زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے

زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے
 زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے

  



اس انسان سے زیادہ کم عقل اور احمق کون ہو گا۔جو خود کو اپنے ہی ہاتھوں بربادی کے راستے پر گامزن کر کے ہاتھ ہی ملتا رہ جاتا ہے۔حکمت اور دانائی کی ہدایت کے راستے کو چھوڑ کر گمراہی کے گھپ اندھیروں میں گم ہو کر ڈاما ڈول بھٹکتا پھرتا ہے۔اس سے بے خبر کہ!انجام کار اسے دُنیا کی اس چکا چوند کو چھوڑ کر موت کی تلخ حقیقت کو گلے لگانا ہو گا۔’’موت‘‘ وہ سچائی جس کے آگے ہر کوئی بے بس ہے۔وہ اٹل حقیقت جس سے نہ تو آج تک کوئی بچ سکا ہے اور نہ ہی کوئی بچے گا۔وہ دردناک لمحہ جس کے آتے ہی ہر کسی کا دنیا سے رابطہ کٹ جاتا ہے اور وہ اپنی اگلی منزلوں کی جانب رواں دواں ہو جاتا ہے۔اس نے جو بیج زندگی بھر بوئے ۔آگے چل کر اس کو کاٹے گا۔یعنی جو اعمال زندگی بھر کیے موت کا نقارہ بجتے ہی اس کا سفر اجر یا عذاب کی شکل میں شروع ہو جاتا ہے۔موت وہ سفر ہے جس پر فرعون ، شدداداور نمرود جیسے (نعوذ باللہ)خود کو خدا سمجھنے بھی روانہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔دُنیا میں نہ تو ہمیشہ کبھی کوئی زندہ رہا اور نہ ہی کوئی رہ سکے گا ۔جب ایک حادثہ ہر کسی کے ساتھ رونما ہونا ہی ہے تو پھر یہ غفلت کیوں؟اے انسان سنبھل جا!!!ابھی وقت تیرے ہاتھ میں ہے ۔اعمال کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈر اس وقت سے جب اعمال کا سلسلہ رُک جائے گااور تو صرف ایک حسرت بن جائے گا۔کہ کاش!!!ایک بار پھر مجھے زندگی ملے اور میں نیکیوں کی دوڑ میں سبقت لے جاؤں ۔سکندرِ اعظم جس نے دُنیا کے بڑے حصے پر حکومت کی مرتے وقت دونوں ہاتھ کفن سے باہر نکالنے کی نصیحت کر کے گیا۔تا کہ آنے والوں کو سبق مل سکے کہ یہاں سے ہر کسی کو خالی ہاتھ جانا ہے ۔اگر کچھ ساتھ جانا ہے تو صرف اعمال ،اور کیا ہی مبارک ہے وہ انسان جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا۔زندگی نے بھی کبھی کسی سے وفا کی ہے۔تو پھر دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ کے لئے بد عملی کیوں؟دوسروں کی حق تلفی کیوں؟ ہدایت کے راست سے پہلو تہی کیوں؟ گزشتہ دِنوں ایک ایسے شخص کی وفات نے ’’موت کے سفر‘‘پرقلم ا ٹھانے پر مجبور کر دیا،جو اپنے وقت میں بڑا زور آور اور بہادر آدمی تھا،لیکن موت کی بے بسی نے اسے بھی آلیا۔یہ آج سے چالیس برس قبل کی بات ہے ۔جب لاہور میں میئر شجاع الرحمن ہوا کرتے تھے ۔ان دنوں نوجوانوں میں اپنے نام پیدا کرنے کے لئے غنڈہ گردی کا سہارا لیا جاتا تھا اور یہ سلسلہ پورے لاہور میں زور وشور سے جاری تھا۔ایسے میں کچھ خاندانی لڑکوں جن میں سے بعض کا تعلق اعلیٰ خاندان سے تھا ،جو کہ حادثاتی طور پر اس فیلڈ میں آگئے تھے۔جب ظالم سر اٹھا کر جینے پر پابندی لگا دیں تو ایسے میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ ہیرے جیسے نوجوان بربادی کے راستے پر چل نکلتے ہیں۔کچھ ایسا ہی عرفان مرزا کے ساتھ بھی ہوا جو ایک بہت بڑے خاندان سے تھا۔لیکن وقت اور حالات نے دور دور تک اسے غنڈے کی پہچان دے دی تھی۔یہاں اس کا وہ نام لینا اس لئے مناسب نہیں کہ وہ مدتوں پہلے سچی توبہ کرکے ہدایت کے راستے پر چل نکلا تھا اور اب مدتوں سے شریفانہ زندگی گزار رہا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کچھ وقت کے لیے غنڈہ گردی بھی کی تو ظالم سے مظلوم کی مدد کرنے کے لئے۔ان کی والدہ بھی بہت بہادر اور عظیم خاتون و سوشل ورکر تھیں،جن کی زندگی مظلوموں کی داد رسی کرتے گزر گئی،ان کا بیگم فرحت شجاع الرحمن کے ساتھ گہری دوستی کا تعلق تھا۔بات ہو رہی تھی موت کی اٹل حقیقت کی کہ اس کے آنے سے پہلے غفلت کا شکار انسان خود کو کامیابی کے راستے پر ڈال لے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق ،ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے(آمین ثم آمین)

مزید : رائے /کالم