سرکاری امور میں شفافیّت کا فقدان

سرکاری امور میں شفافیّت کا فقدان

  

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ وفاق ہو یا صوبائی حکومتیں سب جگہ شفافیت کا مسئلہ ہے، کسی جگہ شفافیت نہیں،رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ امداد دی گئی، تفصیلات نہیں بتائی گئیں، زکوٰۃ کے پیسے سے لوگوں کو جہاز پر سفر نہیں کرایا جا سکتا، دفتری امور نہیں چلائے جا سکتے،حکومت اِس بات کو یقینی بنائے کہ زکوٰۃ کے پیسے ٹی اے،ڈی اے پر خرچ نہ ہوں،بلکہ اصل لوگوں پر خرچ ہوں۔ بیت المال والے کسی کو فنڈ نہیں دیتے، افسوس ہے کہ بیت المال کے فنڈز کا بھی بڑا حصہ انتظامی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، ڈی جی بیت المال بھی زکوٰۃ فنڈ سے تنخواہ لے رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کورونا کی روک تھام کے سلسلے میں از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران فاضل بنچ کے روبرو بتایا کہ وفاقی حکومت، زکوٰۃ فنڈ صوبوں کو دیتی ہے، لیکن صوبائی حکومتیں یہ مستحقین تک نہیں پہنچاتیں، زکوٰۃ کا بڑا حصہ تو انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے زکوٰۃ اور بیت المال کی رقوم کی تقسیم اور طریق کار کے بارے میں وفاق اور تمام صوبوں سے تفصیلی رپورٹیں طلب کر لی ہیں،اسلامی نظریاتی کونسل اور مفتی تقی عثمانی سے شرعی رائے طلب کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ کیا زکوٰۃ اور بیت المال فنڈز تنخواہوں اور انتظامی اخراجات کی مد میں استعمال ہو سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بھی دیئے کہ مزارات کا پیسہ اللہ کی راہ میں خرچ کے لئے ہوتا ہے۔

زکوٰۃ اور بیت المال کی رقوم کا استعمال جس احتیاط سے ہونا چاہئے، افسوس کہ ہماری حکومتیں اس جانب توجہ نہیں دیتیں اور اس کے اخراجات میں بھی ویسی ہی لاپروائی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، جیسے سرکاری خزانے کی دوسری رقومات خرچ کی جاتی ہیں۔ ایک دور میں جب صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلا رہی تھیں، ایک صوبائی حکومت کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس نے مظاہرے منظم کرنے کے لئے بیت المال کی رقوم استعمال کیں،اسی طرح زکوٰۃ فنڈ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس کی رقم بھی مستحقین میں تقسیم کرنے کی بجائے سیاسی اور سرکاری مفادات کو سامنے رکھ کر خرچ کی جاتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں تسلیم کیا کہ جو رقوم وفاق کی جانب سے صوبوں کو ارسال کی جاتی ہیں وہ بھی مستحقین تک نہیں پہنچ پاتیں اور زیادہ تر انتظامی اخراجات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور صوبوں سے زکوٰۃ کی تقسیم کے بارے میں جو رپورٹیں طلب کی ہیں وہ سامنے آئیں گی تو پتہ چلے گا کہ یہ رقوم کیسے تقسیم ہوتی ہیں۔

اِس وقت کورونا کی وبا کی وجہ سے متاثر اور بیروزگار ہو جانے والوں میں جو نقد رقوم اور راشن تقسیم کیا جا رہا ہے،اس کے بارے میں بھی شکایات ہیں، سپریم کورٹ میں یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ سندھ میں راشن کی ایسی اشیا بھی تقسیم کی گئیں، جو زائد المیعاد ہو چکی تھیں تاہم ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے یہ تمام راشن یوٹیلیٹی سٹورز سے خریدا گیا تھا،لیکن یوٹیلیٹی سٹورز کے معاملات بھی کہاں شفاف ہیں۔یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن وفاقی حکومت کا ادارہ ہے اور اس کا بنیادی مقصد بازار سے کم قیمت پر معیاری اشیا صارفین تک پہنچانا ہے،لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی ناقص مال فروخت کرنے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں، جو کمپنیاں یا افراد مختلف قسم کی اجناس کارپوریشن کو سپلائی کرتی ہیں وہ اعلیٰ قسم کے مال میں ناقص مال بھی ملا دیتی ہیں، قیمت اعلیٰ مال کی وصول کی جاتی ہے ظاہر ہے یہ کام کارپوریشن کے اعلیٰ حکام کی چشم پوشی کے بغیر نہیں ہو سکتا،اِس لئے اگر سندھ حکومت نے راشن یوٹیلیٹی سٹورز سے خریدا تھا تو بھی یہ معلوم کر لینا چاہئے تھا کہ یہ معیاری ہے یا غیر معیاری اور زائد المیعاد تو نہیں ہے۔

سرکاری کاموں میں اصل مسئلہ شفافیت کا ہے، جو رقوم تقسیم کی جا رہی ہیں اس کے اعداد و شمار تو پیش کئے جاتے ہیں،لیکن وفاق کی رقوم کی تقسیم کے طریق کار پر سندھ اعتراض کر رہا ہے تو سندھ کے کام سے وفاق خوش نہیں اور اِس سلسلے میں وفاقی اور سندھ حکومت کے ترجمان روزانہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں۔یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اِن الزامات میں کتنی صداقت ہے اور کتنا جھوٹ،لیکن میڈیا پر تسلسل کے ساتھ جھوٹ سچ کا یہ سلسلہ جاری ہے،جس کا مقصد سیاسی پوائنٹ سکورنگ بھی ہو سکتا ہے، حالانکہ ساتھ ہی ساتھ فریقین یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اِن نازک لمحات میں سیاست اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہئے،لیکن لُطف کی بات یہ ہے کہ جو حضرات اِس کام میں مصروف ہیں وہ خود تو یہ سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رکھنا چاہتے ہیں،لیکن دوسروں کو اِس کی ”اجازت“ دینے کے لئے ہر گز تیار نہیں،بعض اعلیٰ سرکاری عہدیدار روزانہ ریڈی میڈ بیانات دیتے ہیں کہ اپوزیشن سیاست کر رہی ہے،جب انہیں جواب ملتا ہے کہ خود حکومت کیا کرتی ہے تو اپوزیشن کے خلاف سوشل میڈیا کی مہم تیز کر دی جاتی ہے،بدقسمتی سے اعلیٰ عدلیہ بھی اس کی زد میں ہے،خود وزیراعظم اس مہم کا نوٹس لے چکے ہیں اور انہوں نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ یہ معلوم کریں کہ کون لوگ یہ مہم چلا رہے ہیں،لیکن یہ مہم اب بھی جاری ہے اس پردہئ زنگاری میں کوئی معشوق تو ہوں گے ان کا پتہ چلنا چاہئے۔

مزارات پر جو نذرانے جمع ہوتے ہیں ان کی رقوم کے مصارف میں بھی بے احتیاطی برتی جاتی ہے،ان میں بھی شفافیت نہیں یہ رقوم بھی مالِ مفت کی طرح خرچ کی جاتی ہیں۔ یکم رمضان المبارک کو بینکوں کے بچت کھاتوں سے جو زکوٰۃ کاٹی جاتی ہے اس کے مروجہ نظام پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یکم رمضان کو ان کھاتوں میں جس شخص کی رقم بھی نصاب کی مقررہ حد سے زیادہ ہو اُس سے زکوٰۃ منہا کر لی جاتی ہے، چاہے یہ رقم دو چار بلکہ ایک روز پہلے ہی جمع کرائی گئی ہو، جن ملازمین کی ماہوار تنخواہ بینک میں جاتی ہے ان سے بھی کٹوتی ہو جاتی ہے،حالانکہ یہ لوگ معروف معنوں میں ”صاحب ِ نصاب“ نہیں ہوتے، صرف تنخواہ کی رقم کی وجہ سے اس کی ذیل میں آ جاتے ہیں،اگر تفصیل معلوم کی جائے تو پتہ چلے گا کہ ان بے چاروں کی حالت تو ایسی ہے کہ انہیں امدادی رقم ملنی چاہئے، لیکن اُن کے کھاتے سے زکوٰۃ کی کٹوتی ہو جاتی ہے۔ فقہ جعفریہ کے مسلک کے حامل البتہ اِس کٹوتی سے مستثنیٰ ہیں اُنہیں بینک کو یہ بیان دینا پڑتا ہے کہ اُن کی فقہ میں اس طرح کی کٹوتی جائز نہیں، زکوٰۃ سے بچنے کے لئے بہت سے وہ حضرات بھی استثنا کی درخواست دے دیتے ہیں، جن کا اس فقہ سے تعلق نہیں ہوتا۔ زکوٰۃ کی کٹوتی شریعت کے اصول کے تحت ہونی چاہئے،لیکن حکومت نے زکوٰۃ کے فریضہ کو بھی عملاً دوسرے ٹیکسوں کی طرح کا ایک ٹیکس بنا دیا ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل اور مفتی تقی عثمانی سے سپریم کورٹ نے جو استفسار کیا ہے توقع ہے کہ جواب ملنے پر فاضل عدالت اس سلسلے میں ایسا حکم جاری کرے گی،جس کی روشنی میں زکوٰۃ کی کٹوتی اور تقسیم کا نظام بہتر اور شفاف بنایا جائے گا۔سرکاری رقوم کی تقسیم میں لاپروائی تو ہمیشہ نظر آتی ہے،لیکن کم از کم زکوٰۃ کے معاملے میں اس طرح کا طرزِ عمل اختیار نہیں کیا جانا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -