پہاڑوں اور بیابانوں کی بجائے بازار میں رہ کر عبادت کرنے والوں کے بارے میں اللہ کے ایک محبوب بندے کی وہ بات جو انسان کو گمراہی سے بچا سکتی ہے 

پہاڑوں اور بیابانوں کی بجائے بازار میں رہ کر عبادت کرنے والوں کے بارے میں ...

جو شخص اپنے ظاہر اور باطن کو شریعت سے آباد کر لیتا ہے تو اس کا یہی مقام ہوتا ہے کہ اس کو بازار نقصان نہیں دے سکتا۔ وہ مسجد میں رہے یا بازار میں اس کا تعلق ربّ القدوس کے ساتھ استوار رہتا ہے ۔ سلطان العارفین حضر ت سلطان باھْوؒ فرماتے ہیں کہ شیطان عارف باللہ، فقیر، ولی اللہ آدمی پر سات قسم کے حربے استعمال کر تا ہیجن میں سے ایک یہ ہے کہ اسے اس بات پر مائل کرتا ہے کہ خلوت،دشت و بیاباں میں ہونی چاہیے تاکہ اس سے باجماعت نماز کی سنت چھوٹ جائے ۔بہت سے لوگ اپنی گھریلو اورسماجی ذمہ داریاں چھوڑ کر جنگلوں اور تنہائی میں نکل جاتے ہیں تاکہ عبادت میں مصروف رہیں لیکن توحید و سنت پر عمل کرنے والے اسکے برعکس دنیاوی امور ادا کرتے ہوئے اپنی عبادات سے غافل نہیں ہوتے ۔ 

اہل تصوف کے امام حضرت امام سری سقطیؒ ایسی خلوت اختیار کرنے والے کی سرزنش کرتے تھے ۔آپؒ نے توحید کو بغداد میں زندہ کردیا تھا اور بدعقیدگی کا قلع قمع کیا تھا ۔بہت سے مشائخ اور فقہا آپؒ کے ارادت مند تھے۔ حضرت جنید بغدادیؒ کے ماموں اور حضرت معروف کرخیؒ کے مرید تھے۔ آپ علمو حلم کا کوہ گراں اور اَسرار و رْموز کا خزانہ تھے۔ عراق کے بہت سے مشائخ آپ کے حلقۂ اِرادت میں سے تھے۔ حضرت شیخ فرید الدین عطا راپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’تذکرۃ الاولیا ء‘‘ میں لکھتے ہیں کہ آپؒ کے زہد و تقو یٰ کا یہ عالم تھا کہ آپؒ نے بغداد کے اندر دکان میں ایک پردہ لٹکارکھا تھا اور ہر روز پردے کے پیچھے ہزار رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ ایک شخص کہیں سے آپؒ کی زیارت کرنے آیا اور پردہ اٹھا کر سلا م عرض کیا کہ وہ فلاں جگہ سے آیا ہے اور اسکے علاقہ کے فلاں پیر زادہ نے آپؒ کو سلام پیش کیا ہے۔ آپؒ نے فرمایا ’’پیرزادہ تو تو پہاڑ میں ساکن ہو کررہ گئے ہیں۔ یہ کوئی جواں مردی نہیں ہے۔مرد ایسا ہونا چاہیے کہ بازار میں رہ کر حق تعالیٰ کے ساتھ ایسا مشغول ہوکہ اس سے غافل نہ ہو‘‘ 

مزید : روشن کرنیں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...