پٹرولیم مصنوعات، بحران شدید تر!

پٹرولیم مصنوعات، بحران شدید تر!

  

کورونا کی وبا نے عالمی معیشت کو جو دھچکا پہنچایا، اس نے اب پٹرولیم کے شعبہ اور مارکیٹ میں شدید بحران پیدا کر دیا، امریکی مارکیٹ کریش کر گئی اور تاریخ میں پہلی بار قیمت منفی ہوئی اور منفی 37ڈالر فی بیرل ہوتے ہی آئل کمپنیوں نے فروخت بند کر دی۔ یوں فی الحال ٹریڈ رُک گئی۔امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی خام پٹرولیم ذخیرہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ یوں کینیڈا نے پیداوار روکی ہے تو امریکہ بھی بند کر دے گا۔ 1979ء کے بعد امریکی مارکیٹ پر یہ زیادہ شدید بحران آیا ہے۔ خام تیل کے نرخ مسلسل گر رہے تھے۔ گذشتہ دِنوں امریکہ اور روس نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر پیداوار میں بھی کمی کی تھی، لیکن دُنیا بھر میں ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہونے کی وجہ سے پٹرولیم کی کھپت بُری طرح متاثر ہوئی اور خریداری بھی نصف سے زیادہ کم ہو گئی تھی۔چنانچہ پیداوار میں کمی کا حربہ بھی کام نہ آیا اور نرخ مسلسل گرتے چلے گئے اور بات منفی تک پہنچ گئی۔ایک خبر کے مطابق مئی کے سودے بھی خطرے میں پڑ گئے تھے۔ ادھر ہمارے ملک میں بھی پٹرولیم کے استعمال میں کمی ہوئی اور درآمد میں محتاط کمی کر دی گئی تھی، تاہم ضرورت تو موجود ہے۔ یوں اپریل اور مئی کے سودوں میں کئی گنا کم اخراجات کا اندازہ ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اتنی زبردست مندی کا فائدہ درآمدکنندہ ممالک کو بھی پہنچے گا اور پاکستان بھی ان میں شامل ہیں۔یہاں عوام و خواص نے یہ توقع باندھ لی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کم از کم50روپے فی لیٹر سستی ہوں گی، چاہے یہ مختصر عرصہ کے لئے ہو، دیکھنا یہ ہے کہ ہماری حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے، اس کمی کا فائدہ عوام تک کتنا پہنچتا ہے یا پھر سابقہ روایات کے مطابق ٹیکس بڑھا کر فائدہ حکومت حاصل کرتی ہے، پٹرولیم مصنوعات سستی کر دینے سے عوام کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -