سیکنڈری بو رڈاور فنی تعلیمی بورڈکے امتحانات کا انعقاد

سیکنڈری بو رڈاور فنی تعلیمی بورڈکے امتحانات کا انعقاد
سیکنڈری بو رڈاور فنی تعلیمی بورڈکے امتحانات کا انعقاد

  

ناظر خان نیازی، فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت کے ماہر منتظم ہیں ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی میں انتظامی اور تدریسی پو زیشنوں پر تعینات رہ کر ا س شعبے کے مختلف پہلوؤں پر دسترس حاصل کر چکے ہیں آج کل پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں بڑے احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ یاد رہے پنجاب میں جنرل ایجوکیشن کے9 انتظامی و امتحانی بورڈ ہیں جبکہ تدریسی مواد کی فراہمی کیلئے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ جیسا بڑا ادارہ اس کے علاوہ ہے فنی تعلیم ا ور ووکیشنل تربیت کے سیکٹر کو پنجاب، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں منظم کرنے کے لئے صرف اور صرف پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ہی واحد سرکاری ادارہ ہے اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس بورڈ کا دائرہ عمل کس قدر وسیع اور اہم ہے کہاں دس ماہرین ِ تعلیم جنرل ایجوکیشن کے انتظامی و امتحانی امور کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور کہاں صرف ایک ناظر خان نیازی اتنے وسیع و عریض بورڈ کی انتظامی و امتحانی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور وہ بھی بطریق احسن۔

آج کل کورونا وائرس کے احتیاطی و حفاظتی انتظامات کے باعث شعبہ تعلیم و تدریس کے معمولات میں گڑبڑ ہو چکی ہیں امتحانات کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے حکومت ِ پنجاب نے جنرل ایجوکیشن کے بورڈ ز کے سربراہان سے امتحانات کے انعقاد کے بارے میں تجاویز طلب کر رکھی ہیں کہ بتایا جائے امتحانی شیڈول کو کیسے نا فذ العمل بنایا جا سکتا ہے۔ ایک بات تو بڑی واضح ہے کہ نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ پورے پاکستان اور پوری دنیا میں عمومی معاملات مکمل طور پر دگر گوں ہو چکے ہیں معاشیات زبوں حالی کا شکار ہے صنعت و حرفت کا پہیہ رک گیا ہے گردش زر جمود کا شکار ہو چکی ہے سڑکوں پر موت کا خوف رقصاں ہے انسان ایک نظر نہ آنے والے وائرس سے چھپے بیٹھے ہیں اور پھر بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ اس کا شکار نہیں ہو نگے۔ سماجی و معاشرتی طریق ِ کار اور طرز عمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے ایک سقوط کا عالم طاری ہے انسان جسے اپنی فتوحات پر ناز تھا کورونا وائرس کے ہاتھوں شکست کھا چکا ہے ابھی ہمیں معلوم نہیں کہ اس جنگ کا خاتمہ کیسے اور کب ہو گا کیونکہ نہ تو اس کا علاج دریافت ہوسکا ہے اور نہ ہی اسباب کے بارے میں پتہ چلا ہے بس ہم ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ امتحانات، میٹرک و انٹر میڈ یٹ کے امتحانات کے انعقاد کے نئے شیڈول کے بارے ذمہ داران کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ ناظر خان نیازی نے بھی ٹیوٹاکو ایساہی ایک خط لکھا ہے جس میں ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ،ڈپلومہ ان ڈریس ڈیزائنگ اینڈ میکنگ، ڈپلومہ ان کامرس، ڈپلومہ ان بزنس ایڈمنسٹریشن، ڈپلومہ ان انفارمیشن ٹکنالوجی اور میٹرک ووکیشنل کے فرسٹ اینول 2020 کے سالانہ امتحانات کے انعقاد کے بارے تیاریوں کا کہا گیا ہے اور امتحانات کی ری شیڈولنگ کے بارے میں تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں۔

ایسی کا وشیں یقیناقابل ستائش ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی (یوکے) کے تحت ہونے والے امتحانات کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انتظامیہ نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ اے لیول اور او لیول کے طلبہ و طالبات کو سالِ گزشتہ کی کارکردگی کے مطابق بغیر امتحانات لئے پاس /فیل قرار دیا جائے گا۔ جاری مشکل حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ (اگر ہوتا ہے تو)صائب نظر آتا ہے زمینی حقائق کے مطابق امتحانات کا انعقاد ممکن نظر نہیں آتا ہے اس لئے کیمبرج انتظامیہ نے طالبعلموں کو عدم فیصلے کی سولی پر لٹکائے رکھنے کی بجائے فیصلہ سنا کر اطمینان قلب دلادیا ہے۔

ہمارے فیصلہ ساز ادارے جن میں محکمہ تعلیم، (سکول و کا لجز) سکینڈری بورڈ، فنی تعلیمی بورڈ، صوبائی وزارت ِ صنعت و تجارت اورسب سے اوپر ہمارے وزیراعلیٰ، جنرل ایجوکیشن بورڈ ز اور فنی تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام ہونے والے میٹرک، انٹر اور دیگر امتحانات کے انعقاد کے بارے میں جلد فیصلہ کریں تاکہ سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ و طالبات اس فیصلے کے منتظر ہیں، لاکھوں خاندان گومگو کا شکار ہیں کہ امتحان ہوگا کہ نہیں؟۔ اگر ہوگا تو کب ہوگا؟اور کیسے ہوگا؟۔تذبذب اور گو مگو کی کیفیت نے لوگوں کو سٹریس میں مبتلا کر دیا ہے۔کیمبرج نے فیصلہ کر کے اپنے طالبعلموں اور ان کے والدین کواسی کشمکش سے بری کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ذمہ داران بھی ”فیصلہ کر گزریں“ جو بھی وہ سمجھتے ہیں کہ ممکن ہو سکتا ہے کر گزریں تاکہ گومگو کی کیفیت کا خاتمہ ہو سکے۔میٹرک کے امتحانات اور نتائج کے بارے تجاویز پیش کی جا چکی ہیں ایک تجویز کے مطابق پر یکٹیکل کے بغیر ہی تحریری امتحانات میں حاصل کردہ نمبروں کے مطابق پر یکٹیکل کے نمبر لگا کر رزلٹ اناؤنس کر دیا جائے۔ دوسری تجویز ہے کہ پریکٹیکل آن لائن لے لئے جائیں۔ ایک تجویز کے مطابق امتحانی سینٹروں کی تعداد دوگنی تگنی کر کے، کورونا حفاظتی تدابیر کے ساتھ پریکٹیکل امتحانات منعقد کئے جا سکتے ہیں۔ یہ تینوں ممکنات حتمی فیصلے کے لئے احکام بالا تک پہنچا دئیے گئے ہیں دیکھتے ہیں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

ایف اے/ ایف ایس سی کے امتحانات کے انعقاد بارے شاید ابھی سوچ و بیچار ہی شروع نہیں ہوئی ہے کیونکہ ذمہ داران فیصلہ ساز ادارے دیگر اہم امور میں مصروف ہیں جن میں سر فہرست کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے آگے بند با ندھنا ہے۔ اس کے بارے میں عمومی رائے یہی ہے کہ حکومت اس وبا کا مقابلہ حکمت عملی اور بردباری سے کر رہی ہے۔ دستیاب وسائل کے مو ثر استعمال اور مطلوب حکمت عملی کے نفاذ کے ذریعے اس وبا ء کو ابھی تک بے قابو نہیں ہونے دیا گیا ہے اور اس بات کے قوی امکانا ت ہیں کہ جاری حکمت ِ عملی کے ساتھ وبا بے قابو نہیں ہو پائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ جنرل ایجو کیشن اور فنی تعلیم اور ووکیشنل تربیت کے اداروں میں پڑھنے والے ہزاروں نہیں لاکھوں طلبہ و طالبات کے امتحانات کا جو شیڈول گڑ بڑ ہو گیا ہے یا مستقبل قریب میں ہونے جا رہا ہے اس کے بارے میں حکمت عملی ترتیب دینا بھی حکومت کے ذمہ ہے اور اس ذمہ داری سے نبردآزماہونا بھی حکومتی و سرکاری فرائض میں شامل ہے۔ اطلاعات ہیں کہ جنرل ایجوکیشن بورڈ ز سربراہان نے اس حوالے سے غور و فکر شروع بھی کر دیا ہے مشاورت بھی ہو رہی ہے اور ممکنہ تجاویز کی تیاری بھی شروع ہو چکی ہے۔

فنی تعلیم بورڈ کے امتحانات بھی اتنی ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ایک تو اس بورڈ کا دائرہ کا ر بہت وسیع و عریض ہے اور امیدواروں کی تعداد زیادہ ہونے کے علاوہ، امتحانات متنوع بھی ہیں۔ بورڈ کو تین درجن سے زائد ٹکنالوجیز کے امیدواروں سے امتحان لینا ہوتا ہے اتنی اقسام کے مضامین کے پیپرز کی تیاری، ممتحن کی تلاش اور پھر رزلٹ کی تیاری آسان کام نہیں ہے۔ جغرافیائی وسعت بھی بہت بڑا مسئلہ ہے ذراغور کریں لاہور شہر سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں سمیت، پنجاب کے دور دراز علاقوں تک بیک وقت امتحانی پرچوں اور جوابی پرچوں کی فراہمی ہی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے پھر امتحانا ت کو سمیٹنابھی کارِ دارد ہے ہمارے دوست فنی بورڈ کے چیئرمین ناظر خان نیازی ”مین آف کرائسس“ہیں ٹیوٹاپنجاب میں تعینا تیوں کے دوران ان کی انتظامی صلاحیتں کھل کر سامنے آتی رہی ہیں وہ سوچ و بچار کے ساتھ ساتھ، فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ فیصلوں پر عمل درآمد کرانے میں بھی ید طولیٰ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے۔حال ہی میں انہوں نے ٹیوٹا اداروں کو اپنے طالبعلموں کی بورڈ کے ساتھ رجسٹریشن کے عمل کو 8جون 2020 تک مکمل کرنے کی چھٹی لکھ دی ہے امتحان کیلئے طلبہ کی رجسٹریشن بھی ایک طویل اور اہم عمل ہے جس کا آغاز ایک بر وقت قدم ہے۔

اس کے بعد فنی تعلیمی و تربیتی اداروں کے طلبہ و طالبات کے امتحان لینا ممکن ہوسکے گا ویسے اس میں پیچیدگیاں بھی ہیں کیونکہ فنی تعلیمی بورڈ، جنرل ایجو کیشن کے اداروں میں اپنے امتحانی مراکز قائم کرتا ہے عمومی حالات میں میٹرک کے بعد انٹر کے امتحانات ہوتے ہیں اور ان کے اختتام کے ساتھ ہی جب سکول و کالجزکی عمارات فارغ ہوتی ہیں تواس کے بعد ہی فنی تعلیمی بورڈ اپنے امتحانات منعقد کرا سکے گا۔ گویا سیکنڈری بورڈ ز کے امتحانات بارے فیصلے، فنی تعلیمی بورڈ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی مکمل یقین ہے کہ نیازی صاحب حکمت اورتدبر کے ساتھ ایسے فیصلے کرنے اور انہیں نا فذ العمل کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں جن کا تعلق فنی تعلیمی بورڈ سے وابستہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ و طالبات کے حال اور مسقبل کے ساتھ ہے جی ہاں ناظر خان نیازی ایک باصلاحیت و باتدبیر حکمت کا ر ہیں وہ اس بحران سے بھی نمٹ لیں گے۔ انشاء اللہ

مزید :

رائے -کالم -