یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ضلع کوہاٹ میں مٹھائیوں کا روزگار کرنے والے سویٹ کی شکل میں زہر بیچ رہے ہیں جس میں کہ نان فوڈ گریڈ کلرز کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ماہرین کے مطابق سرطان کا سبب بن سکتا ہے۔ کے پی فوڈ اتھارٹی کوہاٹ دفتر کی فعالیت کی ایک ماہ کی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر کوہاٹ کامران یوسفزئی کا کہنا تھا کہ آدھے سے زیادہ جرمانہ کئے گئے بیکرز انسانی صحت کیلئے غیر موضوع نان فوڈ گریڈ کلرز کا استعمان کررہے تھے جن پر نہ صرف بھاری جرمانہ کیا گیا بلکہ متنبیہ بھی کیا گیا ہے کہ آئندہ کیلئے مضر صحت کلرز کا استعمال نہ کریں ورنہ ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائے جائیگی۔

کامران یوسفزئی کا کہنا تھا 21 مارچ کو ان کے دفتر نے ضلع کوہاٹ میں باقاعدہ کام کا آغاز کیا اور 29 مارچ کو ضلع بھر کی تاجر برادری کے ساتھ ملاقات ہوئی جس کے بعد کوہاٹ میں کے پی فوڈ اتھارٹی کے دفتر نے آپریشنز کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے 158 اشیائے خورد ونوش کی جگہیں چیک کی ہیں جن میں سے 16 کو جرمانہ کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جرمانہ کئے گئے تمام بیکرز، آئس کریم کے کارخانے اور دیگر جگہوں پر مضر صحت رنگوں کا استعمال پایا گیا جو کہ مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک نان فوڈ گریڈ کلرز کے علاوہ ناقص صفائی، زنگ آلود برتنوں اور چائنہ سالٹ کے استعمال سمیت مس لیبلنگ پر ایکشن لئے جاچکے ہیں ۔ کامران یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ایک مہینے کے دوران پانچ لاکھ چالیس ہزار کے جرمانے عائد جاچکے ہیں جبکہ 127 سے زائد کے تنبیہی نوٹسز کا اجرا کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک ماہ میں مختلف آپریشنز کے دوران تین سو ساٹھ کلوگرام سے زائد کی زہر الود مٹھائی اور دو سو لیٹر ملاوٹی دودھ تلف کیا جاچکا ہے۔ ان کے مطابق کے پی فوڈ اتھارٹی نے بیکری اور ریسٹورنٹ چیکنگ کو مقدم رکھتے ہوئے 57 ایسے جگہوں کی چیکنگ کی ہے جبکہ دوسری جانب 32 سکولوں، 30 جنرل سٹورز اور 23 دودھ کی دوکانوں کے بھی دورے کئے جاچکے ہیں اور متعلقہ افسران نے ضرورت وقت کے تحت قانونی چارہ جوئی کی ہے۔

اسی طرح 16 فیکٹریز جن میں کہ زیادہ تر آئس کریم اور پاپڑ کی تھیں، کی ابھی تک چیکنگ کی جاچکی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کوہاٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی تک جتنے بھی سکولوں کی چیکنگ کی ہے ان میں نوے فیصد سکولوں میں بچے بغیر فلٹر کے پانی پینے پر مجبور ہیں جو کہ کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی ٹیم جہاں بھی جاتی ہے وہاں پر متعلقہ ادارے کی ٹیم صحیح طریقے سے گائیڈ کرتی ہے اور صفائی کی مد میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آتے ہی لوگوں میں شعور اور آگاہی اجاگر کرنے پر توجہ دی ہے اور جہاں بھی ممکن ہوا ہماری ٹیم گھنٹوں گھنٹوں عملے کو سمجھانے میں مصروف رہی اور ان کو صفائی اور محفوظ خوراک سے متعلق ہدایات دیتے رہے۔

اشیائے خوردونوش سے وابسطہ افراد کو متنبیہ کورتے ہوئے کامران یوسزئی کا کہنا تھا کہ خوراک میں زہر ملانے والوں کیلئے معافی کا کوئی خانہ نہیں اور کے پی فوڈ اتھارٹی کا منشور عوام کیلئے محفوظ خوارک کی فراہمی کو یقیبنی بنانا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور