کورونا اور وزیراعظم عمران خان کی معاشی حکمت عملی

کورونا اور وزیراعظم عمران خان کی معاشی حکمت عملی
کورونا اور وزیراعظم عمران خان کی معاشی حکمت عملی

  

مصائب و مشکلات خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی کسی بھی شخصیت کی ذہانت اور سوجھ بوجھ کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیتوں کی کسوٹی ہوتی ہیں جس سے ان کا واسطہ پڑتا ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، جو پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار تھا کرونا وائرس نے اس کے مسائل میں اور اضافہ کر دیا ہے، جس میں صحت، معاشی مسائل اور کورونا سے نمٹنا سر فہرست ہے۔ کورونا ایک کثیر الجہت مسئلہ ہے، جن میں طبی سہولیات کی کمی اس سے نبرد آزما طبی عملے کی ضروریات اور شکایات، انسانی جانوں کا تحفظ لاک ڈاؤن سے ہونے والی کاروباری بندشیں، دیہاڑی دارہنر مندوں اور مزدور طبقہ کی مالی ضروریات اور دیگرکئی مسائل شامل ہیں۔ کورونا نے دُنیا کے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ ممالک جو کبھی دُنیا کے ملکوں کی مالی معاونت کرتے تھے آج ان کو خود اپنی معاشیات کی فکر دامن گیر ہے۔ اقوام متحدہ کی تجارتی اور ترقیاتی ایجنسی کے مطابق عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں میں کمی اور سست روی کے باعث اب تک ایک کھرب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور اگر اس وباء پر جلد قابو نہ پالیا گیا تو اس میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ دُنیاکے بڑے بڑے بینک اور مالیاتی ادارے کساد بازاری کا شکار ہو رہے ہیں۔

جرمنی میں کئی بینکوں کی ایک ہزار سے زیادہ برانچیں بند کر دی گئی ہیں، جبکہ اٹلی کے ایک بڑے بینک نے اپنی 900 برانچیں اور اس طرح فرانس، برطانیہ،امریکہ اور دیگر کئی ممالک میں یا تو بینک بند ہورہے ہیں یا نہیں فروخت کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔حال ہی میں بھارت کے سب سے بڑے دوسرے نجی بینک کو اونے پونے داموں میں چین کو فروخت کر دیا گیا ہے، جس پر بھارت نے فوری طور پر غیر ملکی شخصیات اور اداروں پرپابندی عائد کر دی ہے کہ وہ بھارتی حکومت کی منظوری کے بغیر اس طرح کی کوئی چیز نہیں خرید سکتے۔ تیل جس کی دُنیابھر میں مانگ ہے، کیونکہ یہ نہ صرف صنعتوں کی ضرورت ہے بلکہ ہوائی، بحری اور زمینی ٹرانسپور ٹ کی نقل و حرکت کے لئے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دُنیامیں تیل کی پیداوار کے بڑے ممالک نے اپنی پیداوار میں لاکھوں بیرل کی کمی کردی ہے، جس سے ان ممالک کی اقتصادیات بڑی حد تک متاثر ہوئی ہیں۔ اس کمی کی وجہ فضائی کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی عارضی بندش ہے،جس کی وجہ سے مسافروں کی تعداد میں بہت بڑی کمی ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں سامان کی ترسیل نہ ہونے کے باعث بحری جہازکورونا کی وجہ سے لنگر انداز ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر معاشی بحران کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے اور عالمی رہنماؤں کو بلا تفریق (ترقی یافتہ ممالک باہم مل کر) اس عالمی معاشی بحران سے نمٹنے کا لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر یہ بحران کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک صورت اختیار کرسکتا ہے۔ اس ساری صورتحال سے پاکستان بھی الگ نہیں۔ تاہم خداوند کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا کی وہ صورتِ حال نہیں جو دُنیاکے باقی ممالک میں ہے۔ تاہم آنے والے دنوں کی مشکلات کے پیش ِ نظر حکومت پاکستان کو ابھی سے اپنی معاشی پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستانی معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اگست 2018ء میں قائم ہونے والی عمران خان کی حکومت کے لئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج اور کڑا امتحان ہے، کیونکہ دُنیاکے وہ ممالک اور ادارے جو پاکستان کی مالی اعانت کرتے رہتے ہیں ان کو خود ایک بہت بڑے معاشی بحران کا سامنا ہے، جس کے اثرات یقینا پاکستان پر بھی پڑیں گے اور عقل مندی اور دور اندیشی کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ابھی سے آنے والے وقتوں کے پیش نظر ملکی معاشیات کو مستحکم بنیادوں پر تشکیل دیں تاکہ مستقبل میں پیدا ہونے والی مشکل اقتصادی صورتِ حال سے بہتر طور پر نمٹا جاسکے اوریہی اس امتحان کا وقت ہے جسے اگر عمران نے احسن طریقے سے سنبھال لیا تو وہ انہیں وزیراعظم سے قومی لیڈر بنا دے گا۔ اس بات سے ہٹ کر کہ وزیراعظم کی ایمانداری کا ہر شخص معترف ہے اوروہ مسلمہ بھی ہے۔ یہ بجا کہ 20ماہ پہلے جب انہوں نے وزیراعظم کے عہدہ جلیلہ کا حلف اٹھایا تو اس وقت بھی پاکستان کو متعدد بحرانوں کا سامنا تھا، جن میں سرفہرست معاشی اور سیاسی بحران تھے، مگر انہوں نے جس بصیرت سے اور مدبرانہ انداز میں ہر دو کا سامنا کیا جو قابل ِ ستائش ہے، مگر موجودہ حالات میں انہیں اپنی صلاحیتوں کو مزید فعال بنانا ہوگا۔

انہوں نے کورونا کے حوالے سے اب تک جو اقدامات کئے ہیں وہ قابل اطمینان ہیں اور انہوں نے جس طرح مختلف طبقات کی ضروریات خصوصاً غریب مزدور اور ہنرمندوں کے لئے لاک ڈاؤن کے دوران ان کا خیال رکھا اس نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ ان کے دِل میں پسماندہ طبقے کے لئے قابل ِ ستائش جذبات موجود ہیں، جس کے انہیں غریب پرور وزیراعظم کے طور پر روشناس کر دیا ہے جو ماضی میں دیکھنے میں نہیں آیا اور ان کے اس جذبے کو دیکھتے ہوئے ہم ان سے پر امید ہیں کہ وہ موذی وائرس کورونا سے جنگ میں بھی ان طبقوں کی بہتری ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔ یہاں اس امر کا اظہار بھی بے جانہ ہوگا کہ ملک میں ہسپتالوں کی شدید کمی ہے، جس کے پیش نظر انہیں خیراتی ہسپتالوں کی ہر طرح کی معاونت کے لئے ایک مربوط پالیسی ترتیب دینا ہوگی تاکہ وہ بھی کورونا کی جنگ میں اپنا کردار ادا کرسکیں اوران سے ہماری دوسری گزارش یہ ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مخالف سیاست دانوں کی بھی اس جنگ میں ساتھ لے کر چلیں۔

مزید :

رائے -کالم -