کرونا وائرس: آزمائش انسانیت اور ہماری ذمہ داریاں

کرونا وائرس: آزمائش انسانیت اور ہماری ذمہ داریاں

  

آج کل پوری دنیا میں کرونا کی وجہ سے سناٹا چھایا ہوا ہے۔ انسان سہما ہوا ہے خوف نے اذہان کو اپنے قابو میں جکڑ رکھا ہے، کاروبار حیات قریب قریب جام ہو کر رہ گیا اور اس وبا کے خاتمہ (انشاء اللہ) کے بعد دنیا ادوار کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے، دنیا قبل از کرونا وائرس اور دنیا بعد از کرونا وائرس۔قدرت نے غافل ہوتی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور سب کچھ اس کے کن کہنے سے ہو جانے اور بن جانے کا پابند ہے کرونا وباء خدا وند کریم کی طرف سے انسانیت کیلئے ایک بڑی آزمائش ہے، یوں تو انسان ابتداء سے اب تک اور قدیم سے جدید تک آزمائشوں اور حوادث کا شکار رہا ہے، بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ جب بھی انسان نے قدرت کی طرف سے متعین حدود سے متجاوز ہونے کی کوشش کی تو کسی نہ کسی آزمائش کے ذریعے روک دیاگیا اور انسان کا رخ توبہ کی طرف پلٹ دیا گیا۔

اس پر آشوب دور میں نہ صرف خود بچنا ضروری ہے، بلکہ دوسروں کو بچانا اور محفوظ کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، قدرت نے ہر انسان کو کچھ مخصوص صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے جن کو اس وقت پوری استطاعت کے ساتھ عمل میں لانے کا بہترین موقع ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اس آزمائش کی گھڑی میں صرف خود کو بچا کریا صرف خود کو بچانے کی کوشش کرکے ہم پھر سے غضب خدا وند کو دعوت تو نہیں دے رہے، اگر مصیبت کی وجہ سے رجوع الیٰ اللہ ہو جائے تو یہ آزمائش اور رحمت ہے اور بغاوت یا خود غرضی پر آجائے تو یہ عذاب ہے۔

اللہ تعالیٰ آزماتا ضرور ہے لیکن طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، یہ اس کا وعدہ ہے نیز کائنات کا کوئی غم ایسا نہیں ہے جو آدمی برداشت نہ کر سکے، یہ وقت شکوہ و شکایت کا بھی نہیں بلکہ ہمت حوصلہ اور تدبر کا ہے اگر کسی ذمہ دار کی طرف سے ان حالات میں کوئی کوتاہی ہوبھی گئی ہے یا وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے پوری نہیں کر سکا تو بھی کوئی بات نہیں تنقید اور گلہ سے پرہیز ضروری ہے نیز انفرادی ذمہ داری ہے کہ اپنے حصے کا دیا جلایا جائے۔

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

تم بھی اپنے حصے کی کوئی شمع جلائے جاتے

جس حد تک ممکن ہو اس سے بچاؤ اور تحفظ کی تدابیر کرنی ہیں حالات متقاضی ہیں کہ ہر فرد اپنی طاقت، استطاعت، علم اور وسائل و ہنر کے ساتھ آگے بڑھے اور اپنا کردار ادا کرے، اس وقت مثبت رویوں کی شدید ضرورت ہے خود بھی پر امید رہیں اور دوسروں کو بھی اچھی امید دلائیں، مثبت سوچ اور اچھی امید بھی بہترین ہیں Immunitiesاس ساری صورتحال میں جبکہ دنیا پر یشان و تباہ کن ہے، انسانیت کا مثبت پہلو بھی پوری طرح جلوہ گر ہوا ہے خاص کر پاکستانی معاشرہ کے حوالے سے الحمد اللہ یہ بات عیاں ہوئی ہے کہ ہمدردی خلوص اور دوسروں کی مدد کا پہلو ہمارے خون میں شامل ہے، جس طرح فلاحی تنظیموں اور افراد نے ایک دوسرے کی وسیع قلبی کیساتھ مدد کی ہے، قابل ستائش ہے اسی طرح ڈاکٹرز اور الائیڈ سٹاف اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر متاثرہ مریضوں کی صحت یابی کیلئے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر شب و روز کوشاں ہے، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو جلا بخشے اور انسانیت پر اپنا کرم کرتے ہوئے اس وفاسے نجات بخشے۔

مانتے ہیں وفاء کے دن ہیں

مگر یہ بھی خدا کے دن ہیں

دلوں سے مایوسیاں نکالو!

ذرا سا آگے شفاء کے وفا ہیں

مزید :

رائے -کالم -