کورونا اور پاکستانی معیشت

کورونا اور پاکستانی معیشت
کورونا اور پاکستانی معیشت

  

کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے یا پہنچے گا وہاں پاکستان کی معیشت بھی اس وائرس کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہے۔سعودی عرب میں ہونے والے آن لائن جی ٹوینٹی ممالک کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان سمیت 76 ممالک کے چالیس ارب ڈالر کے قرضے ایک سال کیلئے منجمد کر دیئے جائیں اس کی آئی ایم ایف نے بھی منظوری دے دی ہے،ان قرضوں میں بیس ارب ڈالرز کے قرضے صرف سعودی حکومت کے ہیں۔ان 76ممالک نے رواں سال ان قرضوں کی مد میں چالیس ارب ڈالر کے قریب ادائیگیاں کرنا تھیں جو اب منجمد کر دی گئی ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف اس کے علاوہ پاکستان کو ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کی ادائیگی بھی کرے گا جس سے پاکستان کی معیشت میں کچھ بہتری کا امکان ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی ادارے کو چاہئے کہ جب اس مرض کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہے خصوصا پاکستان جیسے غریب ممالک کیلئے لاک ڈاؤن یا ملک کو بند رکھنا ملک کی چولیں ہلا دینے کے مترداف ہے تو آئی ایم ایف کو چاہئے کہ جس طرح کچھ ممالک کو کورونا کے نام پر امداد جاری کی ہے جس میں بدقسمتی سے پاکستان شامل نہیں اس میں پاکستان کا نام بھی شامل کرنا چاہئے کیوں کہ پاکستان کیلئے کورونا کی وجہ سے معیشت کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور پاکستان کی حکومت بھی ایک غریب حکومت ہے وگرنہ ہمارے وزیراعظم عمران خان کو چندہ مانگنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔کیوں کہ پاکستان کی حکومت عوام کو وہ ریلیف دینے میں اب تک ناکام رہی ہے جس کی ضرورت ہے۔

احساس پروگرام کے ذریعے بارہ ہزار روپے فی خاندان کو دیئے جانے کی منظوری دی گئی ہے اگر چہ اس سے غریب اور نادار لوگوں کی کچھ حد تک اشک شوئی تو ہو گی لیکن بادی النظر میں یہ رقم غریبوں کی ضرورت سے انتہائی کم دکھائی دیتی ہے۔ کیوں کہ ایک جانب پاکستان کے وزیراعظم برملا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ان کا اور ان کی بیوی کا دو لاکھ میں گزارا نہیں ہوتا تو سوچئے بارہ ہزار میں ایک غریب خاندان کتنے دن تک گزارہ کر سکتا ہے یا کیسے گزارا کر سکتا ہے۔یہ بارہ ہزار روپے صرف ایک بار ملنے ہیں اس لئے حکومت غریبوں کا احساس کرتے ہوئے ایک تو اس رقم کو بڑھائے اور دوسرا کورونا کیخلاف امداد کی تقسیم کا نظام بھی شفاف بنائے کیوں کہ دور دراز کے اضلاع سے اس طرح کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ مقامی سینٹرز میں سرکاری ملازم لوگوں کو رقم بارہ ہزار کی بجائے نو یا دس ہزار دے رہے ہیں اور باقی رقم خود کھا رہے ہیں۔ دوسرا کچھ دن بعد رمضان کی آمد ہے اور حکومت ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ رمضان میں جو رمضان بازار اور اس طرح کی سہولتیں فراہم کی جاتی تھیں اس بار یہ بازار کیسے قائم کئے جائیں گے۔پنجاب حکومت نے تو نقد رقم لوگوں کو دینے کا اعلان کیا ہے لیکن تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ رقم کن افراد کو دی جائے گی کیوں کہ رمضان بازار سے تو امیر، غریب اور متوسط تمام طبقات خریداری کرتے ہیں تو یہ کس طرح واضح ہو گا کہ یہ رقم کس کو دی جائے گی اور کس کو نہیں دی جائے گی۔حکومت نے اس حوالے سے کورونا ٹائیگر فورس بھی قائم کی ہے جس پر سندھ،کشمیر اور گلگت و بلتستان کی حکومتیں اعتراض کر چکی ہیں اور انہوں نے اس میں سیاسی بھرتیوں کے خدشے کی بنا پر ٹائیگر فورس کے ذریعے راشن کی تقسیم سے بھی انکار کر دیا ہے۔ یہاں ایک بات تو واضح ہے کہ امدادی و فلاحی تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتوں کی امدادی سرگرمیاں حکومت کی نسبت بہتر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی بات کریں تو ان کی امدادی فورس کافی سرگرم ہے اور مختلف ہسپتالوں میں ان کی ٹیمیں ڈاکٹرز میں ماسک اور حفاظتی کٹس تقسیم کر چکی ہیں جس میں خواجہ عمران نذیر اور خواجہ سلمان رفیق دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔

حکومت تاحال ابھی تک اس وائرس کیخلاف لڑنے والے ڈاکٹروں کو ہی مناسب حفاظتی آلات مہیا کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔یہاں جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت کا ذکر کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ کس طرح اس کے کارکنان ملک بھر میں غریب و نادار لوگوں کو راشن اور پیسے تقسیم کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق خود کورونا سے متاثرہ علاقوں میں جا رہے ہیں اور لوگوں سے مل کر ان کو اپنی فلاحی تنظیم کی ذریعے امداد دے کر ایک عمدہ مثال قائم کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام کا ذکر کریں تو وہ بھی بلوچستان،سندھ اور کے پی کے میں کافی متحرک نظر آتے ہیں۔سندھ میں مولاناراشد سومرو امدادی کاموں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ اسی طرح مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے بھی ہدایات جاری کی ہیں اور اپنی جماعت کے کارکنوں پر مشتمل امدادی دستے تشکیل دیئے ہیں جو نہ صرف راشن کی تقسیم کے عمل میں مصروف ہیں بلکہ اس کے علاوہ اس موذی وائرس سے وفات پا جانے والے افراد کی تجہیز و تکفین سے لے کر تدفین تک کے مراحل خود سر انجام دے رہے ہیں۔ حکومت ابھی تک اس مخمصے سے ہی نکل نہیں پا رہی کہ ہم نے لاک ڈاؤن کھولنا ہے یا نہیں،سندھ حکومت نے کہا کہ لاک ڈاؤن کرنا ہے تو وفاقی حکومت نے سندھ کی پیروی میں لاک ڈاؤن کر دیا۔

اب حکومت نے کچھ کاروبار کھلا رکھنے کی اجازت دی ہے تو کچھ کو بند رکھا گیا ہے اسی طرح رمضان میں مساجد میں تراویح کی نماز کی اجازت دی گئی ہے جو کہ ایک نفلی عبادت ہے لیکن فرض نمازوں کیلئے مساجد کو بند رکھا گیاہے۔ حکومت کا کام ہوتا ہے اپنے فیصلے پر عمل کرنا اور اپنے احکامات کو جاری کرنا لیکن ہمارے ہاں ابھی تک آدھا تیتر آدھا بٹیر والی پالیسی اپنائی گئی ہے یعنی ایک جانب کہتے ہیں کہ غریبوں کا بہت نقصان ہو جائے گا لیکن ٹیکس میں چھوٹ بڑے بڑے بلڈرز کو دی گئی ہے جس کا براہ راست غریب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بجلی کے بل، گیس کے بل اسی طرح غریب کو موصول ہو رہے ہیں ملک کی معیشت اور پہیہ تو جام ہے لیکن مجال ہے جو بل بھیجنے میں حکومت نے ذرا بھی کوتاہی کی ہو۔عمران خان آئے روز تقاریر کرتے ہیں اور اس میں غریبوں کا بہت ذکر کرتے ہیں لیکن خالی ذکر کرنے سے غریب کا چولہا نہیں جلے گا اس کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور جس طرح امیر طبقے کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے اسی طرح غریب طبقے کو بھی بلوں میں چھوٹ دینا ہوں گی تا کہ وہ بھی اپنی زندگی کی ڈور کورواں دواں رکھ سکے۔

مزید :

رائے -کالم -